خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 20
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین بنائے اور بارش برسائی اور باغ اُگائے۔ کیا تمہاری طاقت ہے کہ ایک درخت یا پیڑ یا پودا اگا سکو؟ اور اللہ تعالیٰ نے رہنے کے لئے زمین بنائی اور اُس میں دریا اور ندیاں اور سمندر بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا ء فرمائی تو وہ تمہیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور اللہ تعالی آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ اب کا فر بتا ئیں کہ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، کیا وہ یہ سب کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں کر سکتے تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیوں کرتے ہیں؟
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو پھر کیسے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ ہمیں کہانیاں سنارہے ہیں۔ تو آپ ﷺ ان کا فروں سے کہئے کہ زمین پر چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا؟ اور آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ ان سے کہو ! وہ بہت قریب آچکی ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ وہ آپس میں اختلاف میں مبتلا ہو گئے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو اُن کے سارے اختلاف ختم ہو جائیں گے لیکن ان اہل کتاب اور کافروں کے دل مردہ ہیں، نہ وہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اگلے اور پچھلے تمام کافروں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا کہ تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے اور جب صور پھونکا جائے گا تو پہاڑ ہوا میں اڑیں گے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے۔ جو ایمان والے نیک اعمال لے کر آئیں گے وہ گھبراہٹ سے امان پائیں گے اور کافر اور مجرم برائیاں لے کر آئیں گے تو وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں ایک اللہ تعالی کی عبادت کروں اور قرآن پاک کی تلاوت کروں اور میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
(سورہ النمل مکمل )
سوره القصص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا اور لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ جب تمہیں اندیشہ ہو تو بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا ۔ آپ علیہ السلام کو فرعون کی گھر والی نے اٹھا لیا۔ آپ علیہ السلام نے کسی دائی کا دودھ نہیں پیا تو آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی والدہ کا دودھ پیا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام جوان ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں ۔ ایک دن آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کو ایک مصری سے لڑتے دیکھا۔ بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے مصری کو ایک گھونسہ مارا تو وہ مر گیا۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کا شخص بھاگ گیا۔ دوسرے دن پھر وہ شخص ایک مصری سے لڑ رہا تھا۔ اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا تو آپ علیہ السلام نے اسے ڈانٹا۔ اس شخص نے کہا کہ کل آپ علیہ السلام نے جس طرح اس مصری کو قتل کیا تو کیا آج مجھے قتل کرنے والے ہیں؟ اس طرح خبر فرعون تک پہنچ گئی۔ اُس نے اپنے سپاہی آپ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے بھیجے ۔ آپ علیہ السلام نے مصر چھوڑ دیا۔
رکوع نمبر 6:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے باہر آنے کے بعد اللہ تعالی کے علم سے مدین کی طرف چلے۔ مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لئے کر ایک طرف کھڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں ؟ تو انھوں نے کہا: جب سب چلے جائیں گے تب ہم پانی پلائیں گے ۔ آپ علیہ السلام نے اُن کی بکریوں کو پانی پلا دیا اور وہ دونوں چلی گئیں اور آپ علیہ السلام و ہیں آرام کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک لڑکی آئی اور کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں ۔ آپ علیہ السلام لڑکی کے گھر پہنچے تو حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے فرمایا: میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں اور مہر کے طور پر آپ علیہ السلام آٹھ برس میری بکریاں چرائیں۔ اگر دس برس کر دیں تو آپ علیہ السلام کی مہربانی ہوگی۔ اس طرح دونوں میں اقرار ہو گیا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی سلسلہ کلام جاری رکھا اور بتایا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مہر کی مقررہ مدت پوری کر لی تو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر مصر کی طرف چلے۔ راستے میں رات میں کوہ طور کے دامن میں قیام کیا تو کوہ طور پر ایک آگ دیکھی ۔ آگ لینے کے لئے وہاں پہنچے تو آواز آئی۔ اے موسیٰ! میں تمہارا اور سارے جہان کا رب اللہ تعالیٰ ہوں، اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ وہ اژدھا بن گیا۔ پھر فرمایا: اسے پکڑلو۔ اسے پکڑ لیا تو واپس عصا بن گیا۔ پھر حکم دیا: اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالو تو وہ نور کی طرح چمکنے لگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب جاؤ اور اپنے بھائی ہارون کے ساتھ مل کر فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو ۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی اور معجزے بتائے تو اُس نے کہا یہ جادو ہے اور میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے ہامان ! میرے لئے گارا پکا اور اونچا محل بنا تا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں ، فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بہت بڑا ظلم کیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کو غرق کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنمیوں کا امام بنایا۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بنی اسرائیل نے توریت میں ملاوٹ کر دی اور ایک طرح سے اصل توریت کا انکار کر دیا اور اب قرآن پاک کا انکار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور ہم ان دونوں کے منکر ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ایسی کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں ( توریت اور قرآن پاک) سے بہتر ہو، یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ بڑا گمراہ ہے جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا اور صحابیت کا درجہ پایا، ان کو بشارت دی اور اس کے بعد فرمایا: آپ ﷺ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کسے ہدایت دینا ہے اور کیسے گمراہ رہنے دینا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالٰی جب تک کسی بستی میں نبی یا رسول نہیں بھیج دیتا تب تک اس بستی کو ہلاک نہیں کرتا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے میں ڈالنے والی ہے اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ دنیا سے ہزاروں گنا بہتر ہے تو تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔
رکوع نمبر :10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کا فرجن کی عبادت کرتے تھے وہ ان کافروں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے: ہم خود گمراہ تھے اور جب کا فر انھیں پکاریں گے تو وہ کوئی جواب نہیں دیں گے اور جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا دنیا میں؟ تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر اللہ تعالی ہمیشہ تم پر رات رکھے تو کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی دے سکے ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ دن رکھے تو کون ہے جو تمھیں رات دے سکے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت تم پر کی اور تمھارے لئے دن اور رات بنائے تا کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کر سکو۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک بے انتہا امیرشخص قارون تھا۔ اس نے اپنی دولت پر گھمنڈ کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا تھا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ گھمنڈ اور تکبر پر اڑا رہا ۔ اس کا عیش و آرام دیکھ کر دنیا پرست لوگوں نے رشک کیا لیکن توریت کا علم رکھنے والوں نے کہا کہ آخرت، دنیا کی زندگی سے ہزاروں گنا بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھمنڈ اور تکبر کی یہ سزادی کہ اسے زمین میں اور اسکے گھر اور خزانوں کے ساتھ دھنسا دیا تو لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کر دیتا ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ گھمنڈی اور متکبر لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور آخرت کی کامیابی انہی کے لئے ہے جو گھمنڈ اور تکبر نہیں کرتے اور نہ فساد ( برائیاں) پھیلاتے ہیں تو آخرت میں جو جتنے نیک اعمال لے کر آئے گا، اتنا اسے اجر ملے گا اور جو جتنی برائی لے کر آئے گا اسے اتنی ہی سزاملے گی۔
(سورہ القصص مکمل )
سوره العنكبوت
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا لوگ اس گمان میں ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے تو ایمان والے تسلیم کر لئے جائیں گے؟ ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ایمان کو جانچے گا جیسے پہلے کے لوگوں کو آزمایا اور جواللہ تعالیٰ کے لئے لڑتا ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کے فائدے اور نقصان سے بے نیاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ ہر حال میں والدین کی بات مانو اور ان کی خدمت کرو۔ ہاں جب وہ شرک کرنے کو کہیں تو ان کی بات نہ مانو ۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ دونوں حضرات نے اسلام کی دعوت اپنی قوم کو دی اور انھیں جھٹلا دیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ رسول کے ذمہ تو صاف پیغام پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا پھر اس کو اس کے عروج تک پہنچایا اور اللہ تعالی کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ دوبارہ بنائے اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے قابو سے نہیں نکل سکتا
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا جب آپ علیہ السلام کے دلائل کا جواب ان سے نہ بن پڑا تو بولے کہ ابراھیم (علیہ السلام) کو جلا دو اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو آگ سے بچا لیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہو ۔ آخرت میں یہ تمھارے کام نہیں آئیں گے اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور میں اپنے رب (اللہ تعالی ) کے حکم سے ہجرت کر رہا ہوں تو حضرت لوط علیہ السلام نے صرف اسلام قبول کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں نبوت اور کتاب رکھی اور حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نہیں مانی اور کہا کہ اگرتم سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جارہے تھے تو راستے میں حضرت ابراہیم علیہ کے گھر کے پاس رک کر آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان لڑکوں کی شکل میں پہنچے اور حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کو بچالیا اور پوری قوم کو بلاک کر ڈالا۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے اور مدین والوں کو حضرت شعیب علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا اور عاد اور ثمود کا بھی یہی حال ہوا اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو بھلا بنا کر پیش کیا تھا اور قارون اور ہامان اور فرعون کا بھی یہی حال ہوا۔ جب کہ حضرت موسی علیہ السلام ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تھے تو انھوں نے گھمنڈ اور تکبر کیا تو اللہ تعالی نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا کسی پر پتھراؤ کیا، کسی پر چنگھاڑ آئی، کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو معبود بنالئے تو وہ مکڑی کی طرح ہیں ۔ جو جالے بناتی ہے اور وہ بہت کمزور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں