جمعہ، 24 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 7 - Khulasa e Quran para 7


خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 7

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی پانچ آیتیں چھٹے پارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بنی اسرائیل پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ یہودیوں اور مشرکوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن پاؤ گے ، ان کے مقابلہ میں عیسائیوں کو دوستی سے زیادہ قریب پاؤ گے۔ ان میں سے بہت سے لوگ حق کو پہچان کر اسلام بھی قبول کریں گے اور اللہ تعالیٰ اُن کی نیکیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے گا۔ 

رکوع نمبر 2 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں نا جائز قسم کھانے کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم بیان فرمایا پھر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کاحکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالی کو وہ لوگ پسند ہیں جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور ( اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرتے رہیں۔ 

رکوع نمبر 3: اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار کرنے کی ممانعت فرمائی اور دریا اور سمندر (پانی) کا شکار حلال کیا اور خانہ کعبہ اور حرمت والے مہینوں اور قربانی کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر توصرف حکم پہنچا دینا ہے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات نہ کرو جن کی وجہ سے تم مصیبت میں آجاؤ۔ تم سے پہلے کی ایک اُمت نے ایسے ہی سوالات کئے تھے اور بعد میں انکار کر بیٹھے۔ اس کے بعد گمراہ لوگوں کے عقیدے کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ جب اُن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے ماں ، باپ دادا جو کرتے تھے ہم بھی وہی کریں گے چاہے اُن کے باپ دادا گمراہی میں ہی مبتلا کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک وصیت کے بارے میں احکامات دیئے۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور آپ علیہ السلام کو جو معجزات عطا فرمائے ان کے بارے میں بتایا ۔ پھر بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا وہ بتایا۔ اس کے بعد حواریوں کے " المائدة “ ( آسمان سے خوان اتارنا ) کی فرمائش کرنا اور آپ علیہ السلام کی دعا پر آسمان سے خوان نازل کرنے کا ذکر فرمایا۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن میدان حشر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاف کہیں گے کہ میں نے تو ان سے کبھی نہیں کہا کہ میری عبادت کرو۔ میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جس کے کہنے کا آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میرا اور تمہارا معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے اللہ ! تو ان کے مکمل حالات جانتا ہے۔ اب تو چاہے تو انھیں سزادے یا انہیں معاف کر دے یہ تیرے ہی بندے اور غلام ہیں اور تو ہی سب پر غالب ہے۔ (سورہ المائدہ مکمل ہوئی ۔)

سورة الانعام 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ میں نے ہی زمین ، آسمان ، روشنی اور اندھیرے بنائے ، میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہارے لئے (دنیا میں رہنے کا) ایک وقت مقرر کیا، مجھے تمہارا چھپا اور کھلا حال سب معلوم ہے۔ اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کے شریک بناتے ہو اور حق کو جھٹلاتے ہو تم سے پہلے بھی بہت سے لوگ ہم نے پیدا کئے اور پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا۔ پھر اور لوگ پیدا کئے اور کا فر قرآن پاک کو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو کہتے ہیں اور بولے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہ اُتارا؟ اگر ہم فرشتہ اتارتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا ( یعنی ان پر عذاب بھیج دیا جاتا اور انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : ان (کافروں اور اہل کتاب سے ) کہہ دو کہ زمین پر گھوم پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ ان سے کہو کہ جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ( اس دنیا میں ) اپنے ذمہ رحمت لکھ لی ہے لیکن قیامت کے دن سب کو بدلہ دے گا اور رات اور دن میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ سب دیکھا اور سُن رہا ہے۔ ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پیدا فرمائے ۔ وہ سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا اور میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والا ہوں ۔ اگر انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ ہی اسے مصیبت سے نکال سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ حکمت والا ہے اور سب کی خبر رکھتا ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ اہل کتاب رسول ﷺ (توریت اور انجیل میں آپ ﷺ کے اوصاف ذکر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ ) کو اپنی کی اولاد سے زیادہ جانتے ہیں۔

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے اور مشرک ( کافر، یہودی اور عیسائی) سب سے بڑے ظالم ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ جب ہم قیامت کے دن جمع کریں گے تو یہ لوگ انھیں بھول جائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : جب یہ لوگ آگ پر ( دوزخ میں ) کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے تا کہ ہم مسلمان بن کر اچھے اعمال کر کے واپس آئیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جب یہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جائیں گے تو وہی کریں گے جو ا بھی کر رہے ہیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ مزہ ہے دنیا میں ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں ۔ تو جب اللہ تعالی (قیامت کے روز انھیں ) کھڑا کرے گا اور فرمائے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: بے شک آخرت کی زندگی برحق ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب آگ کا مزہ چکھو۔ 

رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کا انکار کرنے والوں کا انجام بتایا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ دنیا کی زندگی امتحان کیلئے ہے لیکن لوگوں نے اسے ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ جب کہ ہمیشہ کی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت عطا فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے سچے دل سے ہدایت قبول کرے۔ آگے فرمایا: جولوگ ہماری آیات کا انکار کر رہے ہیں (یعنی کا فراور اہل کتاب) در حقیقت وہ بہرے اور گونگے ہیں اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب یا قیامت آئے گی تو تم جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اُن کو بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارو گے۔ 

رکوع نمبر 11

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب ہم پہلی امتوں کے پاس نبی یا رسول بھیجتے تھے اور وہ انھیں جھٹلاتے تھے تو ہم اُن پر عذاب بھیجتے تھے تا کہ وہ ہمارے سامنے گڑگڑائیں لیکن اُن کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے اُن کے کام انھیں اچھے کر کے بتائے ۔ پھر جب اس کے بعد بھی انھوں نے انکار کیا ( کفر پر قائم رہے) تو اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کا ہر عیش و آرام دے دیا جس پر وہ بہت خوش تھے کہ اچانک ہم نے انھیں پکڑ لیا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔ ان سے کہو اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور آنکھ لے لے تو کون ہے جو تمہیں کان اور آنکھ واپس دے؟ سوائے اللہ تعالٰی کے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: اس قرآن پاک کے ذریعے اُن لوگوں کو سمجھاؤ جو حق کو سمجھنا چاہتے ہیں اور یہ امید رکھو کہ وہ حق (اسلام) کو قبول کر لیں اور ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھو ۔ جو صبح و شام اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ مالدار کافر جب محتاج مسلمان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے؟ آگے فرمایا کہ اگر انجانے میں کوئی برائی ہو جائے اور فوراً معافی مانگ لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : ان سے کہہ دو مجھے منع کیا گیا ہے اُن لوگوں کی عبادت کرنے سے جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ میں تو صرف اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہوں ۔ ان سے کہو میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں تو پھر میں تمہاری خواہش کے مطابق نہیں چلوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ( دنیا میں ) ایک مقررہ مدت تک رکھا ہے۔ اس کے بعد اسی کی طرف واپس لوٹو گے ۔ پھر تم نے جو کچھ کیا ہے۔ وہ بتادے گا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا : ان سے کہو جب تم جنگلوں اور دریا کی آفتوں میں گڑ گڑاتے ہو تو اللہ تعالی ہی تمہیں نجات دیتا ہے۔ پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تمہارے آگے پیچھے، اوپر اور نیچے سے تم پر عذاب بھیج سکتا ہے اور انھوں نے دین کو ہنسی مذاق بنالیا ہے اور دنیا کی زندگی کے فریب میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں قرآن پاک کے ذریعے نصیحت دو اور یہ لوگ قیامت کے دن پکڑے جائیں گے اور پینے کے لئے ان کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو ہم اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہی ہمیں راستہ بتایا ہے اور شیطان نے جن لوگوں کو اللہ کا راستہ بھلا دیا ہے وہ حیران و پریشان ہیں ۔ ان سے کہو اصل ہدایت تو اللہ تعالی کی ہدایت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا جس میں آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا اور کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ جو ایمان لائے اور اس میں کوئی ناحق آمیزش نہیں کی۔ وہی سیدھے راستہ پر ہیں۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلند درجے عطا فرمائے اور حضرت نوح، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت ایوب ، حضرت یوسف ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت ذکریا، حضرت یحییٰ، حضرت یسع ، حضرت یونس، حضرت لوط علیہم السلام کے بارے میں بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اور منتخب بندے ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن تو تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔ 

رکوع نمبر 17 

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اس طرح نہیں مانا جیسا ماننا چاہیئے ۔ یہ بد بخت آپ ﷺ سے کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر کچھ نہیں اتارا تو ان سے کہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو کتاب ( توریت ) لائے تھے ۔ وہ حق اور لوگوں کے لئے روشنی تھی لیکن تم لوگوں نے اس میں ملاوٹ کر دی اور اپنی طرف سے بنائی من گھڑت باتیں لوگوں کو بتاتے ہو اور حق (یعنی رسول اللہ ﷺ کے توریت میں ذکر کئے گئے اوصاف ) کو چھپاتے ہو۔ اس کے بعد کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اُن کا انجام بہت بُرا ہو گا۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں تمام لوگوں کو اس کا ئنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ گٹھلی کو پھاڑنے والا ، زندہ کو مُردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ، رات کے اندھیرے میں سے صبح کو نکالنے والا ، رات کو آرام کے لئے بنانے والا سورج اور چاند کو بنانے والا، انھیں اپنے اپنے مقررہ راستہ پر چلانے والا، تاروں کو بنانے والا، تمام انسانوں کو ایک جان سے پیدا کرنے والا ، آسمان سے پانی اتارنے والا ، زمین سے سبزیاں اگانے والا ، کھجور ، انگور، زیتون اور انار پیدا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ سب جاننے کے باوجود کچھ لوگوں نے جناتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنالیا اور (نعوذباللہ) اُس کے بیٹے اور بیٹیاں بنالیں جب کہ اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے۔ 

رکوع نمبر 19 

اس رکوع کا سلسلہ کلام پچھلے رکوع سے جڑا ہوا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اولاد سے پاک ذات ہونے کو ثابت کرنے کے لئے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو بیٹا کہاں سے ہو گا جب کہ اُس کی بیوی ہی نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جس نے ہر شئے کو بنایا اور وہ سب کا خالق ہے۔ کسی کی بھی نگاہ اللہ تعالٰی کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ کے احاطے میں ہر کوئی اور ہر شئے سمائی ہوئی ہے اور وہ تمام ظاہری اور چھپی ہوئے باتوں کو جانتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ہر کسی کی اور ہر شئے کی خبر رکھتا ہے تو اب حق آجانے کے بعد بھی اگر کوئی اسے ماننے سے انکار کرے۔ تو آپ ﷺ اور مسلمان اُن کے اوپر نگہبان نہیں ہیں اور جن کو یہ کافر پوجتے ہیں انھیں برا بھلا نہ کہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جواب میں یہ لوگ اللہ تعالی کو بُرا کہنے لگیں اور جولوگ جان بوجھ کر ایمان نہیں لاتے اللہ تعالی انھیں چھوڑ دیتا ہے تا کہ وہ بھٹکتے رہیں۔

 (پارہ نمبر 7 مکمل) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں