پیر، 3 اپریل، 2023

حضرت آدم علیہ السلام 1 Story of Adam AS 1

 سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1


زمین و آسمان کی تخلیق

یہ بات ہرکوئی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے والد محترم ہیں اس لئے آپ علیہ السلام سے ہی ہم سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام شروع کررہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں بتانے سے پہلے ہم آپ کو زمین، آسمان ، فرشتوں، جناتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق کے بارے میں بتائیں گے تا کہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ” ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے کہو ۔ تم کیسے اس اللہ کے ساتھ کفر کرسکتے ہو؟ جس نے دو دن میں زمین کو بنایا اور تم اس کے شریک بناتے ہو۔ وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں برکت رکھی۔ اور زمین میں رہنے والے جانداروں کی غذا بھی چار دنوں میں مقدر کی۔ جو ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ہے۔ پھر آسمان کی طرف قصد کیا۔جب کہ اس وقت وہ دھواں تھا اور اسے آسمان بنایا، پھر آسمان و زمین سے فرمایا۔ تم دونوں خوشی سے یا نا خوشی سے حاضر ہو (حکم کی تعمیل کرو)۔ اُن دونوں نے کہا۔ ہم خوشی سے حاضر ہوئے۔ پھر دو دنوں میں سات آسمان بنا دیئے۔ اور ہر آسمان میں اس کے موافق حکم بھیجا اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں ( ستاروں) سے مزین کیا۔ اور اس کی حفاظت کی۔ یہ بہت بڑی ذات اور بڑے علم والے کا مقرر کی مقرر کی ہوئی تدبیر ہے۔ “( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر9سے 12تک) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ترجمہ۔ ”وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ۔پھر آسمان کی طرف قصد ( توجہ) کیا۔ اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا۔اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر29) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پہلے زمین بنائی پھر آسمان بنائے۔ ان آیات میں اور ان کے علاؤہ قرآن پاک میں کئی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔اس سلسلے میں بہت سی احادیث بھی ہیں لیکن یہاں ہم صرف ایک حدیث پیش کریں تاکہ ویڈیو زیادہ طویل نہ ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی (زمین ) کو پیدا فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو گاڑا۔ پیر کے دن اس پر درختوں کو پیدا فرمایا۔ منگل کے دن اس میں مکروہ چیزوں کو پید ا فرمایا۔ بدھ کے دن اس پر نور کو پیدا فرمایا۔ پھر جمعرات کو زمین میں چوپائے پھیلائے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پید ا فرمایا۔ “

ایک دن ایک ہزار سال

اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جو اوپر ذکر ہوئے ہیں ۔ ان میں جامع طور سے تمام تفصیل آگئی ہے۔ اب ہم ان روشنی میں ذرا تفصیل سے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا کہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پید ا فرمایا۔ “ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ایک بات سمجھ لیں کہ ہماری زمین پر جو دن اور رات ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زمین تک ہی محدود ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں ۔ وہ ایک دن ہمارے یہاں کے چوبیس24گھنٹوں کے برابر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ایک دن ہماری زمین کے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

ترجمہ، اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے ۔( سورہ الحج آیت نمبر 47) ۔ اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ قرآن پاک اور احادیث میں ذکر کیا گیا ایک دن ہزاروں سال پر محیط ہوتا ہے۔ اس سے زمین وآسمان کی تخلیق سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

آگ کا گولہ

سائنسدانوں کا زمین کی تخلیق کے بارے میں دو نظریے ہیں۔ پہلا یہ کہ زمین سورج کا مادہ تھی اور اس سے الگ ہوکر وجود میں آئی اور دوسرا نظریہ یہ کہ سورج کے اطراف گردش کرتے مادے زمین کی تخلیق ہوئی اللہ تعالیٰ نے سورج میں کوئی بہت بڑا سیارہ ٹکرایا تھا یا کسی اور طرح سے زمین کو سورج سے الگ کیا تھا ۔ یا پھر زمین کو اور سورج کو الگ الگ وجود میں لایا تھا۔ اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ جب زمین سورج سے الگ ہوئی تو وہ پوری لاواتھی۔ اور لاوے کا یہ مادّہ سورج کی کششِ ثقل کی وجہ سے اس کے اطراف گردش کرنے لگا۔ اور دھیرے دھیرے گولائی اختیار کرنے لگا۔ کیوں کہ خلاءمیں کوئی بھی مادہ گولائی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح زمین ایک آگ کا گولہ بن گئی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورج گیسوں اور دھاتوں کے بڑے بڑے پہاڑوں کا مجموعہ ہے۔ اور اس میں ہائیڈروجن گیس سب سے زیادہ ہے۔ جو مسلسل جل رہی ہے اور ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے اور یہ پورا جلتا ہوا مادّہ لاوا کہلاتا ہے۔ زمین جب سورج سے الگ ہوئی تو ہزاروں سال میں لاوے نے گولائی اختیار کر لی اور ہزاروں سال میں خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے اس لاوے کی اوپری سطح پر سخت پرت جمنے لگی۔ اب زمین پر ایک سخت پرت جم چکی تھی اور اس کے اندر لاوا تھا۔ اور اس لاوے کے اندر بیچوں بیچ میں مخرج ( آئرن اور نکل کا مجموعہ ) تھا۔ یہ سب ہزاروں سال میں ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہے۔ اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پیدا فرمایا۔“

زمین میں پہاڑوں کا گاڑنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات آیت نمبر32 میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ “ اور سورہ الغاشیہ آیت نمبر19 فرمایا۔ ترجمہ ” اور یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ پہاڑ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النباءآیت نمبر7 فرمایا۔ ترجمہ ” اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔ “ ان تین آیات کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی آیات میں پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن ہم ان تین آیات پر ہی اکتفا کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو میخیں فرمایاہے۔ خیمہ لگانے کے لئے زمین میں میخ ٹھونکتے ہیں اور اس میخ کو تین حصہ سے زیادہ زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے۔ اب سنیچر کے دن زمین وجود میں آگئی۔ اس کے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا۔ “ ماہرین فلکیات کی تحقیقات کے مطابق جب سورج سے الگ ہونےکے بعد ہزاروں سال میں زمین کی اوپری سطح خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے سخت ہو گئی لیکن وہ اتنی سخت نہیں ہوئی تھی کہ لاوا کو اوپر آنے سے روک سکے۔ اسی لئے اندر کا لاوا کہیں سے بھی اس پرت یا اوپری سطح کو پھاڑ کر باہر آجاتا تھا۔ اور یہ پرت یا سطح ہر وقت لرزتی رہتی تھی۔اس وقت ہماری زمین اور مریخ کے درمیان ایک اور سیارہ گردش کررہا تھا۔ پھر وہ سیارہ پوری شدت سے ہماری زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ سائنس کی تحقیق ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سیارہ زمین سے ٹکرایا تھا۔ ایک بہت زبر دست دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کے جھٹکے سے زمین بیضوی یعنی انڈہ نما ہو گئی اور اپنے محور پر گھومنے لگی۔ اور شمالی یعنی اوپری حصہ جھک گیا اور پوری زمین ہلکی سی ترچھی ہو گئی۔ اس زبردست ٹکراﺅ اور دھماکے کا اثر اس سیارے پر بھی پڑا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور اس کا ملبہ زمین کے اطراف پھیل گیا۔ زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے وہ ملبہ خلاءمیں نہیں جا سکا اور زمین کے اطراف گردش کرنے لگا۔ یہ ملبہ دھول گرد و غبار، مٹی اور بڑے بڑے پتھر کے پہاڑوں اور برف کے پہاڑوں کی شکل میں تھا۔ اس ملبے نے پوری طرح سے زمین کو ڈھک لیا۔ یہ ملبہ اتنا موٹا اور دبیز تھا کہ سورج کی روشنی زمین پر نہیں پہنچ پا رہی تھی اور زمین پر مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے زمین کی کشش ثقل کو اتنا بڑھا دیا کہ زمین نے اپنے اطراف گردش کرتے ہوئے ملبے کو اپنے اندر کھینچنا شروع کر دیا اور بڑے بڑے پہاڑ جو زمین کے اطراف گردش کر رہے تھے وہ اس کی اوپری سطح کی پرت میں آکر دھنسنے لگے۔ یعنی گڑنے لگے۔ اُن پہاڑوں کا تین حصہ زمین کے اندر دھنستا گیا اور صرف ایک حصہ سطح کے اوپر رہ گیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا۔ “ پہاڑوں کے زمین میں گڑنے کا سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دھول اور مٹی بھی زمین پر آکر جمتی رہی۔ اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النحل آیت نمبر15 میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تا کہ زمین تمہیں ہلا نہ دے۔ 

چاند کی تخلیق

زمین پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے اندر کھینچتی رہی اور ہزاروں سالوں تک کھینچتی رہی۔ ان میں برف کے بھی بہت بڑے بڑے پہاڑ تھے جن کی وجہ سے زمین پر سمندر وجود میں آیا۔ جب پوری زمین پہاڑوں ، مٹی، پانی اور گردو غبار سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی کشش ثقل کو نارمل کر دیا اور زمین نے پہاڑوں کو اپنی طرف کھینچنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ اس کے باوجود ابھی بھی بہت سارا ملبہ زمین کے اطراف گردش کر رہا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس ملبے کو آپس میں جُڑنے کا حکم دیا۔ تو وہ ملبہ دھیرے دھیرے جڑنے لگا اور ہزاروں سال میں وہ ملبہ پورے طور سے آپس میں جڑ گیا۔ یعنی چپک گیا۔ ساتھ ہی اس کی زمین کے اطراف گردش جاری رہی۔ جو آج بھی جاری ہے۔ یہ آپس میں چپک جانے والا مادہ یا ملبہ ،چاند ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے چاند کی تخلیق فرمائی۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے زمین کی محوری گردش شروع ہو گئی اور جب وہ ملبہ چاند کی شکل اختیار کر گیا تو زمین کی فضاءصاف ہو گئی اور اس پر سورج کی روشنی پڑنے لگی اور زمین پر دن اور رات ہونے لگے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اشارہ فرمایا ہے۔ ترجمہ، ” وہ اللہ ہے، جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پید اکیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیرتے پھرتے ہیں۔ “

زمین پر پانی اور زندگی کی تخلیق

اللہ تعالیٰ جب چاند کی تخلیق فرما رہا تھا اسی دوران اس نے زمین پر پانی کو پیدا فرمایا اور اس نے پوری زمین کو ڈھک لیا اور ہر طرف سمندر تھا یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے۔ مختصر یوں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر سے کچھ حصہ پر سے پانی ہٹایا اور زیادہ تر حصہ کو سمندر رہنے دیا۔ آج بھی ہماری زمین پر تین حصہ سمندر ہے اور صرف ایک حصہ خشک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پر درختوں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور جانوروں کو پیدا فرما کر پھیلا دیا۔ جیسا کہ اوپر صحیح مسلم کی حدیث میں ذکر کر چکے ہیں۔  

آسمانوں کی تخلیق

اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمانوں کو بنانے کا ارادہ فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے جب کہ اس سے پہلے وہ آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس آیت ترجمہ ” پھر وہ اللہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھوں تھا۔ “ ( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر11) کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ دھواں پانی کے سانس لینے کی وجہ سے ظاہر ہوا تھا۔ اس دھویں کو پہلے اکیلے آسمان کی شکل میں بنایا تھا پھر اس کی پرتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سات آسمانوں کی موجودہ شکل میں ڈھالا۔ اور یہ عمل جمعرات اورجمعہ کے دن ہوا۔ اور جمعہ کا نام اس لئے پڑا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مکمل بنا کر جمع فرمایا۔ 

آسمان کے فاصلے

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے۔ اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ رکھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا۔ ” تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” یہ بادل ہے۔ یہ زمین کو سیراب کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس شہر کی طرف لے جا رہا ہے جہاں کے باشندے اس کی ( اللہ کی ) عبادت نہیں کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں۔“ پھر دریافت فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر ایک رُکی ہوئی موج اور محفوظ چھت ہے۔ تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر آسمان ہے۔ تم جانتے ہو اس آسمان کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتےہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ان دونوں آسمانوں کے درمیان پانچ سو سالوں کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ “ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمانوں کے بارے میں بتایا۔ اور یہ بتایا کہ ہر آسمان کا درمیانی فاصلہ پانچ سو 500برسوں کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” کیا تم جانتے ہو کہ ساتوں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ “ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ساتویں آسمان کے اوپر عرش ہے۔ اور ان دونوں کا درمیانی فاصلہ بھی پانچ سو سالوں کی مسافت کے برابر ہے۔ 

.....باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں