خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 3
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1:
اس رکوع میں دوسرے پارے کی چار آیات ہیں اور پھر تیسرا پارہ شروع ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جب طالوت بنی اسرائیل کا لشکر لے کر چلے تو کہا: راستے میں ایک نہر پڑے گی اور اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ جو پیٹ بھر کر پانی پئے گا وہ ناکام ہوگا اور جو ایک چلو پانی پئے گا وہ کامیاب ہو گا ۔ لگ بھگ 80 ہزار بنی اسرائیل کے لشکر میں سے لگ بھگ 76 ہزار لوگوں نے پیٹ بھر کر پانی پیا اور نا کام ہو کر واپس لوٹ گئے ۔ باقی 4 ہزار میں سے بھی اکثریت واپس لوٹ گئے اور طالوت کے ساتھ صرف اتنے رہ گئے جتنے آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر دیا اور بنی اسرائیل کو فتح ہوئی۔
رکوع نمبر 2
اس رکوع میں آیت الکرسی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کے خالق اور مالک ہونے اور حاکم ہونے اور کائنات کا نظام سنبھالنے کا بیان بہت بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ دین اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ بے شک دین اسلام بہت صاف اور واضح ہو گیا ہے اور اب جس نے اسلام قبول کرلیا تو حقیقت میں اس نے بہت مضبوط سہارا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا ولی ہے۔ وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کافروں کا ولی شیطان ہے کہ انھیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔
رکوع نمبر 3 اور رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے مناظرے کو بتایا پھر حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ بتایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعہ کو بتایا کہ جس طرح مردہ پرندوں کو زندہ کیا، اسی طرح اللہ تعالی قیامت میں سب کو زندہ کرے گا ۔ اس کے بعد صدقہ کو اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے یہ بتایا اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ جن کو صدقہ دیا کرو انھیں تکلیف نہ دو اور احسان نہ بتاؤ اور دکھاوے کے لئے صدقہ نہ دو۔ کہیں ایسا نہ ہو تمہارے صدقے بے کار ہو جا ئیں ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اچھے صدقے اور بُرے صدقے کی مثال بیان فرمائی۔
رکوع نمبر 5
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی تلقین کی ہے کہ اپنی کمائیوں میں سے اور جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین سے رزق نکالا ہے اس میں سے دو اور خراب چیز مت دو کہ اگر وہ چیز تمہیں دی جائے تو تم نہیں لو گے بلکہ اچھی چیز دو جسے تم خود پسند کرتے ہو اور شیطان ڈراتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے صدقہ و خیرات کرنے سے محتاجی آجائے گی اور بے حیائی سکھاتا ہے اور اللہ تعالی تم سے بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور خیرات چاہے کھلے عام دو یا چھپا کر دو، دونوں ٹھیک ہے اور اگر چھپا کر دو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اُن لوگوں کو دو جو واقعی مستحق ہیں مگر حیا اور عار کی وجہ سے مانگتے نہیں اور تم جو بھی دو گے اس کا پورا اجر ملے گا۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خوش خبری دی ۔ اس کے بعد سود کے حرام ہونے کا حکم بیان فرمایا کہ سود اور تجارت دو الگ چیزیں ہیں ۔ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سود کو ہلاک کرتا ہے اور صدقہ و خیرات کو بڑھاتا ہے اور حکم دیا کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو ۔ آگے فرمایا کہ جس کو قرض دیا ہے اگر وہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مہلت دو اور اگر قرض معاف کردو تو یہ تمہارے لئے اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا بھر پور بدلہ عطا فر مائے گا۔
رکوع نمبر 7 اور رکوع نمبر 8
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور اس پر دو مرد گواہ بنا لو اور اگر ایک ہی مرد ملے تو اس کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنا لو اور گواہ کو بھی جب بھی بلایا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ خوشی خوشی حق بات کہنے کے لئے آئے اور اگر ہاتھوں ہاتھ لین دین کرو اور نہ لکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو ضمانت کے طور پر کچھ دے دو۔ اگر دونوں کا آپس میں اطمینان ہو تو ٹھیک ہے۔ اس کے بعد رکوع نمبر 8 میں وہ دعا ہے جو صرف رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائی گئی اور آپ ﷺ کے علاوہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئی ، اس دعا کے اختتام پر سورہ بقرہ مکمل ہو گئی۔
سوره آل عمران
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی وحدانیت کے بیان کے بعد فرمایا۔ یہ قرآن پاک سچی کتاب ہے اور توریت اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اور لوگوں کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا نہیں ہے اور وہی ہے جو تمہاری والدہ کے پیٹ میں بالکل ٹھیک ٹھیک تمہارے ہاتھ ، پیر، کان ، ناک اور آنکھ بنا تا ہے اور اس قرآن پاک میں صاف صاف اور مشتبہ آیات ہیں ۔ مؤمن تو صاف صاف آیات کو لیتے ہیں اور جن کے دلوں میں خرابی ہے وہ مشتبہ آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور مؤمن تو یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے رب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ہدایت پر قائم رکھ۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کو اپنے عذاب سے ڈرایا اور فرعون کی مثال دی ۔ اس کے بعد اورغزوہ بدر میں مسلمانوں کی مدد کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ دنیا لوگوں کے لئے سجادی گئی ہے اور انسان اپنی خواہشات ، اپنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے خزانوں اور اپنے جانوروں اور زمین جائداد کو ہی اپنی پونجی سمجھتا ہے جب کہ یہ سب دنیا میں رہ جائے گا اور اللہ تعالی کے پاس اس سے اچھا ٹھکانہ ہے۔ بس جو خالص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل کرے گا تو اسے جنت ملے گی۔ جہاں نہریں اور پاک بیویاں ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالی اُن سے راضی ہوگا۔ آگے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہر مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں ۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا ادب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رات کے آخری پہر روروکر اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔ آگے فرمایا: بے شک اصل دین اسلام ہے اور اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) حق واضح ہونے کے بعد بھی حسد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ تو اے رسول ( ﷺ) اگر وہ تم سے بحث کریں تو فرما دو کہ میں نے اللہ تعالی کے آگے سر جھکا دیا ہے اور مسلمانوں سے بھی، اور ان سے کہو اللہ تعالی کے آگے سر جھکا ئیں ۔ اگر انھوں نے تمہاری بات مان لی تو کامیاب ہوں گے ورنہ اللہ تعالی انھیں دیکھ رہا ہے۔
رکوع نمبر 11
رکوع نمبر 10 میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کا ذکر چل رہا تھا۔ اس رکوع میں بھی اللہ تعالی نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے اور نبیوں کو حق بات کہنے والوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کے عمل بے کار ہو گئے ہیں۔ جب انھیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایسا وہ اس جھوٹے گمان کی وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ کچھ ہی دن دوزخ میں رہیں گے ۔ یہ اسی دن معلوم ہو گا جب ہم سب کو جمع کریں گے ۔ آگے یہ بیان ہے کہ اللہ تعالی ہی جسے چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے ۔ وہی دن میں سے رات کو اور رات میں سے دن کو اور زندہ میں سے مردہ کو اور مروہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع ( پیروی) کرنے کی تلقین فرمائی ۔ اس کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا (حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ) کی پیدائش اور انھیں مسجد کی خدمت میں دینے کا واقعہ بیان فرمایا اور حضرت ذکریا علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ بیان فرمایا۔
رکوع نمبر :13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش اور نماز کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور آپ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام توریت کی تصدیق کرنے آئے تھے اور جب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کا انکار کیا تو اس وقت حواریوں نے آپ علیہ السلام کا ساتھ دیا۔
رکوع نمبر 14
اس رکوع میں اللہ تعالی نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینے کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو ماننے والے (عیسائی) آپ علیہ السلام کا انکار کرنے والوں (یہودیوں) پر غالب رہیں گے اور پھر سب کو میں جمع کروں گا اور صحیح فیصلہ کر دوں گا اس بات کا جس کے بارے میں تم جھگڑتے ہو اور آگے فرمایا: حضرت عیسٰی سے فرمایا اب اس کے علیہ السلام کو میں نے ایسے ہی بنایا ہے جیسے میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: اب اس کے بعد یہ لوگ (عیسائی) انکار کریں تو ان کو مباہلہ کی دعوت دو۔
رکوع نمبر 15:
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: اہل کتاب سے کہو کہ آؤ! ان باتوں پر متفق ہو جا ئیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان یکساں ہیں وہ یہ کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو رب نہ بنائے اور اگر وہ نہ مانیں تو صاف کہہ دو کہ تم گواہ رہنا ہم تو مسلمان ہیں ۔ آگے فرمایا تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو۔ آپ علیہ السلام تو توریت اور انجیل نازل ہونے سے پہلے تھے اور آپ علیہ السلام نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی بلکہ صرف مسلمان تھے ۔ جیسے ہم مسلمان ہیں اور سب سے زیادہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بات کے حقدار ہیں کہ اُن کی اتباع ( پیروی) کی جائے ۔ آگے فرمایا: یہ اہل کتاب اپنی طرح تمہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر اہل کتاب سے کہا: میری آیتوں کا انکار نہ کرو اور حق اور باطل کو خلط ملط نہ کرو اور حق کو نہ چھپاؤ۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں اہل کتاب کے ایک گروہ کے بُرے عمل کو بتایا کہ وہ صبح رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے تھے اور شام کو انکار کر دیتے تھے تا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم شرک میں مبتلا ہو جائیں۔ اس کے بعد فرمایا: فضل یعنی نبوت و رسالت تو بس اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جسے چاہے دے۔ پھر اہل کتاب کے اس جھوٹ کو کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ ان پڑھوں (مسلمانوں) کے بارے میں ہماری پکڑ نہیں کرے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کی خیانتوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ان کی آسمانی کتابوں میں ملاوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی کتاب میں ہیر پھیر بھی کرتے تھے اور اپنی طرف سے لکھ کر کہتے تھے کہ (نعوذ باللہ) یہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
رکوع نمبر 17
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے عہد لینے کا ذکر فرمایا ہے۔ اکثر علمائے کرام نے لکھا ہے کہ یہ عہد تو حید اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا اور ان کی مدد کرنے کا عہد تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اُس ( قرآن ) پر جو ہماری طرف نازل ہوا۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام پر اور ہم ان میں کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم مسلمان ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا جو ایمان لانے کے بعد کا فر ہو گئے یعنی یہودی اور عیسائی اور رسول اللہ ﷺ کو سچا ماننے کے بعد انکار کر دیا۔ اُن پر فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے۔ ہاں جو توبہ کرلے تو اللہ رحم کرنے والا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں