خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 27
مغرب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ فرشتے انسان کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام نے مہمانوں کو دیکھا تو کھانے کا انتظام کیا لیکن مہمانوں نے نہیں کھایا تو آپ علیہ السلام کو حیرت ہوئی ۔ فرشتوں نے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جارہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو تباہ کر دیا اور دنیا کے لئے نشانی بنا دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لوگوں کے پاس بھیجا تو اُس نے آپ علیہ السلام کو جادوگر اور دیوانہ کہا۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے دریا میں غرق کر دیا اور آخری وقت میں وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک قوم عاد، قوم ثمود اور قوم نوح کی تباہی کے حالات بیان فرمائے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنائے اور زمین بچھایا اور ہر چیز کے جوڑے بنائے تا کہ تم غور کرو اور آپ ﷺ تو صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دینے والے ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے تو کافروں نے انھیں جادوگر اور دیوانہ ہی کہا۔ آپ ﷺ کافروں کی طرف توجہ نہ کریں تو آپ ﷺ پر کوئی الزام نہیں ہے۔ آپ ﷺ انھیں سمجھا ئیں اسلام سمجھنا چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کا سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے بنایا۔
(سورۃ الذاریات مکمل)
سورة الطور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں کوہ طور، لکھی ہوئی کتاب، بیت المعمور، آسمان اور سلگتے ہوئے سمندر کی قسم کھا کر بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب (قیامت کا دن) ضرور آنے والا ہے اور اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اُس دن آسمان بہت بُری طرح ہلایا دیا جائے گا اور پہاڑ بھی بہت تیزی سے چلائے جائیں گے۔ اُس دن کا فروں کا بہت برا حال ہوگا ۔ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں مگن ہیں ۔ اُس دن یہ لوگ جہنم کی طرف ڈھکیلے جائیں گے اور پھر گناہوں سے پر ہیز کرنے والے مسلمان چین سے جنت میں رہیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک جنت میں جو عیش و آرام دیا جائے گا اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں کو نصیحت کرو ۔ آپ ﷺ نہ تو کا ہن ہیں نہ ہی مجنون اور نہ ہی شاعر ہیں ۔ یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ قرآن پاک ( نعوذ باللہ ) خود بنایا ہے۔ اگر یہ اپنی بات میں سچے ہیں تو اس قرآن پاک جیسی ایک بات لے آئیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ اُس دن ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
(سورۃ الطور مکمل)
سورة النجم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ وہی فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ اس کے بعد معراج کا واقعہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ کافر لوگ اپنے لئے بیٹے اور اللہ تعالی کے لئے بیٹیاں کہتے ہیں ۔ یہ تو سخت بھونڈی تقسیم ہے اور بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ جن کی یہ کافرعبادت کرتے ہیں وہ صرف کچھ نام ہیں جو ان کے باپ دادا نے رکھ لئے تھے اور دنیا اور آخرت سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں اور جس کو اللہ تعالی شفاعت کی اجازت دے وہی شفاعت کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا ۔ اس کے بعد فرمایا : جولوگ فرشتوں کا نام عورتوں جیسا رکھتے ہیں وہ ایمان والے نہیں ہیں ، وہ جھوٹا گمان کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ اس کی طرف توجہ نہ دیں ۔ دیں ۔ جس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ لوگ دنیا کی زندگی چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالی جانتا ہے کہ کون سید ھے راستے پر ہے اور کون بھٹکا ہوا ہے اللہ تعالی ہی زمین اور آسمانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالی برائی کرنے والوں کو عذاب دے گا اور نیکی کرنے والوں کو اچھا صلہ عطا فرمائے گا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جو جیسی کوشش کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے جوڑے بنائے اور اللہ تعالی ہی میدان حشر میں سب کو جمع کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کو ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے ہلاک کیا۔ تو اے کافرو! اللہ تعالی کی کون کون سی نعمتوں پر شک کرو گے؟ قیامت قریب آگئی ہے اور اللہ تعالی کے سوا کوئی قیامت برپا نہیں کر سکتا اور تم لوگ اس پر تعجب کرتے ہو اور روتے نہیں۔ اور تم لوگ دنیا کی زندگی میں مگن ہوتو تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کوسجدہ کرو۔
(سورہ النجم مکمل)
سورة القمر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قیامت قریب آگئی ہے اور اس کے قریب آنے کی نشانی چاند کے دو ٹکڑے ہونا ہے ۔ اتنی صاف نشانی دیکھنے کے بعد بھی کافروں نے انکار کر دیا اور بولے کہ یہ جادو ہے ۔ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ جب قیامت آئے گی تو کافر لوگ اپنی نظروں کو نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکلیں گے اور کہیں گے کہ آج کا دن بہت سخت ہے۔ اس کے بعد قوم نوح اور قوم عاد کی سرکشی اور ان پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک یاد کرنے کے لئے آسان ہے۔ تو ہے کوئی اس کو یاد کرنے والا؟
رکوع نمبر 9: اللہ تعالی نے اس رکوع میں قوم ثمود اور قوم لوط کے بارے میں بتایا کہ ان قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا اور سر کشی کی اور عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن پاک یاد کرنے والوں کے لئے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی اس کو یاد کرنے والا؟
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالٰی نے تمام کا فر اور سرکش قوموں پر گرفت کی (تو اے مکہ کے کافرو!) تم سے پہلے گزر چکے کافر کیا بہتر تھے؟ اور کیا ( آسمانی ) کتابوں میں تمہاری ( جہنم سے) آزادی لکھی ہوئی ہے؟ یا پھر یہ کہتے ہو کہ ہم سب پہلے کے اور بعد کے کافرمل کر ( اللہ تعالی سے ) بدلہ لے لیں گے ۔ اللہ تعالی نے سب کافروں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی ہے اور قیامت کے دن ان سب کافروں کو پکڑے گا۔ اُس دن یہ سب اپنے مونہوں کے بل آگ میں ڈھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ جہنم کی آنچ کا مزہ چکھو ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے بہت سے کافروں کو ہلاک کر دیا اور انھوں نے جو کچھ کیا وہ سب فرشتوں نے لکھ لیا ہے۔
(سورۂ القمرمکمل)
سورہ الرحمن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن پاک سکھلایا ۔ اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق فرمائی اور علم عطا فرمایا۔ سورج اور چاند کو ان کے مدار پر مقرر فرمایا اور ستارے اور پیڑ پودے سجدہ کرتے ہیں اور آسمان کو بلند کیا اور زمین کو پھیلایا۔ اور ترازو رکھا تا کہ انسان عدل و انصاف سے کام لے اور نا انصافی و ظلم نہ کرے اور زمین میں تمام مخلوق کے لئے رزق رکھا۔ اس میں سے تمہارے لئے میوے اور کھجور ہیں اور اناج اور خوشبو والے پھول پیدا فرمائے تو اے جنات اور انسان ! تم اللہ تعالی کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ( انکار کرو گے ) اور انسان کو مٹی سے بنایا اور جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا اور اللہ تعالی مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور اس نے دو سمندر بنائے جو آپس میں ملے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اُن کے درمیان ایک آڑ ہے تو وہ ایک دوسرے سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے، تو اے جنات اور انسان! تم اپنے رب ( اللہ تعالی ) کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی اپنے رب ہونے کی نشانیوں کا ذکر جاری رکھا اور بتایا کہ زمین پر جتنی مخلوق ہے اُن سب کو ایک مقررہ مدت کے بعد اللہ تعالی فنا کر دے گا اور باقی رہنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد انسانوں اور جنات سے حساب لے گا۔ اگر تم تمام انسان اور جنات زمین اور آسمان سے نکلنا چا ہو تو نکل جاؤ لیکن جہاں بھی جاؤ گے۔ وہاں پر اللہ تعالی ہی کی حکومت اور بادشاہت ہے تو کافروں پر بغیر دھویں کی کالی آگ چھوڑی جائے گی۔ جب آسمان پھٹ جائے گا اور گلابی ہو جائے گا جیسے سرخ چمڑا تو اس دن گنہگار اور مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے تھے ۔ پھر انہیں اس کے بے حد جلتے اور کھولتے پانی میں ڈالا جائے گا۔ تو اے انسانو اور جنات! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں کافروں اور اُن پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اب اس رکوع میں مومنوں اور جنت میں اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ مومنین کے لئے دو جنتیں ہیں ۔ اُن میں دو چشمے بہتے ہیں۔ ان میں ہر میوہ دوقسم کا ہے۔ وہ اپنے ریشمی بچھونوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے اور دونوں قسم کے میوے اتنے نیچے جھکے ہوں گے کہ ہاتھ بڑھا کر توڑ لو اور اُن کے ساتھ ایسی عورتیں ہوں گی جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں۔ تو اے انسان اور جنات ! تم اپنے رب کی کون کون نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان دو جنتوں کے علاوہ بھی دو جنتیں ہیں اور وہاں بھی اسی طرح کا عیش و آرام ہے۔ تو اے انسان اور جنات ! تم اپنے رب کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ تو بڑی برکت والا عظمت والا اور بزرگی والا ہے۔
(سورہ الرحمن مکمل )
سورہ الواقعه
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ وہ ضرور آئے گی اور جب آئے گی تو ہر کوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکے گا۔ وہ (قیامت) کسی کو جہنم میں جانے کی وجہ سے پست کرے گی اور کسی کو ( جنت میں جانے کی وجہ سے) بلند کرے گی ۔ جب زمین تھرتھرا کر کانپے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر دھول بن جائیں گے اور غبار بن کر اڑیں گے تو تمام انسان اور جنات تین قسم کے ہو جائیں گے ۔ ایک قسم دائیں طرف والوں کی ہوگی ، دوسری قسم بائیں طرف والوں کی ہوگی اور تیسری قسم سبقت لے جانے والوں کی ہوگی۔ یہ سب سے بہتر ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب ( سب سے قریبی ) ہوں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اللہ تعالیٰ سبقت لے جانے والے اور دائیں طرف والے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے جو عیش و آرام پائیں گے اس کا تفصیلی ذکر فرمایا۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور رکوع کے شروع میں بائیں طرف والوں کو جو عذاب دیا جائے گا ، اس کا تفصیلی ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں پیدا فرمایا تو تم سچ کو تسلیم کیوں نہیں کرتے تو کیا تم لوگ اپنی اولاد کو بناتے ہو؟ یا اللہ تعالیٰ بناتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہاری موت مقرر کر دی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں ختم کر کے تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور تمہاری صورتیں ایسی کر دے جس کا تم کو اندازہ ہی نہ ہو تو پھر سوچتے کیوں نہیں ؟ تم ہی بتاؤ تو جو کچھ تم بوتے ہو، اُسے تم کھیتی بناتے ہو یا اللہ تعالی بناتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ چاہے تو اناج کے بدلہ گھاس پھونس اُگے، پھر تو تم افسوس کرتے رہ جاؤ گے ۔ بھلا بتاؤ ؟ بادلوں سے بارش تم برساتے ہو یا اللہ تعالی برساتا ہے؟ اور اللہ تعالٰی چاہے تو بارش کے پانی کو کھارا کردے تو پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے اور سمجھتے کیوں نہیں؟
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن ہے اور ایسا ہے کہ اس کی عزت کی جائے تو اسے صرف پاک لوگ چھو سکتے ہیں اور تمام عالمین کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تو کچھ لوگ اس قرآن پاک پر عمل کرنے میں سستی کرتے ہیں کچھ لوگ اس قرآن پاک کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور قیامت کے دن قرآن پاک میں سے ہر ایک کے حصہ کے مطابق بدلہ دیا گا۔ دائیں طرف والے تو چین اور راحت کے باغ میں رہیں گے اور اُن پر سلام ہوگا اور بائیں طرف والوں کا استقبال ان کی گمراہی کی وجہ سے کھولتے پانی اور بھڑکتی ہوئی آگ سے جائے گا اور یہ یقینی بات ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔
(سورہ الواقعہ مکمل)
سورة الحديد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ زمین اور آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کی ہی سلطنت ہے ۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے۔ وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین اور آسمان چھ دن میں بنائے ، پھر عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ اللہ تعالی تمہارے سب کام دیکھ رہاہے اوراللہ تعالی ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالی نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرو اور اس پر تمہیں بہت بڑا ثواب ملے گا ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا اور فتح مکہ کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ مرتبہ میں برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ ان سب سے جنت کا وعدہ فرما چکا ہے۔
رکوع نمبر 18:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد پل صراط پر مومنوں اور منافقوں کی کیفیت بیان فرمائی کہ پل صراط پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کا نور ان کے آگے ، پیچھے، دائیں بائیں اور اُن کے ساتھ دوڑتا ہو گا اور منافق مرد اور منافق عورتیں اُن کے نور میں سے کچھ حصہ مانگیں گے تو مومنین کہیں گے : واپس جاؤ اور اپنا نور وہاں ڈھونڈو۔ وہ واپس جائیں گے تو دونوں کے درمیان ایک دیوارکھڑی کر دی جائے گی ، جس میں دروازہ ہو گا ، اس کے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی اور دوسری طرف عذاب ہوگا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتوں کے لئے دوہرا ثواب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان لائیں وہی کامل بچے ہیں اور دوسروں پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔ اُن کے لئے اُن کا ثواب اُن کا نور ہے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ دنیا کی زندگی تو وقتی ہے اور دکھاوا ہے اور تم جو ایک دوسرے پر مال اور اولاد کی وجہ سے بڑائی مارتے ہو تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہو، دنیا کی مثال تو اُس گھاس کے جیسی ہے جو بارش کی وجہ سے اگتی ہے۔ ہری بھری ہوتی ہے پھر سوکھ کر کچرا بن جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ برائیوں سے بچ کر نیک اعمال کر کے اللہ تعالٰی کی بخشش اور جنت کی طرف بڑھو ۔ جس کی چوڑائی زمین سے آسمان تک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو بڑائی مارنے والے، اترانے والے گھمنڈی لوگ پسند نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو کتاب دے کر بھیجا اور تمہارے لئے لوہا اتارا ، جس سے تم تلوار اور زرہ وغیرہ بناتے ہو اور جو اللہ تعالی پر بغیر دیکھے ایمان لائے گا اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرے گا حقیقت میں وہی کامیاب ہے۔
رکوع نمبر 20
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھیجا اور ان کی اولاد ( بنی اسرائیل ) میں نبوت اور کتاب رکھی تو اُن میں سے کچھ ہی لوگ ہدایت پر تھے اور اکثر فاسق تھے ۔ پھر اللہ تعالی نے اُن میں بہت سے رسول بھیجے اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور انجیل عطا فرمائی ۔ اُن کے ماننے والوں ( عیسائیوں) کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور رہبانیت کا حکم اللہ تعالی نے نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے خود نکالا۔ اس پر بھی اللہ تعالی نے انہیں ثواب دیا لیکن وہ اس پر قائم نہ رہ سکے تو اے ایمان والو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ۔ اللہ تعالی تمہیں دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں