جمعہ، 24 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 8 - Khulasa e Quran para 8


 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 8 

مرتب شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کا سلسلہ کلام بھی پچھلے رکوع سے مربوط ہے۔ رکوع کے شروع میں فرمایا: اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے ، یا مردے ان سے بات کرتے یا اور بھی بہت سے معجزات یہ دیکھتے اس کے بعد بھی یہ ایمان نہیں لاتے کیوں کہ یہ جاہل لوگ ہیں ۔ اسی طرح ہر نبی علیہ السلام کے انسانوں میں سے اور جناتوں میں سے دشمن تھے اور یہ سب شیطان کے چیلے تھے ۔ تو آپ ﷺ انھیں اُن کے حال پر چھوڑ دیں۔ آگے فرمایا: اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) جانتے ہیں کہ جو کچھ ( قرآن پاک ) آپ ﷺ پر اترا، وہ حق ہے۔ اس کے بعد فرمایا : جس کھانے پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو وہ کھاؤ اور جس کھانے پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ا سے نہ کھاؤ۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ مسلمان ایمان کی روشنی میں چلتا ہے اور کافر کفر کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے اور اس میں سے نکل نہیں پائے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی نگاہوں میں اُن کے اعمال کو مزین کر دیا ہے اور کافروں کی ہر بستی میں اُن کے سردار ہیں جو کافروں کو بہکاتے ہیں اور اپنا اور دوسروں کا نقصان کرتے ہیں۔ اس کا انھیں شعور ( اندازہ) نہیں ہے اور جو سیدھی اور سچی راہ پر چلنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا سینہ اسلام کیلئے کھول دیتا ہے اور جو کفر پر اڑا ( ڈنا ) رہنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے اور گمراہ کر دیتا ہے اور اسکا سینہ تنگ کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ قیامت میں سب کو جمع کرے گا تو کافر انسان، جن اور اُنکے سردار کہیں گے: اے اللہ ! تو نے دنیا میں ہمارے لئے جو وقت مقرر کیا تھا تو ہم نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافر انسانوں اور جناتوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا ، کیا تمہارے پاس میرے رسول حق لے کر نہیں آئے تھے؟ تو وہ کہیں گے کہ بے شک آئے تھے اور تیری آیتیں پڑھتے تھے اور تیرے عذاب سے ڈراتے تھے ۔ لیکن ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر پر ڈٹے رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا بے لچک قانون یہ ہے کہ وہ کسی بستی میں جب اپنا رسول بھیجتا ہے اور کافر اس رسول کو جھٹلاتے ہیں تو اس کے بعد ہی وہ اس بستی کو تباہ و برباد کرتا ہے اور آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو تم اپنا کام کرو اور میں اپنا کام کروں گا اور فیصلہ تو آخرت میں ہی ہوگا ۔ آگے فرمایا کہ شیطان کے بہکاوے میں آکر یہ کافر لوگ اپنی اولاد اور مویشیوں کو اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کے نام پر قتل کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو قتل کر نا تو انتہائی احمقانہ فعل ہے تو یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اس زمین پر باغات اور اُن کے پھل اور اناج یہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں اور مویشیوں کو بھی اُسی نے پیدا فرمایا تو ان میں سے کچھ کو یہ کا فر لوگ اپنے لئے حلال اور کچھ کو حرام ٹھہراتے ہیں تو یہ سراسر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو راستہ نہیں بتاتا ۔ 
رکوع نمبر 5 اور رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ مردار ، رگوں میں بہتا خون ، سور اور وہ جانور جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، یہ سب حرام ہیں۔ اس کے بعد یہودیوں پر جو کچھ حرام کیا تھا اس کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں فرمایا کہ جیسے یہ آپ ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں ۔ اس سے پہلے کے کافر بھی اسی طرح ہمارے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلا چکے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اپنی اولاد کو غریبی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اور انھیں بھی رزق عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد یتیم کے بارے میں بتایا۔ آخر میں فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (توریت ) عطا فرمائی۔

رکوع نمبر 7

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک سب کیلئے نازل ہوا ہے۔ اسلئے یہودیوں اور عیسائیوں کو چاہیئے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لائیں لیکن یہ بد بخت اس سے منہ پھیرتے ہیں۔ اسکے علاوہ ان لوگوں نے دین میں الگ الگ راستے نکال لئے اور فرقوں میں بٹ گئے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو ایک نیکی لے کر آئیگا تو ہم اسے دس گنا بڑھا دیں گے اور جو ایک برائی لائے گا تو اسے اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اس نے بُرائی کی ہوگی۔ آگے فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام سچے مسلمان تھے اور ہر قسم کے باطل سے جدا تھے اور ہر گز مشرک نہیں تھے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو میری نماز اور میری عبادت و قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ تعالی کیلئے ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں (اس کا ) سب سے پہلا فرماں بردار ہوں ۔ (سورہ انعام مکمل ) 

سوره الاعراف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اس (قرآن پاک ) کو ہم نے آپ ﷺ پر نازل کیا تا کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ کافروں کو ڈرائیں اور مسلمانوں کو نصیحت دیں ۔ پھر تمام انسانوں سے فرمایا کہ اس قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کرو اور دوسروں کی باتوں کو نہ مانو۔ اللہ نے بہت سی بستیوں پر رات میں یا دو پہر میں عذاب بھیجا جس وقت وہ آرام کر رہے تھے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ہر ایک سے پوچھیں گے اور ہم ہر ایک کو دیکھ رہے ہیں اور اس دن سب لوگ حقیقت بتا دیں گے تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ کامیاب ہو جائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ ناکام ہوں گے۔

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام اور شیطان کے بارے میں بتایا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو شیطان ابلیس نے نہیں کیا اور پوچھنے پر بتایا کہ یہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں اس لئے میں بہتر ہوں۔ اس کے اس تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔ شیطان نے قیامت تک کی مہلت مانگی کہ میں اسے اور اس کی اولاد کو بہکاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جا تجھے مہلت دی ۔ میں تجھ سے اور جو تیرے بہکاوے میں آئیں گے ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ پھر بتایا کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکایا اور کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور قسم کھائی اور حضرت آدم علیہ السلام کو اس نے جنت سے نکلوا کر زمین پر اتروا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب انسان اور شیطان سب زمین پر جاؤ تم وہاں پر ایک مقررہ مدت تک رہو گے اور تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ 

رکوع نمبر 10 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں تمام انسانوں (حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ) کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لباس اُتارا اور سب سے بہترین لباس تو تقویٰ ( گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوا دیا، تم شیطان کے بہکاوے میں نہ آنا اور کافروں کا دوست شیطان ہے۔ جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارے باپ دادا بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ تو جنھوں نے شیطان کی بات مانی وہ گمراہ ہوئے۔ 

رکوع نمبر 11

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا۔ ان سے کہو کہ دنیا کا پاک رزق تمام انسانوں کے لئے ہے اور آخرت تو خاص انھیں کے (آرام) کے لئے ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے ، ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر طرح کی بے حیائی حرام کر دی ہے اور یہ اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ تو ہر ایک کا دنیا میں وقت مقرر ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے سب کو کھڑا ہونا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اے اولاد آدم ! جب تمہارے پاس میرے رسول آئیں تو اُن پر ایمان لاؤ اور جس نے کفر کیا وہ جہنمی ہے۔ اس کے بعد فرمایا: قیامت میں اپنے کفر کی یہ خود گواہی دیں گے اور جہنم میں جائیں گے تو اتباع کرنے والے ( عام لوگ) اپنے سرداروں ( لیڈروں) کے بارے میں کہیں گے : اے اللہ! ہم نے ان کی اتباع کی تو انھیں دوہرا (ڈبل ) عذاب دے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم سب کا فروں کو دوہرا عذاب ہے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ کافر جنت میں ہرگز نہیں جائیں گے اور وہ آگ کو بچھائیں گے اور آگ کو اوڑھیں گے ۔ جو ایمان لائیں گے اور اچھے کام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے وہ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ وہاں اللہ تعالی کی تعریف بیان کریں گے کہ اُس نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا ورنہ ہم بھٹک جاتے ۔ پھر اہل جنت پکار کر اہل جہنم سے کہیں گے کہ ہمارے اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں مل گیا ۔ تم لوگ جن جھوٹے خداؤں کی پوجا کرتے تھے ، کیا اُن کے وعدہ کو تم نے سچا پایا؟ تو کافر کہیں گے : ہاں ! تو ایک پکارنے والا پکارے گا : کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ کچھ لوگ جنت اور جہنم کے درمیان کی دیوار (اعراف) پر ہوں گے ۔ وہ جنت والوں کو سلام کریں گے اور جب جہنم والوں کو دیکھیں گے تو دعا کریں گے کہ اے اللہ ! ہمیں جہنم سے بچا اور جنت والوں میں شامل کر۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اہل اعراف جہنم والوں سے کہیں گے، جن کو وہ پہچانتے ہوں گے کہ تم لوگوں نے ایمان والوں کے بارے میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ ) ان پر رحم نہیں کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے غرور کیا تو اہل جہنم پکار کر اہل جنت سے کہیں گے کہ ہمیں جنتی کھانا اور پانی دے دو۔ تو اہل جنت کہیں گے کہ اللہ تعالی نے دوزخیوں پر جنت کا کھانا اور پانی حرام کر دیا ہے اور تم نے دین (اسلام) کو دنیا میں مذاق بنا لیا تھا اور دنیا کی زندگی میں مگن ہو گئے تھے اور آخرت کی زندگی کو بھلا دیا تھا، تو کافر کہیں گے: بے شک ہمارے پاس رسول آئے تھے اور ہم نے انھیں جھٹلا دیا تھا، کاش آج کوئی ہماری سفارش اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرے۔ 
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں تمام مسلمانوں کو بتایا کہ بے شک تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمان کو چھ دن میں بنائے پھر اپنی شان کے مطابق عرش پر مستوی ہو گیا۔ وہی اللہ تعالیٰ دن میں سے رات کو اور رات میں سے دن کو نکالتا ہے۔ سورج ، چاند اور ستاروں کو بنایا اور یہ سب اس کے حکم پر چل رہے ہیں ۔ وہی ہر ایک کو پیدا فرماتا ہے اور ہوائیں بھیجتا ہے۔ جو بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہے۔ پھر وہی اللہ تعالیٰ اس سے پانی برساتا ہے اور زمین سے اناج اور پھل وغیرہ نکالتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مردوں کو زمین سے نکالے گا۔

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ میں نے حضرت نوح علیہ السلام کو اُن کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور الٹا آپ علیہ السلام کو ( نعوذ باللہ ) گمراہ کہنے لگے اور مذاق اڑانے لگے تو آخر کار اللہ تعالیٰ نے انھیں غرق کر دیا اور حضرت نوح علیہ السلام اور اُن پر ایمان لانے والے کشتی پر سوار لوگوں کو بچالیا۔ بے شک وہ کافر عقل کے اندھے تھے۔ 

رکوع نمبر :16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد کے بارے میں بتایا کہ جب میں نے حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا تو ان کی قوم کے اکثر افراد نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے اور آپ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) بے وقوف تک کہا اور کہنے لگے : ہمارے باپ دادا جو کرتے تھے ہم وہی کریں گے اور تم جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ 

رکوع نمبر :17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوموں کے بارے میں بتایا کہ میں نے قوم ثمود میں اُن کے بھائی حضرت صالح علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا تو قوم ثمود نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانی مانگی تو آپ علیہ السلام کی دعا کے جواب میں اللہ تعالٰی نے پہاڑ میں سے اونٹنی نکال دی لیکن ان بد بختوں نے اسے قتل کر دیا اور آپ علیہ السلام سے کہا لاؤ اللہ تعالیٰ کا عذاب، ہم بھی دیکھتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب کو تباہ کر دیا اور حضرت صالح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے بھی اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی تباہ کر دیا۔

 (پارہ نمبر 8 مکمل) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں