سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام
سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام
قسط نمبر 2
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
فرشتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے بنایا ہے اور یہ لطیف جسم ہیں۔ انسانوں کی روحوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے نور سے بنایا ہے۔ پھر ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے زمین سے مٹی لے کر ہمارے جسموں کو بناتا ہے۔ اور اس میں ہماری روحوں کو ڈالتا ہے۔ جب تک ہم دنیا میں رہیں گے تب تک یہ جسم ہمارے ساتھ رہے گا اور جب ہماری موت یعنی دنیا میں رہنے کا وقت مکمل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ ہماری روح کو ہمارے جسم سے الگ کر دے گا۔ اور ہمار ا جسم بے جان ہو کر دنیا ہی میں رہ جائے گا۔ اور اسی مٹی میں دفن کر دیا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ زمین سے جو مٹی لیتا ہے اسے واپس کر دیتا ہے۔ اب فرشتوں کی طرف آتے ہیں۔ فرشتے لطیف جسم ہیں اور چونکہ ہماری روح مٹی کے جسم میں قید ہیں اس لئے ہم فرشتوں اور جناتوں کی آوازوں کو نہیں سن سکتے اور نہ ہی انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کو اس طرح بنایا ہے کہ ہم ایک مخصوص حد کے نیچے کی آواز نہیں سن سکتے اور فرشتوں اور جناتوں کی اور درختوں کی آواز اس حد کے نیچے ہے۔ مٹی کے جسم میں قید ہونے کی وجہ سے ہماری دیکھنے اور سننے کی طاقت محدود ہے۔ ایک مخصوص حد تک کی آواز ہمارا جسم برداشت کر سکتا ہے۔ اس کے اوپر کی آواز کو ہمارا جسم برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا نظا م درہم برہم ہو جائے گا۔ ہم بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہت زیادہ کپکپاہٹ کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارا دل پھٹ بھی سکتا ہے اور ہم موت کا شکار بھی ہو سکتےہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم کی حرکت محدود ہے۔ اور فرشتوں اور جناتوں کی حرکت لا محدود ہے۔
فرشتوں کے کاموں کی تقسیم
اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کے لئے زمین و آسمان اور پوری کائنات بنائی ہے۔ اور اس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری فرشتوں کو سونپی ہے۔ یعنی فرشتوں کو انسانوں کی خدمت پر مامور کر دیا ہے اور ان کے کام تقسیم کر دیئے ہیں۔ فرشتے بے شمار ہیں۔ اس زمین پر جتنے انسان رہتے ہیں اُن سے دس گناہ زیادہ کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔ ان کیڑے مکوڑوں سے دس گنا زیادہ سمندری جاندار رہتے ہیں۔ ان سمندری جانداروں سے دس گنا زیادہ جنات رہتے ہیں۔ اور جتنے جنات اس زمین پر رہتے ہیں ان سے دس گنا زیادہ فرشتے ہر وقت زمین پر موجود رہتے ہیں۔ اور جتنے فرشتے زمین پر رہتے ہیں۔ ان سے دس گنا زیادہ فرشتے پہلے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس سے دس گنا زیادہ دوسرے آسمان پر اور اس سے دس گنا زیادہ تیسرے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس طرح ساتویں آسمان تک فرشتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے فرشتے اللہ تعالیٰ کی ہر وقت تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔” وہ ( فرشتے ) رات دن اس کی (اللہ تعالیٰ کی ) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔ “( سورہ الانبیاءآیت نمبر20) بہت سے فرشتے ہواﺅں کو چلانے پر مقرر ہیں۔ بہت سے فرشتے بارش برسانے پر مقرر ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کی کئی ذمہ داریاں ہیں اور بے شمار فرشتے اُن کے ماتحت ہیں ۔ا سی طرح میکائیل علیہ السلام کے ماتحت بھی بے شمار فرشتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ان فرشتوں کو احکامات دیتے رہتے ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام صور لئے اللہ کے حکم کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ عزرائیل علیہ السلام ( ملک الموت) کا کام انسانوں کی روح نکالنا ہے اور ان کے ماتحت بھی بہت سے فرشتے ہیں۔ بہت سے فرشتے آسمانوں اور زمین کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” وہ (فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر6) سورہ النازعات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ اُن فرشتوں کی قسم ، جو سختی سے ( کافر کی جان ) کھینچتے ہیں۔ اور جو نرمی سے ( مومن کی جان کی گرہ ) کھولتے ہیں۔ اور جو ( زمین و آسمان میں ) سُرعت سے تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو (اللہ کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ) پوری طاقت اور قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اور جو کائنات کے نظام کے انتظام کی تدبیر کرتے ہیں۔ ( سورہ النازعات آیت نمبر1سے 5تک ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر مقرر فرمارکھا ہے۔
جنات کی پیدائش
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی روحوں کو اور فرشتوں کو نور سے پیدا فرمایا۔ اور جناتوں کو آگ سے پیدا فرمایا۔ سورہ الحجر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لَو والی آگ سے پیدا کیا۔ “ ( سورہ الحجر آیت نمبر27) مدارج النبوت میں ہے کہ اللہ تعالی نے زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر جو آگ پیدا کی تھی اس آگ میں نور بھی تھا اور ظلمت بھی۔ نور سے فرشتوں کو پیدا کیا اور ظلمت سے دیوؤں کو پیدا کیا اور خالص آگ سے جنات پیدا کئے۔ چونکہ فرشتوں کا مادہ تخلیق نور خالص تھا اس لئے وہ اللہ کی اطاعت میں لگ گئے، گناہوں سے دور رہے اور چونکہ شیاطین دھوئیں سے پیدا ہوۓ تھے اس لئے وہ بالطبع معاصی، کفر اور ناشکری میں مبتلا ہو گئے۔ جنات چونکہ آگ سے پیدا ہوئے تھے۔ آگ میں دونوں چیزیں تھیں نور بھی اور ظلمت بھی، اس لئے جنات میں سے بعض مسلمان ( ہدایت یافتہ ) رہے اور بعض کافر ( گمراہ ) بن گئے۔ بہرحال جنات کی تخلیق کے بعد جب ان کی نسل بڑھی تو حق تعالی نے ان کو اوامر و نواہی کا مکلف بنایا۔ جنات ایک عرصہ تک اللہ کی اطاعت میں مصروف رہے، بعد میں کفر و ناسپاسی میں پھنس گئے۔ اللہ تعالی ان کی ہدایت کے لئے بشیر و نذیر بھیجتا رہا مگر وہ اپنی فطرت سے مجبور تھے۔ آخرکار تعالی نے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت ان کی سرکوبی کے لئے آسمان سے بھیجی۔ فرشتوں کی فوج نے اللہ کے حکم جناتوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ بقیہ پہاڑوں جزیروں اور غیر آباد مقامات میں متفرق ہو کر جان بچا سکے۔ ناسمجھ اور کمسن جنات قید کر لئے گئے۔
ابلیس شیطان
فرشتے ان ناسمجھ قیدیوں کو اپنے ہمراہ آسمان پر لے گئے۔ ان قیدیوں میں عزازیل بھی تھا جو فرشتوں کی زیر تربیت روز بروز ترقی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ ابلیس کا نام سریانی زبان میں عزازیل اور عربی زبان میں حارث ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے۔ فرشتوں کی صحبت سے عزازیل کو اس قدر عبادت کا ذوق و شوق پیدا ہوا کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ازراہ شفقت و مکرمت عزازیل کے بارے میں سفارش کرنی پڑی۔ عزازیل نے بھی عبادت کرنے میں حد کر دی۔ شب و روز عبادت میں مشغول رہتا۔ ترقی کرتے کرتے دوسرے آسمان پر اور وہاں سے تیسرے آسمان پر اسی طرح ساتویں آسمان تک جاپہنچا۔ اس کے بعد جنت کے داروغہ رضوان کی سفارش پر عزازیل کو جنت میں رہنے کی اجازت مل گئی۔ عزازیل مسند تعلیم و موظعت پر بیٹھ کر معلم الملکوت بن گیا۔ پھر تو یہ عالم ہوا کہ عرش اعظم کے پایہ کے نیچے اس کے لئے یاقوت کا منبر بچایا جانے لگا۔ سر پر نور کا پھریرا فضا میں لہراتا تھا۔ جنات کے قتل عام کے ایک عرصہ بعد جب جنات زمین پر دوبارہ آباد ہوۓ اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے طریقہ کو چھوڑ کر کفر و عصیاں میں مبتلا ہوۓ تو عزازیل نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مجھے فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ جنات کی ہدایت کے لئے زمین پر بھیج دیا جاۓ۔ حق تعالی نے اجازت مرحمت فرما دی۔ عزازیل نے جنات کی ہدایت کے لئے قاصد بھیجے۔ جنات ان کو ٹھکانے لگاتے رہے۔ ایک قاصد بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکا۔ جس نے عزازیل کو سارا قصہ سنایا۔ اس پر عزازیل نے اللہ تعالی سے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت کی امداد کا مطالبہ کیا۔ فرشتوں کا ایک بڑا بھاری لشکر عزازیل کی سرکردگی میں جنات کی سرکوبی کے لئے آگیا۔ اس مرتبہ فرشتوں نے تمام جنات کو ٹھکانے لگا دیا۔ بہت ہی تھوڑے جنات بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنات کے ناپاک وجود سے زمین کی پاکی کے بعد اللہ تعالی نے ابلیس کو زمین کی خلافت عطا فرمائی۔ عزازیل اس عظیم الشان کارنامہ پر مغرور ہو کر دل میں کہنے لگا کہ اگر خدا تعالی نے زمین کے انتظام وانصرام کے لئے کسی اور شخص کو نامزد کیا تو میں اس کو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ اسی دوران میں ایک روز فرشتوں کی نظر لوح محفوظ کی ایک تحریر پر پڑی۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ میرا ایک مقرب بندہ عنقریب خسارے اور ہمیشہ کی لعنت میں گرفتار ہونے والا ہے۔ فرشتوں کو یہ تحریر پڑھ کر فکر ہوئی کہ یہ جانے تحریر کس کے متعلق ہے۔ ابلیس سے ذکر کیا تو اس نے کہا یہ تحریر ہمارے تمہارے متعلق نہیں ہے۔ میں تم سے بہت عرصہ پہلے یہ تحریر پڑھ چکا ہوں۔ عزازیل نے فرشتوں کے متعلق دعا کی: اے اللہ ان فرشتوں کو اس ہمیشہ کی لعنت اور خسارے سے بچانا اور وہ اپنے کو بھول گیا۔ شیطان کے دماغ میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ جو مرتبہ و اعزاز اس وقت مجھے حاصل ہے وہ مجھ سے واپس نہ لیا جاۓ گا۔
ابلیس کے اندر تکبّر ( گھمنڈ) پیدا ہو گیا
اللہ تعالیٰ نے ابلیس شیطان کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر50) وہ نیک جن فرشتوں کے ساتھ رہنے لگا۔ کچھ عرصہ فرشتوں کے ساتھ رہنے کے بعد اس کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو گیا کہ میں اتنا برتر ہوں کہ فرشتوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ جب اس میں یہ گھمنڈ پید ا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے عرشِ معلّیٰ پر لکھ دیا۔ ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ ترجمہ ۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے ۔ جب اس جن نے یہ دیکھا توا للہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ یہ شیطان مردود کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا۔ پھر وہ جن برسوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں پڑا رہا اور اس شیطان مردود پر لعنت بھیجتا رہا۔ ابلیس جنت کے خازنوں میں سے تھا۔ اور پہلے آسمان کے فرشتوں کا سردار تھا۔ پہلے آسمان اور زمین پر اس کی سلطنت تھی۔ علم اور عبادت میں اس کی کوشش سب فرشتوں سے زیادہ تھی۔ ( پہلے ) آسمان سے زمین تک کے معاملات کا یہ محافظ اور منتظم تھا۔ ان امور کی وجہ سے یہ اپنا شرف اور مرتبہ سب سے زیادہ سمجھتا تھا۔ اس زعم نے اس کو کفر ( یعنی انکار) پر آمادہ کیا۔ سو ،اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان ِ رجیم اور دھتکارا ہوا قرار دیا۔
فرشتوں کو خلیفہ کی اطلاع دینا
جب زمین انسانوں کے رہنے کے قابل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں سے فرمایا۔ میں زمین پر اپنا خلیفہ بھیجنے والا ہوں۔ تب فرشتوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، آپ کسی کوخلیفہ بنائیں گے تو وہ بھی جناتوں کی طرح زمیں میں فساد پھیلائے گا۔ یعنی آپس میں لڑیں گے اور ہم تو آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ تسبیح کرتے ہیں اور حمد کرتے رہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ ایک کارخانے دار ہے۔ اس کے کارخانے میں کاریگر کام کر رہے ہیں۔ اب وہ کارخانے دار اپنے کاریگروں سے کہتا ہے ۔ میں اس کارخانے کا ایک مینجر مقرر کرنے والا ہوں ۔ تو کاریگر کہتے ہیں کہ آپ مینجر رکھیں گے تو وہ اپنی مرضی سے کارخانہ چلوائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ کارخانے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے نقصان ہو جائے۔ جب کہ ہم تو اچھے طریقے سے صحیح کام کر رہے ہیں۔ تو کارخانے دار کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اس میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں۔ جو تم نہیں جانتے۔ یعنی اس مینجر کارخانے کا بہت سارا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔
فرشتوں کا اندیشہ
اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کے بارے میں فرشتوں کو اس لئے بتایا کہ اس خلیفہ کے لئے تمام انتظامات فرشتوں کو ہی کرنا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے مشورہ نہیں فرما رہے ہیں ۔ بلکہ انہیں اطلاع دے رہے ہیں اور حکم بھی دے رہے ہیں کہ میں جسے خلیفہ بناﺅں گا تمہیں اس کی خدمت اور مدد کرنا ہو گی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی آسانی کے لئے انتظامات بھی کرنے ہوں گے۔ کوئی فرشتہ ہوا چلانے پر مامور ہو گا۔ کوئی بارش برسانے پر مامور ہو گا۔ اور کوئی اس ( انبیائے کرام ) تک میرا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری نبھائے گا۔ کوئی ان کی روح قبض کرنے کا کام کرے گا۔ اور کوئی ان کے اعمال لکھنے کا کام کرے گا۔ غرض یہ کہ فرشتوں کو اس خلیفہ کا ہر طرح سے تعاون اور نگرانی کرنا ہوگی۔ اور زمین کے تمام انتظامات سنبھالنے ہوں گے۔ اسی لئے آگے چل کر فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ اور فرشتے بھی جانتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا تو اسے کچھ اختیارات بھی عطا فرمائے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ خلیفہ ان اختیارات کا غلط استعمال کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اسی اندیشے کا اظہار فرشتوں نے کیا تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کے لئے مٹی لانا
اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر جاﺅ اور مٹی لے کر آﺅ۔ جبرئیل علیہ السلام زمین پر پہنچے تو زمین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس مٹی سے انسان بنائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ میں اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں کہ وہ میرے کسی حصے کو جہنم میں ڈالے۔ یہ سن کر جبرئیل علیہ السلام واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میکائل علیہ السلام کو بھیجا۔ وہ بھی آئے اور زمین کی فریاد سن کر واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا ۔ جب زمین نے ان سے فریاد کی تو انھوں نے کہا۔ میں اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اور الگ الگ جگہوں سے سفید ، کالی، سرخ اور کئی طرح کی مٹی لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی روح قبض کرنے ( جان نکالنے) کا کام سونپ دیا۔ اور ” ملک الموت “ کا خطاب دیا۔
آدم نام کیوں رکھا گیا
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ملک الموت نے زمین کے اوپری حصے سے مٹی لی تھی۔ اوپری حصہ کو ” ادیم “کہا جاتا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کا نام ” آدم “ رکھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنانے کے لئے ” ادیم ارض“ ( زمین کے اوپری حصہ ) سے تلخ اور شیریں مٹی لی جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنایا۔ اس لئے ان کا نام آدم رکھا گیا ہے کہ وہ زمین کے ” ادیم “ اوپر والے حصے سے بنائے گئے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو ادیم ارض سے بنایا گیا ہے جس میں عمدہ اور غیر عمدہ ہر قسم کی مٹی شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تم اُن کی اولاد میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ دیکھتے ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹھی بھر مٹی سے پید ا فرمایا۔ جس کو تمام زمین سے لیا تھا۔ پس اولادِ آدم زمین کی اسی مٹی کے مطابق پید اہوئی ہے۔ ان میں کچھ لوگ سرخ رنگ کے ہیں۔ کچھ سیاہ فام یعنی کالے رنگ کے ہیں ۔ کچھ لوگ سفید رنگ کے ہیں اور کچھ لوگ درمیانے یعنی سانولے رنگ ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ نرم مزاج ہیں ۔ بعض سخت مزاج ہیں بعض لوگ خوش اخلاق ہیں اور بعض لوگ بد اخلاق ہیں۔
بااقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں