سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام
سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام
قسط نمبر 3
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کی تخلیق
اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا کہ تم نے زمین سے مٹی کو الگ کیا ہے۔ اب تم ہی اسے زمین سے ملانا۔ ( یعنی انسان کی روح قبض کرنا۔) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس مٹی کو وہاں رکھو جہاں آج خانہ کعبہ ہے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس مٹی کو مختلف پانیوں میں گوندھ کر گارا بنائیں ۔ا س مٹی پر چالیس دن تک بارش ہوئی ۔ انتالیس دن تورنج اور غم کا پانی برسا۔ اور ایک دن خوشی کا پانی برسا۔ اسی لئے انسان کو رنج و غم زیادہ رہتے ہیں۔ اور خوشی کم رہتی ہے پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس گارے کو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وادی نعمان میں عرفات پہاڑ کے پاس میدان ِ عرفات میں رکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق خاص اپنے دست قدرت سے اس گارے سے حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا۔ ۔پھر اس کو مختلف ہواﺅں سے اتنا خشک کیا کہ کھنکھنانے لگا۔جب وہ سوکھ گیا تو وہ ایسا ہوگیا جیسا ہمارا پانی پینے کا مٹکا ہوتا ہے۔ مٹکے پر ہم ہلکے سے کسی چیز کو مارتے ہیں تو وہ ٹھن ٹھن بجتا ہے۔ ایسے ہی حضرت آدم علیہ السلام کا قالب تھا۔
فرشتوں کو حیرانی اور ابلیس کی حقارت
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا اور ان کی شکل و صورت بنائی تو فرشتے اس کو دیکھنے آئے۔ فرشتوں نے کبھی ایسی صورت نہیں دیکھی تھی ۔ وہ تعجب سے اس کے آس پاس پھرتے تھے اور اس کی خوب صورتی کو دیکھ کر حیران ہو تے تھے۔ وہ نیک جن یعنی ابلیس شیطان بھی ساتھ میں تھا۔ اس نے فرشتوں کے تعجب اور حیرانی کو دیکھا تو اس کے گرد پھر کر، ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں منہ سے داخل ہو کر پشت سے نکلا اور بولا اے فرشتو، تم اسی کا تعجب کرتے ہو ۔ یہ تو اندر سے خالی جسم ہے۔ جس میں جگہ جگہ سوراخ ہیں۔ اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اگر بھوکا ہو تو گر پڑے اور اگر خوب سیر ہوجائے تو چل پھر نہ سکے۔ اس خالی قالب سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔ پھر بولا ہاں اس کے سینے کے بائیں جانب ایک بند کوٹھری ہے۔ یہ خبر نہیں کہ اس میں کیا ہے؟ شاید یہی وہ چیز ہو جس کی وجہ سے یہ زمین پر خلافت کا حقدار ہو گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ پھر ابلیس اس قالب کے منہ میں داخل ہوا اور پشت کے راستے سے نکلا اور کہنے لگا ۔ تیری کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور تیرے اندر سے آواز آتی ہے۔ اگر مجھے تجھ پر تصرّف دیا گیا تو میں ضرور تجھے ہلاک کر وں گا اور اگر تجھے مجھ پر تصرف دیا گیا اور زور دیا گیا تو میں تیری نافرمانی کروں گا۔
ابلیس کی نافرمانی
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں اس قالب میں روح ڈالنے والا ہوں۔ جب میں روح پھونک دوں اوریہ زندہ ہو جائے تو تم سجدے میں گر جانا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں روح پھونکی اور روح ناک کے راستے اندر داخل ہوئی تو سب سے پہلے ان کی آنکھ کھلی اور ان کی نظر عرش معلّیٰ پر پڑی۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول ا للہ ۔ ابھی باقی جسم میں جان نہیں آئی تھی بلکہ دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں مکمل جان آگئی تب تمام فرشتے سجدے میں گر گئے۔ لیکن وہ نیک جن سجدے میں نہیں گیا اور کھڑا ہی رہا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں (سے ) ہو گیا۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر34) اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور بھی کئی جگہوں پر ذکر فرمایا ہے ۔
ابلیس کا تکبر کرنا اور دھتکار ا جانا
اللہ تعالیٰ نے اس ( ابلیس سے) پوچھا ۔ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تو اس نے تکبر سے کہا۔ میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔ میں اس سے برتر ہوں ۔ اس لئے میں اسے سجدہ نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا۔ مردود شیطان نکل جا یہاں سے۔ تب اس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو اس کی وجہ سے مجھے نکالتا ہے۔ مجھے اتنی مہلت دے کہ میں ثابت کر سکوں کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ میں اسے بہکاﺅں گا۔ اسے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے ہر طرف سے بہکاﺅں گا۔ اور سیدھے راستے پر گھات لگا کر بیٹھوں گا۔ جب یہ انسان سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا تو میں اسے بہکا کر گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے قیامت تک مہلت دی۔ اس کے بعد جو تیرے بہکاﺅ ے میں آئے گا اور شرک کرے گا۔ میں تجھ سے اور ان انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ یہ سن کر ابلیس مردود چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایاہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ جب ابلیس شیطان نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دھتکارا اور مردود نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ اسے صفائی کا موقع دیا اور اس سے پوچھا کہ آخر تو نے ایسا کیوں کیا؟ جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلے میں تکبر اور گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو برتر اور حضرت آدم علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) حقیر بتایا تب اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکاردیا اور مردود قرار دیا۔ کیونکہ تکبر اور گھمنڈ کرنا اور کسی بھی رسول اور نبی کی بے ادبی کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا جرم ہے۔
ابلیس کی ہٹ دھرمی
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس ملعون شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس طرح اس نے گناہ کیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اس سے اس گناہ کے کرنے کی وجہ سے پوچھی تو ابلیس نے اس گناہ کا عذر بیان کیا۔ جس سے اس کا گھمنڈ اور تکبر ظاہر ہو گیا ۔ گویا اس نے پہلے تو گناہ کیا۔ پھر اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں اور گناہ میں مبتلا ہو گیا۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں۔ ابلیس نے جو بھی وجہ بتائی ہو سچ تو یہ ہے کہ وہ وجہ عذر گناہ بد تر گناہ کے مصداق ہے۔ ( یعنی گناہ کرنے کے بعد اسے صحیح ثابت کرنے کے لئے عذر پیش کرنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے) گویا وہ اطاعت سے اس لئے باز رہا کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے۔ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا ہوں۔ اور یہ مٹی سے بنا ہے۔ وہ ملعون عنصر کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس فضیلت کو بھول گیا تھا کہ مٹی والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پس اسی وجہ سے اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں فاسد قیاس سے کام لیا۔ اور سجدے سے رک گیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیا گیا۔ اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں خطا کی اور اپنے گناہ پر اڑ گیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ، سورہ الاعراف آیت نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت حسن بصری ( تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ ابلیس شیطان نے قیاس کیا۔ اور وہی سب سے پہلے قیاس کرنے والا ہے۔
ابلیس ملعون نے مہلت مانگی
اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد ابلیس ملعون نے اپنے گناہ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اس کی وجہ سے اس کا گھمنڈ اور تکبر سامنے آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا۔ جب ابلیس نے دیکھا کہ انسان ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی وجہ سے مجھے دھتکارا جا رہا ہے تو وہ انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اور اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ اس انسان کی وجہ سے آپ مجھے دھتکار رہے ہیں مجھے اتنی مہلت دیں کہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرسکوں کہ جو فضیلت آپ نے اسے عطا فرمائی ہے۔ یہ اس فضیلت کے قابل نہیں ہے۔ اور میں اسے بہکاﺅں گا۔ اور گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔
ابلیس شیطان اور اس کی اولادہمارے سب سے بڑے دشمن
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم ( علیہ السلام ) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی۔ کیا پھر تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی بُرا بدلہ ہے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر 50) للہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں بتایا کہ ابلیس شیطان اور اس کی اولاد ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ابلیس شیطان نے ہر انسان کے ساتھ اپنی اولاد میں سے ایک شیطان کو لگا دیا ہے۔ وہ شیطان مسلسل اس انسان کے اندر وسوسہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ دو انسان یا کئی انسان آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دوران گفتگو ہنسی مذاق بھی ہوتے رہتے ہیں اور انسان ہنسی مذاق کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ لیکن جب وہی انسان اکیلے میں بیٹھتا ہے تو اس کا شیطان اس کے اندر وسوسہ ڈالتا ہے اور اس ہنسی مذاق کی بات کو بار بار اتنے الگ الگ طریقوں سے انسان کے دماغ میں ابھارتا ہے کہ وہ انسان اس ہنسی مذاق کو اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے۔ اور شیطان اسے اتنی ہوا دیتا ہے کہ نتیجہ میں دونوں انسانوں میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔م اور رشتہ داری اور دوستی ، نفرت اور دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ شیطان اسی پر بس نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں انسانوں کے اندر مسلسل وسوسے پیدا کر کے اس نفرت اور دشمنی کو مزید گہری کرتا جاتا ہے۔ ہمارا شیطان مسلسل ہماری تاک میں رہتا ہے۔ ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ لیکن وہ ہر وقت ہم پر نظر رکھتا ہے۔ اگر ہم مسلسل گناہوں اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں تو وہ ہم پر تھوڑی بہت محنت کرتا ہے۔ اور کوشش کرتا ہے کہ ہم گناہوں اور برائیوں میں سے نکلنے نہ پائیں اور نیکیوں کی طرف نہ آنے پائیں۔ شدید محنت تو اسے اس وقت کرنی پڑتی ہے۔ جب ہم گناہوں اور برائیوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نکل کر نیکیوں اور بھلائیوں کو اپنا لیتے ہیں تب وہ شدید محنت کرتا ہے یہاں تک کہ ہماری نیکیوں اور بھلائیوں پر ہمارے اندر گھمنڈ پیدا کرتا ہے اور ہماری نیکیوں اور بھلائیوں کو ہمارے لئے وبال بنا دیتا ہے۔ اسی لئے ہمیں ہر وقت ہر لمحہ شیطان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کا زندہ ہونا
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی جو بے جان پڑا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے اندر روح پھونکی تو وہ روح ان کے سر کی جانب سے داخل ہوئی۔ اور وہ روح ان کے جسم کے جس حصے میں پہنچتی گئی وہ حصہ گوشت اور خون میں تبدیل ہوتا گیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب روح حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں داخل ہونے لگی تو اندر اندھیرا ہونے کی وجہ سے ٹھہر گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو رکھ دیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کا قالب جگمگا اٹھا۔ اور روح اندر داخل ہونے لگی۔ ( تفسیر عزیزی) اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب روح دھیرے دھیرے اندر داخل ہونے لگی۔ جب سر سے ہو کر ناک اور منہ تک آئی اور گردن تک پہنچی تو حضرت آدم علیہ السلام کو چھینک آئی۔ اور بے ساختہ آپ علیہ السلام نے ” الحمد للہ “ فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے الہام کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا۔ ”یر حمک اللہ “ یہی اب سنت ہے۔ جب کمر تک پہنچی تو انھوں نے اپنے جسم کو دیکھا ۔ جو انہیں بہت خوب صورت معلوم ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے اٹھنا چاہا۔ لیکن چونکہ ابھی نچلے دھڑ میں روح نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے وہ بے جان تھا اور اٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ کوشش کرتے دیکھ کر فرمایا۔ انسان بہت ہی جلد باز مخلوق ہے۔
سلام کرنے کا طریقہ
اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح سرایت ہونے کا عمل جاری تھا کہ فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کے سجدہ نہیں کرنے اور دھتکارے جانے کا واقعہ پیش آیا اور حضرت آدم علیہ السلام بھی اس سارے واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ ابلیس شیطان کے چلے جانے کے بعد بھی روح کا جسم میں سرایت کرنے کا عمل جاری رہا۔ جب روح پیروں یعنی نچلے دھڑ میں بھی سرایت کر چکی تو آپ علیہ السلام کا پور ا بدن حرکت کرنے لگا اور آپ علیہ السلام حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے اپنے ہاتھوں اور پیروں کو حرکت دے رہے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا۔ اُن فرشتوں کے پاس جاﺅ اور ان کو السلام علیکم کہو۔ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں کے پاس گئے اور سلام کیا تو فرشتوں نے جواب دیا۔ وعلیکم السلام ۔ پھر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فرشتوں نے کیا کہا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا۔ اے اللہ ، انھوں نے وعلیکم السلام کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ ہوگا۔
حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام بتائے
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام سکھلائے۔ اور فرشتوں سے تمام اشیاءکے نام دریافت فرمائے۔ تو فرشتوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ ان اشیاءکے نام بتاﺅ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے تمام اشیاءکے نام بتادیئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں نے کہا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ میں ظاہر اور پوشیدہ تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ اور اللہ تعالیٰ نے آدم( علیہ السلام )کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیااور فرمایا۔ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاﺅ۔ ان سب نے کہا اے اللہ تعالیٰ ، آپ کی ذات پاک ہے۔ ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے۔ جتنا آپ نے ہمیں سکھا رکھا ہے۔ پورے علم اور حکمت والے تو آپ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ( حضرت ) آدم ( علیہ السلام ) سے فرمایا۔ تم ان کے نام بتادو۔ جب انھوں نے ( تمام چیزوں کے ) نام بتادیئے تو ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ کیا میں نے تمہیں ( پہلے ہی) نہیں کہا تھا کہ زمین و آسمان کا غیب، میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے ۔ جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کی وجہ
سورہ البقرہ کی آیات نمبر31اور 33کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہاں سے اس بات کا اعلان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر بھی فضیلت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت جو آپ علیہ السلام کو پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہیں تھا۔ اور اس کا اجمالی بیان اس سے پہلے کی آیت میں گزرا ہے۔ اس کی مناسبت کی وجہ سے اس واقعہ کو (یعنی اشیاءکے نام بتانے کے واقعہ کو ) پہلے بیان فرمایا۔ اور فرشتوں کا سجدہ کرنا جو اس سے پہلے ہوا تھا۔ اسے بعد میں بیان فرمایا۔ تا کہ خلیفہ کے پیدا کرنے کی مصلحت اور حکمت ظاہر ہو جائے۔ اور یہ معلوم ہو جائے کہ یہ شرافت اور فضیلت حضرت آدم علیہ السلام کو اس لئے ملی کہ انہیں وہ علم ہے جس سے یہ فرشتے خالی ہیں۔ اس کے آگے لکھتے ہیں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام بتا دیئے۔ یعنی ان کی اولاد کے ناموں کے علاوہ سب جانوروں زمین، آسمان ، پہاڑ ، تَری، خشکی گھوڑے ، گدھے، برتن بھانڈے ، چرند ، فرشتے اور تارے وغیرہ تمام چھوٹی بڑی چیزوں کے نام بتا دیئے گئے۔ امام محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں کہ فرشتوں اور انسانوں کے نام سکھائے گئے۔ اس کے علاوہ صحیح قول یہ ہے کہ تمام چیزوں کے نام سکھائے گئے تھے۔ ذاتی نا م بھی، صفاتی نام بھی اور کاموں کے نام بھی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ گوز(انسان کے پاخانہ کے راستے سے نکلنے والی ہوا) تک کا نام بتایا گیا تھا۔
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں