خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 5
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالٰی نے اس پورے رکوع میں کن سے نکاح کرنا حرام ہے؟ یہ بتایا ہے کہ تمھاری مائیں تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں تمھاری پھوپھیاں تمھاری خالائیں تمھاری بھتیجیاں اور بھانجیاں، وہ عورت جس نے تمھیں دودھ پلایا تمھاری دودھ شریک بہنیں وغیرہ ۔ ان سب سے نکاح کرنا حرام ہے۔ آگے فرمایا: دو بہنوں کو اکٹھا کرنا حرام ہے۔ یعنی دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے ۔ ہاں اگر ایک بہن کا انتقال ہو جائے تو دوسری سے نکاح کر سکتے ہیں ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک نکاح کے احکامات ہیں۔
رکوع نمبر 2
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ وہ بزرگ و برتر مالک تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے صاف صاف احکامات بیان فرما رہا ہے اور حکم دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ اور نہ ایک دوسرے کو قتل کرو اور اگر تم کبیرہ گنا ہوں سے بچتے رہو گے تو تم سے جانے انجانے میں جو گناہ ہو جائیں گے ان سے اگر تم توبہ کر لو گے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا اور مرد کے اعمال اس کے لئے ہیں اور عورت کے اعمال اس کے لئے ہیں۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں شوہر اور بیوی کے احکامات بیان فرمائے ہیں اور دونوں کو جہاں تک ہو سکے مل کر رہنے کی تلقین کی ہے۔ اس کے بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں محتاجوں ، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور بڑائی کرنے والوں اور کنجوسی کرنے والوں کو نا پسند فرمایا اور دکھاوے کے لئے مال خرچ کرنے والوں کو بھی ناپسند فرمایا اور کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انکا ساتھی شیطان ہے اور وہ بہت برا ساتھی ہے ۔ اس کے بعد ایمان والوں کے بارے میں فرمایا کہ ہ اللہ تعالیٰ کیلئے خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کی گواہی نبیوں کے لئے اور امت کے اوپر رسول اللہ ﷺ کی گواہی کے اعزاز کو بیان فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کے نافرمانوں کا انجام بتایا۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں شراب کی حرمت کا پہلا حکم دیا کہ نشہ کی حالت میں اور ناپاکی کی حالت میں اور بغیر غسل کے نماز پڑھنے نہ جاؤ۔ اس کے بعد عذر کی وجہ سے تمیم کا حکم فرمایا اور اس کا طریقہ بتایا۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں بتایا کہ وہ گمراہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ اور بتایا کہ کس طرح زبان موڑ کر بات کے معنی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور بتایا کہ راعنا ( ہماری رعایت کیجئے ) کہنے کے بجائے راعینا (اے میرے چرواہے ) کہتے ہیں ۔ ( اور ایسا وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے کہتے تھے ) ان لوگوں کو فرمایا کہ اگر یہ انظرنا (ہم پر نظر عنایت کیجئے ) کہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لاؤ۔ اس سے پہلے کہ ہم تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے علاوہ جو چاہے معاف کر سکتا ہے۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ یہ اہل کتاب کہتے ہیں کہ بت کی پوجا کرنے والے اور شیطان کی بات ماننے والے (نعوذ باللہ ) سیدھے راستے پر ہیں اور مسلمان غلط راستے پر ہیں ۔ یہ اہل کتاب وہ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں کو دوزخ کا جو عذاب دیا جائے گا اس کا ذکر فرمایا اور پھر فرمایا کہ ایمان والوں کو جنت میں عیش و آرام ملے گا۔ اس کے بعد فرمایا: جب تم فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرد۔ رکوع کے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور تم میں جو حق بات بتائے اس کی اطاعت کرو اور کسی بات میں تنازعہ ہوتو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو ۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں منافقوں کا اور ان کے دوغلے کردار کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں اور فیصلہ شیطان کا مانتے ہیں اور ابلیس تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں دور تک بھٹکا دے اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: یہ تمہارے پاس قسم کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی ہے۔ اصل بات تو اللہ جانتا ہے۔ تو تم انہیں سمجھاؤ اور اثر دار بات کہو ۔ اس کے بعد فرمایا: جو بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو، اور سچے دل سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے اور رسول اللہ ﷺ اُن کے لئے دعا فرما ئیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرلے گا اور فرمایا: سچا مسلمان تو وہی ہے جو دل سے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول کرے اور جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانے گا تو وہ انعام یافتہ بندوں کے ساتھ ہوگا۔
رکوع نمبر 7
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی اور منافقوں کے کردار کے بارے میں بتایا کہ وہ جہاد پر جانے سے جان چرائیں گے اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے گی تو کہیں گے کہ اچھا ہوا میں نہیں گیا اور اگر تمہیں کامیابی اور مال غنیمت ملے تو افسوس کریں گے کہ اگر میں بھی جاتا تو مال و دولت پاتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے کی دعوت دی اور بتایا کہ ایمان والے ( مسلمان ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے لئے لڑتے ہیں اور شیطان کا داؤ بہت کمزور ہے۔ (اس لئے جو لوگ شیطان کے لئے لڑتے ہیں وہ یقینا شکست اور ہار سے دو چار ہوں گے اور مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب رہیں گے۔)
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب اُن پر جہاد فرض کیا گیا تو ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ لوگوں سے ڈرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ تعالیٰ ! تو نے ہم پر جہاد کو کیوں فرض کر دیا۔ اس دنیا میں کچھ دن اور زندہ رہنے دیا ہوتا۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا کی زندگی تو ( آخرت کے مقابلہ میں ) بہت ہی تھوڑی ہے اور انسان کا مقررہ وقت جب آجائے گا تو وہ کہیں بھی ہو گا اسے موت آجائے گی ۔ اس کے بعد فرمایا: جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا وہ کامیاب ہوا اور منافق آپ ﷺ کے سامنے کہتے ہیں : ہم نے آپ ﷺل کا حکم مانا اور جانے کے بعد راتوں میں آپ ﷺ کے خلاف منصوبے بناتے ہیں۔ آگے فرمایا : اگر یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس سے آتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا ۔ اس کے بعد فرمایا : جس نے نیکی کی دعوت دی اس میں اس کا حصہ ہے اور جس نے برائی کی دعوت دی تو اس میں اس کا بھی حصہ ہے اور جب کوئی تمہیں سلام کرے تو اس سے بہتر انداز اور الفاظ میں جواب دو یا پھر وہی کہہ دو جو اس نے کہا ہو۔
رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر 10
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو منافقوں اور کافروں کے بارے میں نیز جنگ کے بارے میں احکامات دیئے ہیں ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 10 میں قتل اور قاتل کی سزا کے بارے میں احکامات دیئے۔ پھر فرمایا جو کوئی جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے گا تو اللہ تعالی کا غضب اور عذاب اُس پر نازل ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا: جب بھی تم جہاد کے لئے نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے تو سمجھ لو کہ وہ مسلمان ہے ۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے لڑنے والے اُن لوگوں سے بہتر ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں ہجرت نہ کرنے والوں کا انجام بتایا ہے اور ہجرت کرنے والے مہاجرین کو خوشخبری دی ہے۔
رکوع نمبر :12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سفر کی حالت میں قصر نماز کے بارے میں بتایا اور جنگ کے دوران نماز کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور جہاد کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: جنگ کے دوران تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو کافروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے ہو۔ ( کہ اس تکلیف کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں اجر و ثواب عطا فرمائے گا ) جب کہ کافروں کو کوئی امید نہیں ہوتی ہے۔
رکوع نمبر 13
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: یہ قرآن پاک بے شک برحق کتاب ہے تم اس کے مطابق فیصلے کرو اور غلط لوگوں کا ساتھ نہ دو۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہیں جو لوگوں سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ۔ (یعنی یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالٰی دیکھ رہا ہے پھر بھی گناہ کرتے ہیں اور اس گناہ کولوگوں سے چھپاتے ہیں ) ہاں جو انجانے میں گناہ کر بیٹھے اور فورا اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا اور جوشخص گناہ کر کے اپنا گناہ کسی بے تصور پر تھوپ دے تو یہ بہت بڑا بہتان اور کھلا گناہ ہے۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ پر اپنے فضل اور رحمت کے بارے میں بتایا اور آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے ۔ اس کے بعد فرمایا: جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور صدقہ کی تلقین کرے اور لوگوں میں صلح کروائے اور یہ سب وہ اللہ تعالٰی کو راضی کرنے کی نیت سے کرے تو وہ کامیاب ہو گیا اور جو شخص حق بات سامنے آجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے خلاف کام کرے اور مسلمانوں کے راستے سے الگ راستے پر چلے تو وہ نا کام ہو گیا۔
رکوع نمبر 15
اس رکوع میں اللہ تعالٰی نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ شرک اور کفر کو معاف نہیں کرے گا، اس سے کم درجہ کے جو گناہ ہیں تو وہ جو چاہے معاف فرمائے گا اور یہ شرک کرنے والے عورتوں (کے بتوں ) کو پوجتے ہیں اور شیطان کی بات مانتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور شیطان نے کہا تھا: میں ضرور تیرے بندوں کو بہکاؤں گا اور دنیا کی خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا کر دوں گا، تو جس نے شیطان کو دوست بنایا وہ نا کام ہو گیا اور شیطان انسان کے ساتھ جھوٹے وعدہ کرتا ہے اور جو ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سب سے سچا ہے اور آخرت کا فیصلہ کا فروں اور اہل کتاب کے خیالوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ جو برا کام کرے گا تو اس کا بدلہ سزا کے طور پر پائے گا۔ جو بھلا کام کرے گا اور مسلمان ہوگا تو اسے انعام کے طور پر جنت عطا کی جائے گی اور صحیح مسلمان تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) پر چلا وہی کامیاب ہوگا۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں عورتوں ، یتیم لڑکیوں اور لڑکوں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد شوہر اور بیوی کے بارے میں احکامات دیئے اور اس شخص کے لئے بھی حکم ہے جس کی دو بیویاں ہوں۔ اس کے بعد بتایا کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا انعام ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو فرمایا : کہ حق پر قائم ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے لئے حق کی گواہی دو ۔ پھر اس میں تمہارا تمہارے والدین کا یا رشتہ داروں کا نقصان بھی ہو جائے تو پیچھے نہ ہٹو ۔ اس کے بعد فر مایا کہ اللہ تعالی پر، اس کے رسول ﷺ پر، اس کی کتاب (قرآن پاک پر اور ان (کتابوں ) پر جو پہلے اتاری گئیں ( جیسے توریت، زبور، انجیل ) اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر مکمل یقین و ایمان رکھو اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک منافقوں اور اہل کتاب کی دوغلی پالیسیوں اور ان کی سزا کے بارے میں بتایا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ ان سے بچ کر رہنا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں