خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (25)
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو کتاب ( توریت ) عطا فرمائی لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں اختلاف کیا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا ایک مقررہ مدت تک دنیا میں رہنا متعین نہیں ہوا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور بنی اسرائیل ایک دھو کہ میں ڈالنے والے شک میں ہیں ۔ جو نیک اعمال کرے گا تو وہ اپنے لئے نیکی کمائے گا اور جو برے اعمال کرے گا تو خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا ۔ جب انسان کو تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہت لمبی اور چوڑی دعا مانگتا ہے پھر جب اللہ تعالی اس تکلیف اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت کا مزہ دے کر احسان کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔
سورہ حم السجدہ مکمل
سورة الشورى
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ بلندی والا عظمت والا ہے اور فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تعریف کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالٰی نے عربی زبان میں آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ تمام شہروں کی اصل مکہ مکرمہ والوں کو اور دور والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور فرمایا : جن لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کو والی بنالیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں اور ظالموں کا (قیامت میں ) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی مددگار اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی والی ہے اور مُردہ کو زندہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ انسانوں کے جوڑے ان ہی میں سے اور چوپایوں کے جوڑے ان ہی میں سے بنائے اور سب کی نسلوں کو زمین پر پھیلایا۔ زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسی کی دعوت دی جس کی دعوت ( یعنی اسلام ) آپ ﷺ دے رہے ہیں۔ رکوع کے آخر میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ مسلمان اُس سے ڈرتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور کا فرقیامت کے جلدی آنے کا شور مچاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو
رکوع نمبر 4
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: جو آخرت کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو بڑھائے گا اور جو دنیا کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کچھ دے دے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد فرمایا: کافر لوگ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دنیا میں ایک مخصوص وقت تک رہنا متعین نہ کیا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا۔ اس کے بعد کافروں کو جو عذاب ہوگا اس کے بارے میں بتایا اور مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر اللہ تعالی سب بندوں کو وسیع رزق عطا فرماتا تو زمین میں فساد (برائیاں) پھیل جاتا۔ اس لئے جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے رکوع کے شروع بتایا انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کے بُرے اعمال کی وجہ سے آتی ہے اور بہت سے (برے اعمال) تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو جو مال و جائیداد عطا فرماتا ہے وہ دنیا تک ہی محدود رہ جائے گا۔ دنیا انسان کو کچھ ہی وقت کے لئے ملی ہے اور اللہ تعالی کے پاس آخرت کی زندگی ہے۔ جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کی خصوصیات بتائیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے دیئے رزق نیک کاموں میں خرچ کرتے اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط سلوک کرے تو تم بھی آتنا ہی کر سکتے ہو اور اگر معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے۔ یہ صبر ہے اور صبر کرنا بہت بڑی نیکی ہے
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے دن کافروں کی کیا حالت ہوگی اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کا کام صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی تمام کا ئنات کا بادشاہ ہے، وہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے ، وہ چاہے تو صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور چاہے تو صرف بیٹے عطا فرمائے اور چاہے تو دونوں ملا کر دے ( یعنی بیٹیاں اور بیٹے دونوں عطا فرمائے ) اور چاہے تو بانجھ رکھے، رکوع کے آخر میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک آپ ﷺ سیدھا راستہ بتاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کا بتایا ہوار استہ ہے۔
(سورہ الشوری مکمل)
سورہ الزخرف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7:
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اس لئے اتارا ہے تا کہ تم سمجھو اور یہ اصل کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تو ہر نبی اور رسول کا ان کی قوم کے کافروں نے مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب مذاق اڑانے والوں کو ہلاک کر دیا ، اس کے بعد سے رکوع کے آخر تک اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے بارے میں بتایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا۔ اس کے بعد بھی انسان شرک کرتا ہے۔ بے شک انسان بڑا نا شکرا ہے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے دو الزامات کو جھوٹا ثابت کیا۔ پہلا یہ کہ کافر کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے عطا فرماتا ہے اور اپنے لئے (نعوذ باللہ ) بیٹیاں رکھتا ہے۔ دوسرا الزام یہ کہ فرشتے (نعوذ باللہ ) عورتیں ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین پر دیکھا تو ہم بھی اسی دین پر چلیں گے۔ اس سے پہلے جب بھی کسی شہر میں اللہ تعالی نے ڈرانے والا ( یعنی نبی یا رسول ) بھیجا تو ان کی قوم کے کافروں نے بھی یہی جواب دیا تو اللہ تعالٰی نے اُن سے انتقام لیا۔ دیکھو انکار کرنے والوں ( کافروں ) کا کیسا برا انجام ہوا۔
رکوع نمبر9
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ آذر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ان بتوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔ اب چونکہ مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد بسی ہوئی تھی ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماکر مکہ مکرمہ کے کافروں کو سکھایا کہ یہ رسول ﷺ سب کو اسی اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام دعوت دیتے تھے۔ اب اگر تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہو تو آپ ﷺ کو بھی حق پر تسلیم کرلو۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں مکہ مکرمہ کے کافروں کو سمجھانے کے بعد اس رکوع میں فرمایا کہ اب جو رحمٰن ( یعنی اللہ تعالی ) کے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک شیطان کو لگا دے گا جو اسے اس کے برے اعمال کو اچھا کر کے بتائے گا۔ پھر جب دونوں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ایک دوسرے کو برا کہیں گے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راستہ بتا ئیں گے جب کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ بے شک آپ ﷺ سیدھے راستے پر ہیں۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو فرعون اور اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور فرعون نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میرے پاس سلطنت ہے اور محلات ہیں سونا چاندی ہے، اس کے پاس نہ تو سونا چاندی ہے اور نہ اس پر فرشتے آتے ہیں ۔ میں اس حقیر و بے قیمت سے کہیں بہتر ہوں ۔ فرعون کی قوم اس کے بہکاوے میں آگئی اور کا کہنا مان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے انھیں غرق کر دیا اور آنے والی نسلوں کے لئے انہیں داستان عبرت بنا دیا۔
رکوع نمبر :12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا رب ہے اور میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور تم سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کے حکم کی نا فرمانی مت کرو، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں اختلاف ہو گیا، ظالموں کی قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت میں وہ کس طرح عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد کافروں کو دوزخ میں جو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کافر اپنے مشورے کتنے بھی آہستہ آہستہ (سرگوشی میں ) کریں اللہ تعالی سب سن رہا ہے اور اس کے فرشتے لکھ رہے ہیں تو آپ ﷺ کا فروں اور اہل کتاب ( عیسائیوں اور یہودیوں ) سے کہہ دیں کہ اللہ تعالٰی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالی پاک ہے اور زمین ، آسمان اور عرش کا مالک ہے۔ اللہ تعالی علم والا ، حکمت والا ہے۔
( سورہ الزخرف مکمل )
سورة الدخان
رکوع نمبر :14
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کو برکت والی رات ( یعنی شب قدر ) میں اتارا اور اس رات میں اللہ تعالٰی کے حکم سے ہر حکمت والا کام بانٹ دیا جاتا ہے ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات کو بیان کر کے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ یہ بیان کی گئیں کہ وہ زمین اور آسمانوں کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اللہ تعالی ہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو تو وہ اُن پر ظلم کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو بچالیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا۔
رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب ( فرعون کی غلامی ) سے نجات دی۔ فرعون بہت تکبر اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا اور اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی اور نشانیاں (صحرا میں بادل کا سایہ من اور سلویٰ کا نزول وغیرہ) عطا فرمائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کو مذاق کے لئے نہیں بنایا بلکہ اسکی تخلیق کا ایک مقصد ہے لیکن اکثر لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور فیصلہ کا دن (یعنی قیامت) ضرور آئے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک رہنا ہے اور فیصلے کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ کافروں کی مدد کی جائے گی۔ ان کا کھانا تھوہڑ کا پیڑ ہوگا اور تانبے کی طرح کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ حوریں اُن کا استقبال کریں گی اور میوے اور بہترین ٹھنڈا پانی ملے گا۔
(سورۃ الدخان مکمل)
سورة الجاثيہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو عزت والا حکمت والا ہے، بے شک ایمان والوں کے لئے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اور انسان کی پیدائش میں اور تمام جانوروں میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور بارش میں ، جس کی وجہ سے مردہ زمین زندہ ہو کر پھل اور اناج دیتی ہے اور ہواؤں کی گردش میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں اور حق ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو چھوڑ کر کسی اور پر ایمان لائے گا اور غرور کرے گا اور اللہ تعالی کی آیتوں اور اللہ کے رسول ﷺ کا مذاق اڑائے گا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو اس رکوع میں جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور دریاؤں کو انسانوں کے بس میں کر دیا ہے، وہ اُن میں کشتیاں چلاتے ہیں تا کہ اللہ تعالی کا فضل تلاش کریں اور حق کو مانیں ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کام پر لگا دیا ہے ، اس میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں سے کہیں کہ وہ کافروں اور اہل کتاب سے درگزر کریں تا کہ اللہ تعالی ہر قوم کو اس کے اعمال کا بدلہ دے، جو بھلا کام کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو برا کام کرے گا وہ بھی اپنے لئے کرے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت ، حکومت اور کتاب ( توریت اور انجیل ) عطا فرمائی لیکن آپس میں حسد کی وجہ سے وہ اختلاف کر بیٹھے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا۔ ظلم ( انکار ) کرنے والے ( یعنی کا فر، یہودی اور عیسائی ) ایک دوسرے کے ولی ہیں اور مسلمانوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے تو ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو حق کے ساتھ بنایا تا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے اورکسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا، جو شخص حق اور سچائی کو سمجھ لینے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالی اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اسی میں جینا ہے اور اس میں مرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا (نعوذ باللہ) کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ سراسر گمراہی میں مبتلا ہیں اور جب ان کا فروں پراللہ تعالی کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو ہمارے باپ دادا کو لے آئیں۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالی ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا لیکن یہ لوگ اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔
رکوع نمبر 20
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے سراسر نقصان میں ہوں گے اور ہر گروہ کو اعمال نامے دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ یہ ہے وہ سب جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے سب لکھ رکھا تھا۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ کافروں سے کہا جائے گا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے دن کو بھلائے بیٹھے تھے اور دنیا کی زندگی میں مگن تھے، آج اللہ تعالی تم پر کوئی توجہ نہیں کرے گا اور وہ تمہیں بھلا دے گا ۔ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے آگ میں رہیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں