خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 24
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ( یعنی شرک کرتا ) ہے۔ جب اُس کے پاس حق (اسلام) آتا ہے تو انکار (کفر) کرتا ہے۔ کافروں کا بہترین ٹھکانہ جہنم ہے۔ جو سچ (اسلام) لے کر آئے ( یعنی رسول اللہ ﷺ ) اور جنھوں نے (مسلمانوں نے ) اُن کی تصدیق کی تو یہی متقی لوگ ہیں اور اُن کے اچھے کاموں کا بہترین صلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جسے گمراہ رکھنا چاہے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ رکوع کے آخر میں آپ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں سے کہو ، میں اپنا کام کرتا ہوں اور تم اپنا کام کئے جاؤ۔ قیامت کے دن جان جاؤ گے کہ کون کامیاب ہے اور کون نا کام؟
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں آپ ﷺ سے فرمایا : ان کافروں نے اللہ تعالیٰ کے مقابل سفارشی بنا رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ وہ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کو عقل ہے۔ ان سے کہو؛ شفاعت تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالی ہی زمین اور آسمان کا بادشاہ ہے اور سب کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو کافر کڑھتے ہیں اور جب دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشیاں مناتے ہیں۔ قیامت کے دن یہ ظالم لوگ زمین میں جو کچھ ہے ( یعنی پوری دنیا ) دے کر اپنے آپ کو عذاب سے چھڑانا چاہیں گے اور وہ حق سامنے آجائے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور فرما دیتا ہے اور نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ گناہ گار بندوں کو بہت بڑی بشارت دی ہے کہ میرے گناہ گار بندوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ادھر وہ تو بہ کریں گے اُدھر اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ ( شرط یہ ہے کہ اپنے گناہوں پر دل سے شرمندہ ہو، گناہ کو بالکل چھوڑ دے اور دوبارہ اس گناہ کے نہ کرنے کا عزم کرے جس سے توبہ کی ہے اور اگر کسی گناہ کا تعلق بندوں سے ہے تو اس سے معافی تلافی کر لے ) اس کے بعد تمام انسانوں کو فرمایا کہ اس سے پہلے کہ قیامت آجائے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب سامنے آ جائے تم لوگ اسلام قبول کرلو اور نیک اعمال کرنے لگو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن کہو کہ ہائے افسوس، یہ تو وہی ہے جس کا میں مذاق اُڑایا کرتا تھا اور کاش کسی طرح دنیا میں واپس جاؤں اور نیک اعمال کر کے آؤں لیکن تب تو مہلت ختم ہو چکی ہوگی اور قیامت کے دن کا فروں کے منہ کالے ہوں گے اور وہ جہنم میں ہوں گے اور ایمان والے نیک لوگ نجات پائیں گے ان کو کوئی غم نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق و مالک ہے۔ کافر نقصان اٹھانے والے ہیں۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جس نے شرک کیا وہ بہت بڑے نقصان میں رہا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ صرف اللہ تعالی کی عبادت کرو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ۔ اس کے بعد فرمایا کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ویسی قدر نہیں کی جیسی کرنی چاہیئے ۔ اس کے بعد قیامت کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین اور آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور جب صور پھونکا جائے گا تو لوگ بے ہوش ہو جائیں گے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور زمین اللہ تعالیٰ کے نور سے جگمگا اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی ۔ انبیائے کرام علیہم السلام اور رسول اللہ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی امت کو لایا جائے گا۔ یہ سب لوگوں پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں صحیح اور درست فیصلہ کر دیا جائے گا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ پھر کافر جہنم کی طرف گروہ گروہ کر کے ڈھکیلے جائیں گے اور جب جہنم کے دروازے پر پہنچیں گے تو اُس کا داروغہ پوچھے گا : کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے؟ کافر جواب دیں گے: بے شک ہمارے پاس اللہ کے رسول آئے تھے لیکن ہماری بد بختی کہ ہم نے انھیں جھٹلا دیا اور کفر میں پڑے رہے ۔ ان سے کہا جائے گا: جہنم میں جاؤ، یہ تمہارا ہمیشہ کے لئے بہت بُر اٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد مؤمنین کے بارے میں بتایا کہ ایمان لانے والے نیک لوگ اپنی سواریوں پر خوشی خوشی گروہ گروہ ہو کر جنت کی طرف جائیں گے تو جنت کا داروغہ انھیں سلام کرے گا اور کہے گا تم بہت اچھے کامیاب لوگ ہو ، جنت میں جاؤ اور ہمیشہ کے لئے عیش و آرام میں رہو۔ مؤمنین کہیں گے: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس کا وعدہ سچا ہے۔
(سورۃ الزمر مکمل)
سورة المؤمن
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالی کی طرف سے اتاری گئی ہے جو عزت والا عظمت والا ، گناہ بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اور سب سے بڑا انعام دینے والا ہے۔ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور اُن کے بعد بہت سی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ہر قوم نے اپنے رسول کو نقصان پہنچانا چاہا تو اللہ تعالی کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا اور کافر جہنمی ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ عرش اٹھانے والے فرشتے مسلمانوں کی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور کہتے ہیں : اے اللہ ! جوتو بہ کرے اور تیرے راستے پر پہلے انھیں جہنم کے عذاب سے بچا اور جنت کے باغوں میں داخل کر اور اُن کے نیک باپ دادا اور بیویوں اور اولاد کو بھی ۔ بے شک اے اللہ ! تو ہی عزت اور حکمت والا ہے اور انھیں گناہوں کی شامت سے بچالے اور قیامت کی تکلیف سے بچا۔ بے شک جسے تو نے بچا لیا تو اُس پر رحم فرمایا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن میدان حشر میں کافروں سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالٰی آج تم لوگوں سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ کیوں کہ تم کو اسلام کی دعوت دی جاتی تھی تو تم کفر کرتے تھے ۔ کافر کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت اور دو بار زندگی دی۔ اب ہمیں اپنے گناہوں پر شرمندگی ہے۔ کیا آگ سے نکلنے کا کوئی اور بھی راستہ ہے؟ ( مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایک مہلت اور مل جائے تا کہ ہم ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور جو غلطی ہم نے ماضی میں کی اب اس کو نہ دہرائیں لیکن اس وقت انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی ) اس کے بعد بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ تو کوئی بھی جواب نہیں دے سکے گا۔ اللہ تعالی خود جواب دے گا۔ اللہ کی ہے جو اکیلا ہے۔ غالب ہے۔ آج کسی پر زیادتی نہیں کی جائے گی اور ہر ایک کو اس کے عمل کا درست بدلہ دیا جائے گا۔ ظالموں ( کافروں کا نہ تو کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہو گا کہ جس کی سفارش سنی جائے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ان کافروں سے پہلے جو کافر گزرے ہیں اُن کا کیا انجام ہوا ؟ یہ زمین پر سفر کر کے دیکھ لو۔ ان سے پہلے جو کافر تھے وہ طاقت اور قوت میں ان سے بہت زیادہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے پاس رسولوں کو بھیجا تھا۔ انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور رسولوں کی جان لینے کے در پئے ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے اُن کا فروں کو پکڑ لیا اور انہیں تباہ کر دیا۔ اُن کافروں کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اسلام کی دعوت دی تو فرعون نے آپ علیہ السلام کوجھٹلا دیا اور یہ کہ فرعون آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو جاری رکھا کہ جب فرعون اپنے درباریوں کے ساتھ آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کا منصوبہ بنانے لگا تو ایک مرد مسلمان کھڑا ہوا۔ اُس نے ابھی اپنے اسلام کو چھپایا ہوا تھا اور فرعون کا درباری تھا اس نے کہا: کیا تم اس کو ( حضرت موسیٰ علیہ السلام) کو مارنا چاہتے ہو جس نے کہا کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے اور وہ اللہ تعالی کی کھلی نشانیاں تمہارے پاس لے کر آیا ہے۔ میرا تو مشورہ ہے کہ اُس کی بات مان لو۔ اگر وہ (نعوذ باللہ ) غلط ہوتو اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔ اے میری قوم! آج تم زمین پر غلبہ رکھتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر آجائے گا تو تمہیں کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔ فرعون نے کہا: میں تو تجھے بھی وہی کرنے کو کہتا ہوں جو میں کر رہا ہوں اور یہی صحیح ہے۔ وہ مرد مؤمن بولا : اے میری قوم ! میں تو ڈرتا ہوں کہ پچھلی قوموں کی طرح تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے جیسا عذاب قوم نوح، قوم عاد قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں پر آیا تھا اور اس سے پہلے ہم مصریوں کے پاس حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کی روشن نشانیاں لے کر آئے تھے اور تم لوگ شک میں رہے۔ پھر آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد تم نے کہا: اب کوئی رسول نہیں آئے گا۔ فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا: میرے لئے اونچا محل بنا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام)
کے رب کو دیکھوں ۔
رکوع نمبر :10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا کہ وہ مرد مومن بولا: اے میری قوم! میری بات مانو ۔ میں تمہیں بھلائی کا راستہ بتا رہا ہوں ۔ اے میری قوم! دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جو بُرا کام کرے گا وہ ناکام ہوگا اور جو مسلمان مرد یا عورت نیک کام کرے تو وہ جنت کے عیش و آرام میں ہوں گے۔ اے میری قوم ! تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو اور میں تمہیں جنت کی طرف بلاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اُس مرد مؤمن کو فرعون سے بچا لیا اور فرعون کو عذاب نے گھیر لیا۔ وہ اور اس کے ساتھی صبح و شام آگ پر پیش کئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرے گا۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور مسلمانوں کی دنیا میں مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی مدد کرے گا اور اُس دن ظالموں کے بہانے کام نہیں آئیں گے اور وہ بُرے گھر ( دوزخ ) میں ہوں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی راہ نمائی فرمائی اور آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو کتاب ( توریت ) عطا فرمائی۔ اس کے بعد بتایا: انسان کو پیدا کرنے سے بڑا کام زمین اور آسمان کو پیدا کرتا ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ اور اندھا اور آنکھ والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایمان لانے والا اور نیک عمل کرنے والا اور کافر ( انکار کرنے والا ) دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے رات تمہارے آرام کرنے کے لئے بنائی اور دن کو روشن کیا تا کہ تم رزق تلاش کر سکو۔ بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا رب ہے اور ہر چیز کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم کہاں الٹے پھرے جا رہے ہو؟ اور اللہ تعالیٰ نے زمین تمہارے ٹھہرنے کے لئے بنائی اور آسمان کو چھت بنایا۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہاری شکل وصورت بناتا ہے اور تمہیں پاک رزق عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا اور تمہارا بھی رب ہے، بڑی برکت والا ہے۔ تو تم خالص اُسی کی عبادت کرو۔ آپ ان کافروں سے کہہ دیں کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کی عبادت کروں جن کی تم کرتے ہو اور میں تو سچا مسلمان ہوں ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے بتایا کہ اللہ تعالی ہی ہے جس نے تمہیں پہلے مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے بنایا پھر خون کی پھٹکی بنائی پھر تمہیں بچہ بنا کر دنیا میں لاتا ہے پھر تمہیں بڑا جوان کرتا ہے پھر تمہیں بڑھاپا دیتا ہے اور تم میں سے کوئی (بڑھاپے سے پہلے اٹھا لیا جاتا ہے ۔ سب کا دنیا میں ایک مقررہ وقت ہے تا کہ تم سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور جب کوئی حکم کرتا ہے تو کہتا ہے : بن جا! تو وہ چیز بن جاتی ہے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر جھگڑتے ہیں اور کتاب (قرآن پاک ) کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو بہت جلد کافروں کو معلوم ہو جائے گا جب اُن کی گردن میں طوق ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑ کر کھولتے ہوئے پانی کی طرف گھسیٹے جائیں گے اور پھر آگ میں دہکا دیئے جائیں گے ۔ اُن سے کہا جائے گا : کہاں گئے وہ خدا جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے تھے ؟ تو وہ کہیں گے : وہ تو گم ہو گئے ۔ اُن سے کہا جائے گا: اب جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہو اور جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ ہے مغروروں کا۔ اس کے بعد بتایا کہ کوئی بھی رسول، اللہ تعالی کے حکم کے بغیر نشانی نہیں لاسکتا اور سچا فیصلہ (قیامت کے دن ) کر دیا جائے گا اور تب باطل والے نقصان میں ہوں گے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے (جانور) بنائے۔ ان میں سے کسی کو تم کھاتے ہو اور کسی پر سواری کرتے ہو۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اٹھاتے ہو۔ اس طرح اللہ تعالی اپنی نشانیاں بتاتا ہے تو تم اللہ تعالٰی کی کون کون سی نشانی کا انکار کرو گے۔ کیا ان کا فروں نے زمین میں سفر کر کے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کے کافروں کا کیا انجام ہوا جب کہ وہ لوگ ان سے طاقت میں اور قوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے ۔ تو جب اُن کے پاس رسول صاف صاف دلیلیں لے کر آئے ہیں تو وہ لوگ دنیا میں ہی مگن رہے اور رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے بالآخر ان پر اللہ تعالی کا عذاب آگیا جس کو وہ مذاق سمجھتے تھے۔ عذاب دیکھ کر ایمان لائے لیکن عذاب آجانے کے بعد ایمان لانا اُن کے کسی کام نہ آیا۔
(سورہ مؤمن مکمل)
سوره حم السجده
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) نازل کی گئی ہے اللہ تعالی کی طرف سے جو بہت ہی مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ عربی زبان میں نازل کی گئی ہے۔ عقل والے ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ ( قرآن پاک ) خوشخبری دیتا ہے اور ( عذاب سے ڈراتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمارے دلوں پر غلاف چڑھا ہوا ہے اور ہمارے کان بند ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ فرمایا: ان سے کہہ دو کہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں اور شرک کرنے والوں اور آخرت کا انکار کرنے والوں کی خرابی ہے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ، ان کے لئے بے انتہا ثواب ہے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ آپ ﷺ ان سے کہیں ؛ کیا تم لوگ اس اللہ تعالی کی عبادت سے انکار کرتے ہو؟ جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس میں اوپر لنگر ( پہاڑ ) ڈالے اور زمین میں برکت رکھی اور اس کے اوپر بسنے والوں کے لئے روزیاں مقرر کیں ۔ یہ سب کچھ چار دن میں ہوا۔ پھر آسمان کی طرف توجہ فرمایا جو دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا: دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو خواہ دل کی خوشی کے ساتھ یا بے دلی سے۔ تو دونوں نے عرض کیا : ہم دل کی خوشی سے حاضر ہوتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں تو انھیں پورے سات آسمان بنا دیا۔ اس میں دو دن لگے۔ اس طرح کل چھ دن ہوئے اور ہر آسمان میں اس کے کام کے احکام بھیج دیئے اور سب سے نیچے والے آسمان کو چراغوں (ستاروں) سے مزین فرمایا اور یہ سب عزت والے علم والے اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک عاد اور ثمود کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن پہلے کافر سے لے کر آخری کافر تک سب کو آگ کی طرف دھکیلا جائے گا اور ان کے کان ان کی آنکھیں اور ان کی کھال تک ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ کافر اپنی کھالوں ( چمڑیوں) سے کہیں گے تم نے گواہی کیوں دی تو ان کی کھالیں جواب دیں گی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بولنے کی صلاحیت دی تو ہم نے سچ بات بیان کر دی اور بے شک کا فر بہت بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن پاک کو نہ سنو اور جب رسول اللہ ﷺ تمہارے سامنے قرآن پاک تلاوت کریں تو شور و غل مچاؤ ۔ شاید اسی طرح تم حاوی ہو جاؤ تو اللہ تعالی کا فروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائے گا اور بے شک ان کے بُرے سے بُرے کام کا انہیں بدلہ دیا جائے گا اور جہنم میں کافر اللہ تعالی سے درخواست کریں گے کہ ہمیں وہ آدمی اور جنات بتادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تا کہ ہم انھیں اپنے پیروں تلے روند ڈالیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا اور اُس پر قائم رہے تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں اور انھیں جنت کی بشارت دیتے ہیں۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ سب سے اچھی بات اُس کی ہے جو اسلام کی دعوت دے اور نیک اعمال کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی ۔ مسلمانوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی کریں تو ان کے دشمن اُن کے گہرے دوست بن جائیں گے اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں