مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 8 میں ہیں۔ اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا تو انھوں نے انہیں جھٹلا دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور اُن پر ایمان لانے والوں کو بچالیا اور کافروں کو ختم کر دیا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم اسی بستی کو تباہ کرتے ہیں جس کے رہنے والے ہمارے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور اکثر بستی والوں نے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اگر وہ لوگ رسولوں کی بات مانتے اور اسلام قبول کرتے تو اللہ تعالیٰ اُن پر زمین اور آسمان سے اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیتا مگر انھوں نے انکار کیا تو اُن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اُس وقت آیا جب رات کو سور ہے تھے یا پھر دن میں جب وہ دنیا کے گناہوں میں مگن تھے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافر بستیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا تو آپ علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ بنی اسرائیل کو جو غلام بنایا ہوا ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ فرعون نے کہا: تمہارے پاس اس بات کی کوئی نشانی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئے ہو؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈالا اور وہ اژدھا بن گیا۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو جاری رکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اژدھے کو پکڑ لیا تو وہ واپس عصا بن گیا۔ اس کے بعد روشن ہاتھ کی نشانی بتائی تو فرعون نے کہا: یہ جادو سیکھ کر آیا ہے۔ ہمارے جادوگر اس سے مقابلہ کریں گے ۔ ہزاروں جادوگروں نے آپ علیہ السلام سے مقابلہ کیا اور شکست کھا گئے اور سمجھ گئے کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول میں تو تمام جادوگروں نے ایک ساتھ اسلام قبول کر لیا ۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں بہت اذیت ناک موت دوں گا تو تمام جادو گروں نے کہا: ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالٰی پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اب تجھے جو بھی کرتا ہے کرلے اور اے بزرگ و برتر اللہ ہم پر بے انتہا صبرا اتار دے پھر تمام جادوگروں کو فرعون نے شہید کر دیا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ فرعون کس طرح سے بنی اسرائیل پر بے انتہا ظلم و ستم کرنے لگا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے اور صبر کی تلقین کرتے رہے اور فرمایا کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ختم کر دے گا اور تمہیں زمین کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
رکوع نمبر 6
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم پر جو ہلکے ہلکے عذاب بھیجے اُن کے بارے میں بتایا۔ پھر یہ بتایا کہ جب یہ لوگ عذاب میں مبتلا ہوتے تھے تو کہتے تھے کہ اے موسیٰ ! اس مصیبت کو دعا کر کے دور کر دیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر اور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنا عذاب ہٹا لیتا تھا تو اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ آخر کار اللہ تعالی نے انھیں دریا میں غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو آزادی عطا فرمائی ۔ آزادی ملنے کے بعد بنی اسرائیل نے ایک قوم کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا تو آپ علیہ السلام سے ویسی ہی مانگ کی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جن کو تم نے دیکھا ہے، وہ گمراہ لوگ ہیں۔ تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جس نے تمہیں فرعون سے نجات دی ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر آنے اور توریت کی لکھی ہوئی تختیوں کو عطا فرمانے ، آپ علیہ السلام کی طرف سے اللہ تعالی کے دیدار کی خواہش کرنے اور ہلکی سی تجلی کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے بے ہوش ہو جانے کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے آخر میں آپ علیہ السلام سے فرمایا: اس توریت پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ اور بنی اسرائیل کو بھی اسی کا حکم دو ۔ جو اسے مانے گا وہ کامیاب ہوا اور جو انکار کرے گا ، وہ نا کام ہو گیا۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر تھے تو بنی اسرائیل بچھڑے کا بت بنا کر اس کی پوجا کرنے لگے تھے ۔ آپ علیہ السلام توریت کو لے کر کوہ طور سے واپس آئے اور بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا کرتے دیکھا تو اپنی قوم کو ڈانٹا۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بچھڑے کی پوجا کی سزا کیا ہے؟ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے ستر بڑے علماء کو لے کر کوہ طور پر آئے تو اُن لوگوں نے عجیب سی فرمائش کی۔ جس کی وجہ سے وہ زلزلے میں آگئے ۔ آپ علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے انھیں مصیبت سے آزاد کر دیا ۔ بنی اسرائیل کے اتنے سب واقعات بیان کرنے کے بعد آگے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو دعوت دی کہ اب تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آؤ ، جن کا ذکر تم توریت اور انجیل میں پاتے ہو اور ان کی تعظیم کرو، ان کی مدد کرو اور اُس نور ( قرآن پاک) پر عمل کرو جو اُن کے ساتھ نازل ہوا ہے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو دعوت دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو پانی عطا کرنے، اُن پر بادلوں کا سایہ کرنے ، ان پر من و سلویٰ اتارنے، ان تمام انعامات کے عطا کرنے کے بارے میں بتایا، اس کے بعد بھی بنی اسرائیل نے نافرمانیاں کیں۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام اس رکوع میں بھی جاری رکھا اور بتایا کہ انھوں نے سبت کا قانون تو ڑا ( یعنی سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار ان کے لئے حرام تھا ، انھوں نے شکار کیا تو اللہ نے ان کی شکل وصورت کو مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا ) اس کے بعد بنی اسرائیل کی لگاتار نافرمانیوں کی وجہ سے اُن پر ذلت مسلط کر دی اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی اُن پر حاوی رہے گا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ میں نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام انسانوں کی روحوں کو نکالا اور اُن سے عہد لیا کہ دنیا میں جانا تو صرف میری عبادت کرنا۔ تمام لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا: یہ میں نے اس لئے کیا تا کہ ہر ایک پر حجت قائم ہو جائے۔ اب اس کے بعد جو کفر کرے گا تو وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافروں کو کس طرح عذاب دیا جائے گا؟ اس کے بعد بتایا کہ قیامت کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو بھی نہیں ہے اور جب وہ آئے گی تو اچانک آئے گی اور کوئی بھی اسے ٹال نہیں سکے گا۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی ہی تمہارا خالق، مالک اور حقیقی معبود ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ جب ہم انسان کو اولاد دیتے ہیں تو بد بخت لوگ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : ان سے کہو جن کوتم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہو اُن کو پکارو اور کہو کہ مجھ پر اپنا داؤ چلیں یا مجھے نقصان پہنچا ئیں اور مجھے مہلت نہ دو، میں تو صرف اُسی کی پیروی کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب قرآن پاک پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر تم پر رحم کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کو صبح و شام یاد کرو اورتم غافلوں میں سے نہ ہونا ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو اور سجدہ کرتے رہو ۔
(سورہ الاعراف مکمل ۔)
سوره الانفال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے شروع میں ایمان والوں کی خصوصیات بتائیں کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں اور اُن کا حکم خوشی خوشی مانتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت سے ان کے ایمان بڑھتے ہیں۔ اللہ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک غزوہ بدر کے بارے میں بتایا اور آخر میں فرمایا کہ ہم نے ہزار فرشتوں سے مدد کی اور حقیقی مدد تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
رکوع نمبر :16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی غزوہ بدر کا ذکر جاری رکھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا۔ اس کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ میدان جنگ میں کافروں کے مقابلے میں ڈٹ جایا کرو اور پیٹھ نہ دکھایا کرو اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور جب رسول اللہ ﷺ (جہاد کے لئے ) بلا ئیں تو خوشی خوشی حاضر ہو اور جب ( مکہ مکرمہ میں ) دبے ہوئے تھے ، کمزور تھے تو اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت سے تمہیں (مدینہ منورہ میں ) جگہ دی اور روزی عطا فرمائی تو اب رسول اللہ ﷺ سے دغا نہ کرو بلکہ سچے دل سے آپ ﷺ کا حکم مانو اور اُن کی خدمت کرو۔ امانت میں خیانت مت کرو اور مال و دولت اور اولاد تمہارے لئے فتنہ ( اللہ کی آزمائش) ہے۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی مسلمانوں سے خطاب جاری رکھا اور فرمایا : اگر تم صحیح معنیٰ میں اللہ پر ایمان اور بھروسہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی چیز ( قرآن پاک ) عطا فرمائے گا۔ جس سے تم حق اور باطل کے درمیان صاف فرق کر لو گے اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: کافر اپنی چال چل رہے تھے کہ آپ ﷺ کو قید کر لیں یا شہید کر دیں یا ( مکہ مکرمہ ) سے نکال دیں تو اُس وقت اللہ تعالیٰ اپنی خفیہ تدبیر کر رہا تھا ۔ اس کے بعد فر مایا: یہ کافر عذاب کی مانگ کر رہے ہیں تو جب تک آپ ﷺ ان کے درمیان ہیں تب تک اللہ تعالیٰ انھیں عذاب نہیں دے گا اور کافر اس لئے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکیں تو اُن کا انجام آگ ہوگی ۔
(پارہ نمبر 9 مکمل)
Ok

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں