اتوار، 26 مارچ، 2023

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 14


 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 14

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره الحجر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی ایک آیت پارہ نمبر 13 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں کافر آرزو کریں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے تو کافروں کو دنیا میں اُن کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ دنیا کے عیش و آرام میں مگن رہیں اور اللہ تعالی نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا تو اس کے مقررہ وقت پر کیا اور کا فر رسول اللہ ﷺ کو ( نعوذ باللہ ) مجنوں کہتے ہیں اور فرشتوں کے اترنے کی مانگ کرتے ہیں۔ اگر فرشتے آ جاتے تو انھیں مہلت ہی نہیں ملتی اور یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور اللہ تعالی ہی اس کی حفاظت کرے گا اور جتنے بھی رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اگر ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں اور یہ صبح و شام چڑھیں اتریں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اسے جادو کہیں گے۔

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ کائنات بنائی ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ اللہ تعالی نے بتایا کہ میں نے آسمان کو ستاروں سے سجایا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا اور زمین پھیلائی اور اس میں ہر چیز اُگائی۔ جنھیں تم کھاتے ہو اور ان سے دوسرے فائدے اٹھاتے ہو اور ہوائیں بھیجیں، بادلوں کو بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تم پیتے ہو اور اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہےاور اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہےاور اللہ تعالیٰ آگے بڑھنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کیچڑ سے بنایا اور جنات کو اس سے پہلے بغیر دھویں والی آگ سے بنایا اور جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی تو اللہ تعالی کے حکم سے تمام فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا اور شیطان نے نہیں کیا ۔ اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے تو میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا تو اس نے کہا کہ اس انسان کی وجہ سے تو مجھے دھتکارتا ہے تو میں اسے گمراہ کروں گا اور جہنم کی طرف لے جاؤں گا لیکن نیک بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو بھی تیری بات مانے گا تو میں جہنم کو تجھ سے اور اُس سے بھر دوں گا اور جہنم کے سات دروازے ہیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جنتی لوگوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی اور بتایا کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ فرشتے نوجوان لڑکوں کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس پہنچے اور آپ علیہ السلام سے کہا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پھر آپ علیہ السلام کی قوم پر ایسا عذاب آیا کہ نیچے کا حصہ اوپر اور بستی کے اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور پتھروں کی بارش کی گئی اور یہ بستی بڑے راستے پر ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حجر والوں پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سات آیتیں (سورہ الفاتحہ ) عطا فرمائی ہے جو نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہے تو تم کو کافروں کو نظر انداز کر دو اور مسلمانوں پر اپنی نظر کرم رکھو اور جن لوگوں (اہل کتاب) نے اللہ تعالیٰ کے کلام ( یعنی توریت اور انجیل ) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا تو تم اپنے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ 

(سورہ حجر مکمل ہوئی )

سورة النحل 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اس نے انسان کو بنایا جو اللہ تعالی کے شریک بناتا ہے اور کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے فائدے کے لئے جانوروں اور مویشیوں کو بنایا ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے لئے بارش برساتا ہے۔ اس نے درخت اُگائے۔ اناج اگائے اور ہر قسم کے پھل اگائے اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو بنایا اور ندیاں ، دریا اور سمندر بہائے تا کہ انسان اس میں سے گوشت کھائے ۔ یہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے بنائے اور ایسی نعمتیں عطا فرمائیں کہ انسان ان نعمتوں کو گن نہیں سکتا۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور جن کو وہ اللہ تعالٰی کے سوا معبود بناتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ خود بنائے گئے ہیں اور انھیں یہ معلوم نہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ 

رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے اعمال کے بارے میں بتایا اور یہ بتایا کہ جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے تیار رہنے کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی ملے گی اور جب فرشتے مؤمنوں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کرتے ہیں اور جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

الله رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم دوسروں کو نہ پوجتے نہ ہمارے باپ دادا، تو ایسی ہی بے تکی بات اُن سے پہلے کے کافروں نے بھی کی تھی اور رسولوں کا کام تو صرف پیغام پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالی نے ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں۔ اسلام کی دعوت دی اور شیطان سے بچنے کی ہدایت کی تو کچھ نے اسلام قبول کیا اور اکثر گمراہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے اور کافر جھوٹے ہیں۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا ہے ۔ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ اب اس کے بعد جو کفر کرے گا اس کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ انسان غور کرے کہ اس کی پرچھا ئیں دائیں اور بائیں سجدہ کرتی ہے اور اس کے علاوہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے۔ سب اللہ تعالی کو سجدے کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں پھر بھی کفر کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی ( نعوذ باللہ) بیٹیاں بناتے ہیں جب کہ اللہ تعالی ان سب سے پاک ہے اور جب کافروں کو بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اُن کے منہ غصہ سے کالے ہو جاتے ہیں اور لوگوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور اُن کا بس چلے تو بیٹی کو زندہ دفن کر دیں۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اگر اللہ تعالی لوگوں کے اعمال پر پکڑ کرنا شروع کر دے تو اس زمین پر بسنے والا کوئی بھی جاندار نہیں بچ سکے گا لیکن اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت تک ہر ایک کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کا وقت پورا ہو گا تو نہ ایک لمحہ آگے ہوگا نہ پیچھے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ قرآن پاک مؤمنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم چوپایوں کے پیٹ میں گوبر اور خون کے درمیان سے بہترین دودھ نکالتے ہیں اور کھجور اور انگور اور تمہارے لئے بہترین رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو الہام کیا تو وہ بہترین شہد بناتی ہے جس سے تم لوگوں کو طاقت اور شفا ملتی ہے۔ عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں۔

رکوع نمبر :16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بہت سوں کو رزق ( مال و دولت ) زیادہ عطا فرمایا تو کیا وہ اپنا مال و دولت دے کر اپنے غلاموں کو اپنے برابر کھڑا کرنا پسند کریں گے؟ نہیں...! ، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے شریک کیوں بناتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عورتیں ، بیٹے پوتے اور نواسے عطا فرمائے اور بہترین پاک رزق عطا فرمایا۔ پھر کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو۔ اس کے بعد دو مثالوں کے ذریعے بتایا کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے۔ 

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا اور کان اور ناک اور دل عطا فرمائے اور پرندوں کو دیکھو کہ آسمان کی فضا میں اڑتے پھرتے ہیں اور تمہیں رہنے کے لئے گھر عطا فرمائے اور جانوروں کی کھال سے خیمے بنانا سکھائے اور اون اور ببیری ( یعنی اونٹ کے بال ) عطا فرمائے اور درخت اور بادلوں سے سائے عطا فرمائے اور پہاڑوں میں پناہ لینے کی جگہیں عطا فرمائیں۔ ان سب میں عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ اب اس کے بعد بھی کافر اپنے کفر پر اڑے رہیں تو آپ ﷺ اور مسلمانوں کا کام صرف صاف صاف بات پہنچا دینا ہے۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافروں کو بہت سخت عذاب ہوگا جن کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں وہ بھی دوزخ میں کافروں کے ساتھ ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نبی اور رسول اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے اور رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں کی گواہی دیں گے اور یہ قرآن پاک مسلمانوں کے لئے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو عدل و انصاف کرنے ، نیکی کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور بے حیائی کرنے ، بری بات اور برے اعمال کرنے اور اللہ کے خلاف سرکشی کرنے کو منع فرمایا۔ اس کے بعد سوت کاتنے والی عورت کی مثال دے کر سمجھایا کہ اس کی طرح اپنے اعمال برباد نہ کر لینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمان مرد ہو یا عورت جو بھی اچھے اور نیک اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قرآن پاک کی تلاوت سے پہلے شیطان مردود سے پناہ مانگو اور مسلمانوں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والوں پر اس کا قابو نہیں ہے لیکن کافروں پر اس کا پورا قابو ہے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اس قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تو مسلمان اس کی وجہ سے ثابت قدمی پر قائم ہوتے ہوئے ہدایت اور بشارت حاصل کرتے ہیں اور کا فر آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے اسے اپنے من سے بنالیا ہے یا کوئی آدمی آپ ﷺ کو سکھاتا ہے۔ یہ اللہ تعالی پر اور آپ ﷺ پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آخرت میں اُن کا برا انجام ہے۔ اس کے بعد مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ 

رکوع نمبر 21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ایک بستی کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر طرح سے بھر پور رزق عطا فر مایا تھا۔ ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے جھٹلایا اور انکار کر دیا تو اللہ کا عذاب اُن پر آیا۔ اُن کا تمام رزق چھین لیا گیا اور وہ بھوک اور ڈر میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے بعد بتایا کہ مسلمان پر مردار، خون اور خنزیر (سور ) کا گوشت حرام ہے۔ اب جو انھیں حلال کہے گا تو اس نے در حقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہودیوں پر بھی یہ حرام تھا لیکن انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ( یعنی اسے حلال کر لیا) اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی برائی کر بیٹھے اور توبہ کرلے ( یعنی اس گناہ پر نادم ہو کر اسے چھوڑ دے اور آئندہ اس کام کے بالکل نہ کرنے کا عزم کرلے) تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 22 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف بیان فرمائے کہ آپ علیہ السلام دنیا کے امام ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے اور مشرک بالکل نہیں تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان پر شکر کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں منتخب کر لیا اور وہ سیدھی راہ پر تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میں بھلائی عطا فرمائی اور آخرت میں اُن کی شان کے مطابق عطا کیا جائے گا۔ اب تم ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) کی پیروی کرو۔ اس کے بعد آپ ﷺ اور مسلمانوں کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت اور اچھے طریقے سے لوگوں کو بلاؤ اور سب سے بہتر طریقہ سے اُن سے بحث کرو۔ اس کے بعد فر مایا کہ اگرتم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تھیں تکلیف پہونچائی گئی ہو اور اگر صبر کرو تو یہ بہت ہی اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو برائی کرنے سے ڈرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں ۔

 (سورہ النحل مکمل ) 

( پارہ نمبر 14 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں