خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 4
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جھوٹ کی نشاندہی کی جو وہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے تھے۔ اس کے بعد فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر چلو جو مسلمان تھے اور ہر طرح کے شرک سے بہت دور تھے ۔ اس کے بعد خانہ کعبہ کو تمام انسانوں کا قبلہ مقر فر مایا اور مکہ مکرمہ کے امن کا شہر ہونے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد اہل کتاب سے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور مسلمانوں سے فرمایا : اگر اہل کتاب کی بات مانو گے تو یہ کافر بنا کر چھوڑیں گے ۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اسلام پر جمے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم مسلمان رہو۔ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقہ بندی اور اختلاف نہیں کرنا اور تم میں ایک گروہ ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور اللہ تعالیٰ ہی کا سب کچھ ہے اور اُسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔
رکوع نمبر 3
اس رکوع میں بھی مسلمانوں سے خطاب جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تمام امتوں میں سب سے بہتر امت ہو۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو اور اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ صرف تمہیں پریشان کر سکتے ہیں اور اگر تم سے لڑیں گے تو میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ذلت مسلط کر دی ہے اور کافروں کو اُن کے اور اُن کی اولاد آخرت میں نہیں بچا پائیں گے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اللہ تعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ مسلما نو ا تم غیروں یعنی اہل کتاب اور کافروں کو راز دار نہ بناؤ۔ اُن کی آرزو ہے کہ تمہیں تکلیف میں مبتلا کر دیں اور تم کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور اکیلے میں غصے سے اپنی انگلیاں چبا ڈالتے ہیں۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالی نے اس رکوع میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا کہ فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اللہ تعالی ہر ایک کے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ اور فرمایا: یہ تمھاری خوشی کے لئے ہے تا کہ تمھارے دلوں کو چین ملے اور اللہ تعالی کا فروں کو ذلیل کرے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔
رکوع نمبر 5
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالٰی نے کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرایا ہے اور مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور مؤمنین کی خصوصیات بتائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ کافروں کے مقابلے میں سستی نہ کرو اور نہ ہی ہمت ہارو۔ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو کافروں کو بھی اس سے پہلے تکلیف پہنچ چکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے تا کہ ایمان والوں کی پہچان ہو اور ان میں سے کچھ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوں ۔ آگے فرمایا: کیا تم اس گمان میں ہو کہ بغیر امتحان دیتے ہی جنت میں چلے جاؤ گے؟
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اگر خدانخواستہ رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہو جائے تو کیا تم اُلٹے پاؤں کفر کی طرف پھر جاؤ گے ؟ اس طرح تم اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ آگے فرمایا: اس سے پہلے بھی بہت سے انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے لئے کافروں سے مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ بھی ایمان والے تھے ۔ وہ لوگ نہ سُست پڑے نہ کمزور ہوئے اور نہ کسی دباؤ میں آئے بلکہ صبر کیا اور دعا مانگتے تھے۔ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔
رکوع نمبر 7
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا: کافروں کے کہنے پر مت چلو، یہ تمہیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) لے جائیں گے۔ اس کے بعد غزوہ احد کے بارے میں بتایا اور فرمایا: سارا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ آگے فرمایا: جس کی موت جہاں لکھی ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ مومن اور منافق کی پہچان ہوجائے۔
رکوع نمبر 8
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کافروں اور منافقوں کی طرح مت سوچنا، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سفر یا جہاد پر نہ جاتے تو مارے نہیں جاتے جبکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں زندگی اور موت ہے اور اگر تم اللہ تعالی کیلئے مارے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت تمہیں ملے گی ۔ جو دنیا کی تمام دولت سے بہتر ہے۔ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان فرما کر آپ ﷺ سے فرمایا: تم ان کو معاف کر دو اور ان کیلئے مغفرت کی دعا مانگو اور ان سے مشورہ کر لیا کرد اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اس کے بعد مؤمنوں اور کافروں کے انجام کو بتایا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ کی نبوت کو احسان بتایا اور آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے ۔ اس کے بعد غزوہ اُحد میں منافقوں کا کردار بیان فرمایا
رکوع نمبر 9
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے اور انھیں اپنے فضل کی خوش خبری دی ۔ اس کے بعد فرمایا: یہ کافر اللہ تعالی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ انھیں ہم جو ڈھیل ( دنیاوی عیش و آرام کی صورت میں ) دے رہے ہیں اس میں ان کا کچھ بھلا ہے نہیں بالکل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ ان کے گناہ اتنے بڑھ جائیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔ رکوع کے آخر میں کنجوس لوگوں کو ڈرایا گیا ہے۔
رکوع نمبر :10
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں بتایا کہ یہ بد بخت لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرتے ہیں ( رسول اللہ ﷺ پر بھی ان لوگوں نے قاتلانہ حملہ کیا تھا ) اس کے بعد آپ ﷺ کو تسلی دی کہ یہ اہل کتاب صرف آپ ﷺ کو نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو جھٹلایا ہے اور دنیا کی زندگی تو بس ایک دھوکہ ہے اور تم کو اہل کتاب اور کافروں سے اذیت پہنچے گی تو صبر کرنا، یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کچھ نہ چھپانا لیکن ان لوگوں نے دنیاوی فائدے کے لئے (توریت میں آپ ﷺ کے اوصاف کو چھپالیا اور بہت بڑے نقصان میں پڑ گئے۔
رکوع نمبر :11
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بیان فرمائیں اور ایمان والوں ( عقلمندوں) کے غوروفکر کرنے اور اُن کی دعاؤں کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد جن ایمان والوں نے اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کیا اور اس کی آزمائشوں پر پورے اترے انھیں کامیابی کی بشارت دی کہ وہ ہمیشہ جنت میں آرام سے رہیں گے اور کافروں کو عذاب کا مژدہ سنایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سچے مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ (سورہ آل عمران مکمل)
سوره النساء
رکوع نمبر 12
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر مسلمانوں کو احکامات دیئے ہیں۔ رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک جان ( حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا فرمایا۔ اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور اس جوڑے سے بہت سے مرد اور عورت پیدا فرما کر پوری دنیا کو آباد کر دیا۔ اس کے بعد یتیموں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ درمیان میں ترکہ اور وراثت کے کچھ احکامات دیئے اور رکوع کے آخر تک یتیموں کے بارے میں احکامات دیئے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس پورے رکوع میں وراثت کے احکامات دیئے ہیں ۔ لڑکا اور لڑکی کے بارے میں ، اگر صرف لڑکیاں ہو تو ان کے بارے میں ، ماں باپ کے بارے میں، بہن بھائی کے بارے میں ، مرد کے ترکہ میں بیوی کا حصہ، عورت کے ترکہ میں شوہر کے حصہ کے متعلق احکامات دیے ہیں۔ رکوع کے آخر میں فرمایا : یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو ان پر قائم ربا وہ کامیاب ہوگا اور جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی اور حد کو پار کر گیا تو وہ آگ کا مستحق ہے۔
رکوع نمبر 14
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بدکار عورت اور بدکار مرد کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد تو بہ کے بارے میں بتایا کہ توبہ اُسی کی قبول ہوگی جو غلطی کرنے کے بعد توبہ کرلے اور عہد کر لے کہ دوبارہ یہ گناہ نہیں ہوگا اور اس پر قائم رہے اور جو گناہ پر گناہ کرتا جائے (اس خیال سے کہ توبہ کر لوں گا) اور جب آخری وقت آجائے تو توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جو کا فر مرے۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم اور مہر کے بارے میں کچھ احکامات دیئے۔ (چوتھا پارہ مکمل )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں