خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر (26)
سورة الاحقاف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عزت والا ، حکمت والا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان حق کے ساتھ بنائے کہ ایک مقررہ وقت تک انھیں قائم رکھے گا پھر ( قیامت کے دن ) تباہ کر دے گا اور کافر اللہ تعالی کا اور قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جن کو اللہ تعالی کے سوا پوجتے ہو انھوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا؟ یا آسمان کا کون سا حصہ بنایا؟ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کی وہ بہت بڑا گمراہ ہے اور میدان حشر میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کا فروں کے دشمن جائیں گے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو جان بوجھ کر ا نکار کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جنھوں نے اسلام قبول کیا پھر اس پر آخر تک قائم رہے ، انھیں جنت کی بشارت ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کہ انسان کو اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا پھر وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے تیس مہینے تک اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور دودھ پلایا پھر وہ جوان ہوا اور چالیس برس کا ہوا اپنے والدین کی خدمت کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ اے اللہ! مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری دی ہوئی نعمت (اسلام) کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی اور مجھ سے اپنی پسند کے مطابق کام لے اور میری نسل میں بھلائی ( اسلام اور نیکیاں ) رکھ دے۔ تو یہ جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اپنے والدین کو بُرا بھلا کہا اور بُرا سلوک کیا اور کہا کہ تم اسلام کی دعوت دیتے ہو اور آخرت کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہو یہ تو صرف کہانیاں ہیں اور کچھ نہیں ۔ تو وہ بہت بڑے نقصان میں رہا اور جہنم والوں میں سے ہے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کے بارے میں بتایا کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے اور کہا: اگر تم سچے ہو تو لے آؤ اللہ تعالیٰ کا عذاب ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب بادل کی شکل میں آیا تو خوش ہو گئے کہ ہم پر برسے گا لیکن وہ ایک زبر دست آندھی تھی، جس نے اُن کو ہلاک کر ڈالا اور اُن کو اُس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی کافر بستیوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ لوگ جن کی عبادت کرتے تھے وہ اُن کی کچھ مدد نہ کر سکے بلکہ وہ تو غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد اُن مسلمان جنات کے بارے میں بتایا جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو اپنی قوم میں جا کر اسلام کی دعوت دی اور کہا: ہم نے ایک کتاب ( قرآن پاک کی تلاوت سنی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب (توریت) کے بعد اتاری گئی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اے ہماری قوم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات مانو اور جو رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے سے انکار کرے گا وہ کھلا گمراہ ہے۔ اس کے بعد کافروں پر عذاب کے بارے میں بتایا ۔
( سورة الاحقاف مکمل)
سورہ محمد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کافروں کے عمل برباد ہو گئے اور ایمان لانے والے جنھوں نے نیک اعمال کئے اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی وہ کامیاب ہو گئے ۔ کافر باطل کی پیروی کرتے ہیں اور ایمان والے حق کی پیروی کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد جنگ کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور کافروں کے مقابلہ میں تمہارے قدم جما دے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: مسلمانوں کا مولیٰ اللہ تعالٰی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور بتایا کہ جنت میں پانی کی ، دودھ کی، شہد کی اور شراب کی نہریں ہیں۔ ہر قسم کے پھل اور میوے ہیں۔ یہ سب ایمان والوں کے لئے ہیں۔ کافر تو اس طرح دنیا میں رہتے اور کھاتے ہیں جس طرح جانور رہتے اور کھاتے پیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو کافروں کے لئے جہنم ہے۔ جس میں آگ ہے اور انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو اُن کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا تو یہ کافر قیامت کے انتظار میں ہیں جو اچانک آئے گی۔ رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی کی دعا مانگتے رہو۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا جب جہاد کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو مؤمنین خوش ہوتے ہیں اور ان کا جوش ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور منافقین کے منہ لٹک جاتے ہیں اور انکے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں فرمایا کہ شیطان نے انھیں فریب دیا اور مدتوں دنیا میں رہنے کی امید دلائی اور ان اہل کتاب کو یہ ناگواری ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں آئے اور اس لئے یہ جانتے ہوئے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں پھر بھی آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں منافقین کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ ان کے دلوں کا نفاق چھپا رہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دکھا دے اور آپ ﷺ ان سب کو صورتوں سے پہچان لیں ۔ ویسے بھی ان کی بات چیت اور عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ منافق ہیں تو اللہ تعالیٰ جنگ کے ذریعہ ضرور مؤمن اور منافق کو جانچے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کے بارے میں بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ ہدایت پر ہیں ۔ اور اس کے بعد ﷺ کا انکار کر کے کفر کرتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے بلکہ ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو جائے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، اور اس کے رسول ﷺ کاحکم مانو پھر فرمایا: جو کافر ( کفر کی حالت میں ) مر گئے تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو ۔
(سورہ محمد مکمل )
سورة الفتح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو کھلی، روشن اور صاف فتح کی بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کی اگلی اور پچھلی سب کوتاہیوں کو بخشتا ہے اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا اور ان کا اللہ تعالٰی پر یقین بڑھ گیا تو ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور منافق مردوں ، منافق عورتوں اور مشرک مردوں و مشرک عورتوں کو عذاب دے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تو قیر کرو اور صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان (تسبیح) کرو۔ رکوع کے آخر میں ان صحابہ کرام کو کامیابی کی بشارت دی۔ جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس جائیں گے تو یہ لوگ معذرت کریں گے اور معافی اور بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں گے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں گے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک سخت جنگ کے ذریعہ تمھیں آزمائے گا۔ اگر تم اس جنگ میں ثابت قدمی سے لڑے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر پیٹھ دکھائی تو نا کام ہو جاؤ گے۔ ہاں ! اندھا اور لنگڑا اور بیمار جنگ پر نہ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ان ایمان والوں سے جنھوں نے درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کی۔ اللہ تعالی ان کے دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان اتارا اور انھیں بہت ہی جلد آنے والی فتح ( فتح خیبر ) کا انعام دیا۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کا فرتم سے لڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا کوئی حمایتی و مددگار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شروع سے یہی دستور ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک صلح حدیبیہ کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے خواب کو سچ کر دیا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سب مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ داخل ہو گئے، اپنے سروں کے بال منڈاؤ گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے فتح (فتح خیبر ) رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس لئے بھیجا تا کہ اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ اس کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے کہ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھی ( صحابۂ کرام ) کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اور یہ اوصاف اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں برس پہلے تو ریت اور انجیل میں بیان فرمائے تھے اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے ثواب اور بخشش کا وعدہ ہے۔
(سورۃ الفتح مکمل)
سوره الحجرات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھلایا کہ نہ تو رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں تیز آواز ( اونچی آواز ) اور تیز لہجے میں بات کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ ادب سے متوجہ کرو ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو پہلے تحقیق کر لو۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ایمان کو تمھارے دلوں میں آراستہ کیا اور پیارا کر دیا اور کفر اور نا فرمانی سے نفرت پیدا کر دی۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی مسلمانوں کو احکامات دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور فرمایا: مسلمانو کسی مرد کا مرد لوگ مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے جن کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ تم سے کہیں بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو اور ایک دوسرے کو بُرے نام سے نہ پکارو اور سب سے بُرا نام تو ( مسلمان ہو کر ) فاسق کہلانا ہے اور بد گمانی سے بچو اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اللہ تعالی نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تا کہ تم آپس میں پہچانے جاؤ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی عزت ہے جو ایمان لائے ، نیک کام کرے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اُن لوگوں کے بارے میں ہدایات دیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کا دعوی کیا اور اسلام اُن کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
(سورۃ الحجرات مکمل)
سورة ق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کافر اس لئے حیران ہیں کہ آپ ﷺ ان ہی میں سے تشریف لائے اور کہتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو زندہ کیسے ہوں گے ؟ اللہ تعالی کی طرف پلٹنا تو دور کی بات، انھوں نے آسمان پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اُس میں ذرا سی بھی دراڑ نہیں ہے اور اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے جس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اور اُس میں سے ہر پیٹر پودوں اور ہر چیز کا جوڑا اُگاتا ہے اور اناج اور کھجور اور بہت سے پھل پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی تمہیں تمہاری قبروں سے نکالے گا تو اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے آسان دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کے اندر وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور وہ انسان کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے اور ہر انسان کے دائیں بائیں کاندھوں پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیئے ہیں اور وہ دونوں انسان کی ہر نیکی اور ہر برائی کو لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد میدان حشر میں کافر کی کیفیت بیان فرمائی کہ کا فرجس شیطان کے بہکاوے میں آیا تھا اور کفر کیا تھا وہ بھی اُس کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو جہنم میں ڈالنے کا حکم فرمائیں گے۔ وہ کافر کا ساتھی شیطان کہے گا۔ اے میرے رب ! میں نے اسے کفر پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود گمراہی میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دونوں کو عذاب کا حکم ہو چکا ہے اور اللہ تعالی اپنی بات نہیں بدلتا اور نہ ہی اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں میدان حشر کے ذکر کو جاری رکھا اور بتایا کہ اللہ تعالٰی جہنم سے پوچھے گا : کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی : نہیں! کیا اور بھی کچھ ہے؟ اور جنت مومنوں کے سامنے لائی جائے گی اور اللہ تعالی کا حکم ہوگا کہ اس میں داخل ہو جاؤ اور اس میں ہمیشہ ہمیش کے لئے عیش و آرام سے رہو۔ نصیحت پر عمل وہی کرتا ہے جو دل رکھتا ہے اور توجہ سے کان لگا کر سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں بنایا اور اسے ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی آپ ﷺ اور مسلمان سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات گئے اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور جس دن زمین پھٹے گی تو سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔
(سورہ ق مکمل)
سورة الذاريات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں ہر طرح کی ہواؤں کی قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی اور اُس دن ہر ایک کا فیصلہ ہوگا اور کافر آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا: اب عذاب کا مزہ چکھ لو ۔ یہ ہے فیصلہ کا وہ دن جس کی تم کو جلدی رہا کرتی تھی اور متقی مومنین جنت میں باغوں اور چشموں میں آرام سے رہیں گے۔ یہ وہ بندے ہیں جو رات کو کم سوتے تھے اور رات کے آخری پہر میں توبہ اور استغفار کرتے رہتے تھے اور اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کو دیا کرتے تھے اور فرمایا: یہ قرآن پاک حق ہے اور ویسی ہی زبان میں نازل ہوا ہے جو تم بولتے ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں