خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 6
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اس رکوع کی چھ آیات پارہ نمبر پانچ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کوفریب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور نماز بھی بے دلی سے پڑھتے ہیں اور وہ بھی لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اللہ تعالی کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ اور منافقین کے بارے میں بتایا کہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ انسان اگر حق کو مانے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ تعالیٰ کو کیا پڑی ہے کہ اسے عذاب دے اور آگے فرمایا: کسی بُرائی کا اعلان مت کرو۔ ہاں جس پر ظلم کیا گیا وہ اعلان کر سکتا ہے اور یہ منافقین چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان کا کوئی راستہ نکالیں اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کی نافرمانیوں کا ذکرفرمایا کہ یہ تم (رسول اللہ ﷺ ) سے عجیب سوال کرتے ہیں۔ اس سے بڑا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کر چکے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ ) دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پھر بچھڑے کی پوجا کرنا بستی میں داخل ہوتے وقت الفاظ کا بدلنا ، سبت ( یعنی سنیچر کے دن کاروبار کی ممانعت کا قانون توڑنا، اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرنا اور انبیائے کرام علیہم السلام کو نا حق قتل کرنا اور اہل کتاب نے اتنی نا فرمانیاں کرنے کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اپنے خیال میں صلیب پر چڑھوا دیا ۔ آپ علیہ السلام کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں شک میں مبتلا ہیں کہ انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا تھا۔ اللہ تعالٰی نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا ہے بلکہ ہم نے ان کو اُٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اہل کتاب سود لیتے ہیں جب کہ وہ حرام ہے اور لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں تو یہ سب ناکام ہو گئے ۔ ہاں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر اسکے تمام رسولوں اور کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں (جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو توریت کے بڑے عالم تھے اور ان کے یہودی احباب ، سب مسلمان ہوئے ) وہ کامیاب لوگ ہیں۔
رکوع نمبر 3
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف جو وحی بھیجی ہے یعنی قرآن کریم تو ہم نے حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں، حضرت عیسٰی ، حضرت ایوب ، حضرت یونس ، حضرت ہارون اور حضرت سلیمان علیہم السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف بھی ایسی ہی وحی بھیجی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر تو زبور اُتاری اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم نے بات کی ، اب جو کوئی اس کا انکار کرے گا وہ نا کام ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس رسول ﷺ پر ایمان لاؤ، اس میں تمہاری بھلائی ہے اور اہل کتاب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو اور سچ کہو اور سچ یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ تعالی کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو اور تین نہ کہو۔ اللہ تو ایک ہی ہے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندہ اور رسول ہیں اور آپ علیہ السلام اور مقرب فرشتے اللہ تعالی کی بندگی کو دل سے قبول کرتے ہیں اور جو بھی اللہ تعالٰی کی بندگی سے انکار کرے گا ( یعنی شرک اور کفر اختیار کرے گا ) تو اللہ تعالیٰ بہت جلد سب کو جمع کرے گا اور ایمان والوں کو اس کا اجر دے گا ، کافروں کو سزا دے گا۔ اس کے بعد تمام انسانوں سے فرمایا: تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف دلیل اور روشن نور ( قرآن پاک ) آچکا ، اب جو ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی (قرآن پاک ) کو مضبوطی سے تھام لیا وہ کامیاب ہوگا۔ (سورہ نساء مکمل ہوئی۔)
سورة المائدة
رکوع نمبر 5
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے شروع میں احرام کی حالت میں شکار کرنے سے منع فرمایا۔ احرام کھولنے کے بعد شکار کی اجازت دی اور فر مایا: تم پر حرام ہے مُردار، خون اور سور کا گوشت۔ اس کے بعد شکار کے بارے میں احکامات دیئے۔ درمیان میں فرمایا: اب تمہارے لئے میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور دین اسلام کو تمہارے لئے (دین کے طور پر) پسند کر لیا ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں طہارت کے احکامات بیان فرمائے کہ جب نماز کے لئے جانے لگو تو اگر غسل کی ضرورت ہو تو غسل کر لو یا وضو کرو۔ پھر وضو کے بارے میں احکامات دیئے۔ پانی نہ مل سکنے کی صورت میں تیمم کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک و صاف کر دے اور اس نے تم پر سختی نہیں رکھی ہے بلکہ وہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اس کے بعد فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے حکم ( قرآن پاک) پر قائم ہو جاؤ اور اسی کے مطابق گواہی اور فیصلے دو اور کسی قوم سے دشمنی کی وجہ سے اس کے ساتھ بے انصافی نہ کرو ۔ اس کے بعد ایمان والوں کے لئے اجر و ثواب اور کافروں کے لئے عذاب کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 7
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اگر تم نماز قائم کرو گے، زکوۃ دو گے ، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے ، اُن کی تعظیم کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرو گے تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا اور مزید گناہ یہ کیا کہ توریت میں اپنی طرف سے ملاوٹ کر دی پھر مسلمانوں سے فرمایا کہ یہ ہمیشہ تمہارے ساتھ دھوکہ بازی اور دغا بازی کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد عیسائیوں کے بارے میں بتایا کہ نصاریٰ سے بھی ہم نے عہد لیا تھا لیکن اُن لوگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں کو بھلا دیا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ( نعوذ باللہ) بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں یہودیوں اور عیسائیوں میں قیامت تک کے لئے بغض ڈال دیا۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) کو دعوت دی کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن کتاب (قرآن پاک) لے کر آئے ہیں۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا ہے کہ بنی اسرائیل نے کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ بیت المقدس میں جو لوگ آباد ہیں ان پر حملہ کر دو، اللہ تعالیٰ تمہیں غلبہ عطا فرمائے گا تو ان بد بختوں نے کہا: وہ لوگ بہت طاقتور ہیں اور ہم ان سے لڑنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اے موسیٰ! تم اور تمہارا خدا جا کر ان سے لڑو، ہم یہیں انتظار میں بیٹھتے ہیں ۔ اس بدعہدی اور نا فرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل پر بیت المقدس حرام کر دیا اور انھیں چالیس برس تک صحرا میں بھٹکنے کی سزا دی۔
رکوع نمبر 9
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل کا واقعہ بتایا کہ اللہ کے حکم کے خلاف قابیل اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، جس کا نکاح ہابیل سے ہونے والا تھا تو حضرت آدم علیہ السلام کے حکم سے دونوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کی ، اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول کر لی۔ یہ دیکھ کر قابیل بولا: اے ہابیل ! میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے کہا: اے بھائی ! تو اگر مجھے قتل کرنا چاہے تب بھی میں تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ آخر قابیل نے اسے قتل کر دیا اور لاش کا ندھے پر لئے پھرتا رہا، چونکہ وہ بد بخت بہت بڑا گنہ گار تھا اس لئے اللہ تعالی نے دو کوؤں کو بھیجا اور ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار کر دفن کر دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل نے اپنے بھائی کو بھی دفن کر دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جس نے کسی انسان کو قتل کیا اُس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی تو اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا۔ اس کے بعد بتایا کہ کا فر آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دنیا کی ساری دولت دے کر بھی بچنا چاہیں تو نہیں بچ سکیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ اس کے بعد چور کی سزا بتائی کہ اس کے ہاتھ کاٹ دو، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ساری کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں، منافقوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے انکار کی وجہ سے غمگین نہ ہوں ، ان کے لئے آخرت میں سخت عذاب ہے۔ اگر یہ تمہارے پاس فیصلہ کے لئے آئیں تو تمہیں اختیار ہے، فیصلہ کرو یا منع کر دو۔ ہاں اگر فیصلہ کر دتو انصاف کے ساتھ کرو۔ ویسے بھی یہ تمھارے پاس فیصلہ کے لئے نہیں آئیں گے کیونکہ اس سے پہلے توریت میں اللہ تعالیٰ کا صاف حکم موجود تھا مگر ان لوگوں نے اسے نہیں مانا۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ہم نے توریت بنی اسرائیل کے لئے بھیجی ، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان ۔ تو اے بنی اسرائیل ! میری آیتوں کو تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے بیچ نہ ڈالو۔ اس کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ بنی اسرائیل میں ہم لگا تار انبیائے کرام بھیجتے رہے اور سب کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھیجا جو توریت کی تصدیق کرتے تھے اور ہم نے انھیں انجیل عطا فرمائی۔ جس میں ہدایت اور نور ہے اور توریت کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب ( قرآن پاک ) اُتاری ہے جو توریت اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اس لئے اب یہودیوں کو اور عیسائیوں کو اس آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب (قرآن پاک) پر ایمان لانا چاہیئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا یہ لوگ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔
رکوع نمبر :12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ تم یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ اور تم میں سے جو اُن سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔ ہاں یہ دونوں ( دکھاوے کے لئے ) ایک دوسرے سے دوستی کریں گے ( اور دکھاوے کیلئے تم سے بھی دوستی کرنا چاہیں گے ) پھر منافقوں کے بارے میں بتایا کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے کے بہانے تلاش کریں گے اور اپنا نقصان کر لیں گے۔ پھر مسلمانوں سے فرمایا : تم میں سے جو کوئی اسلام سے پھرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائے گا جو مسلمانوں کے لئے نرم دل اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے اور اللہ کے لئے لڑیں گے اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور مسلمانوں کے (سچے) دوست تو صرف مسلمان ہیں اور وہی غالب رہیں گے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو بتایا کہ یہ (یہودی اور عیسائی ) تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اذان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ تم ان سے پوچھو کہ اے اہل کتاب اتمہیں ہمارا کیا بُرا لگا؟ یہی نا کہ ہم اللہ پر اور رسول اللہ ﷺ پر اور جو کچھ ہماری طرف اترا ( قرآن پاک) اُس پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ جب کہ وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر ہی تھے۔ آگے فرمایا کہ یہ یہودی کہتے ہیں (نعوذ باللہ ) اللہ تعالی کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ نہیں....! بلکہ خود انہی لوگوں کے ہاتھ باندھے جائیں گے جب کہ اللہ تعالیٰ تو جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔ آگے فرمایا : ہم نے قیامت تک ان دونوں (یہودیوں اور عیسائیوں ) کے درمیان بغض اور دشمنی ڈال دی ہے اور یہ دونوں زمین پر فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ جو کچھ آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے ( یعنی قرآن پاک ) وہ سب کو پہنچا دو اور اُن سے کہو ۔ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک کہ تم توریت اور انجیل اور قرآن پاک پر سچے دل سے ایمان نہ لاؤ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اس کے باوجود جب بھی اُن کے پاس کوئی رسول آیا اور حق بات کی دعوت دی جو اُن کی خواہشوں کے خلاف تھی تو یہ لوگ اس رسول کا انکار کر دیتے تھے اور یہاں تک کہ (اس رسول کو ) ناحق قتل بھی کر دیا کرتے تھے، یہ سوچ کر کہ ہمیں کوئی سزا نہیں ہوگی ۔ تو یہ اندھے اور بہرے ہو گئے ۔ اس کے بعد عیسائیوں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) خدا بنا لیا اور کہا کہ (نعوذ باللہ ) تین خدا ہیں ۔ اگر یہ لوگ ایسی ہی حالت میں مریں گے تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور اُن کی والدہ سیدہ مریم صدیقہ رضی الله عنہا ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں