جمعرات، 30 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 23 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 23 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں شہر والوں کا قصہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شہر والوں کی طرف دو بندے بھیجے ۔ انھوں نے اسلام کی دعوت دی تو شہر والوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تیسرے بندے کو بھیجا تو ان تینوں سے شہر والوں نے کہا کہ تم ہماری طرح انسان ہو اور تمہیں رحمن (یعنی اللہ تعالی ) نے نہیں بھیجا ہے اور تم جھوٹے ہو۔ اُن تنیوں نے کہا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف صاف صاف بات پہونچاتا ہے۔ شہر والوں نے کہا: ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اور اگر تم لوگ اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے تو ان تینوں نے کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہو۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی نہیں مان رہے ہو۔ تم لوگ تو حد سے بڑھ جانے والوں میں سے ہو ۔ اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا : اے میری قوم! ان تینوں کی بات مانو اور اسلام قبول کر لو۔ یہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور سیدھے راستے پر ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کیوں نہ کروں جبکہ اُس نے مجھے پیدا کیا اور اُسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے اور میں تمہارے خداؤں کی عبادت نہیں کروں گا کیوں کہ اگر رحمن ( اللہ تعالیٰ ) مجھے مصیبت میں ڈالنا چاہے تو تمہارے خدا مجھے نہیں بچا سکیں گے۔ میں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ شہر والوں نے اُسے شہید کر دیا۔ اللہ تعالی نے اس کو حکم دیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ سن کر اُس نے کہا: کاش ! میری قوم جانتی کہ اسلام قبول کرنے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا عنایت فرمایا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شہر والوں پر صرف ایک چنگھاڑ بھیجی تو وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ بندوں پر افسوس ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے رسول آتے ہیں تو وہ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ پھر جب اللہ تعالی کا حکم (یعنی قیامت ) آئے گا تو سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش برسا کر زندہ کرتا ہے اور انسانوں کے لئے اناجوں کی کھیتیاں اور پھلوں کے باغ لگاتا ہے۔ پھر کیوں یہ کا فرحق (اسلام ) قبول نہیں کرتے۔ ایک نشانی دن اور رات ہے کہ اللہ تعالی دن کو کھینچ لیتا ہے اور اُن پر اندھیری رات آجاتی ہے ۔ سورج اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے راستہ پر چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاند کی منزلیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ اسے گھٹا کر کھجور کی شاخ کے جیسا بنا دیتا ہے، نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے ان سب کو اُن کے مدار پر مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اس کے بعد سمندر اور کشتی کی مثال بتائی۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو تو کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہم انھیں کھلا ئیں کہ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کھلا دیتا۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو وہ وعدہ (قیامت) کب آئے گا؟ وہ تو اچانک آئے گا۔ جب وہ دنیا کے جھگڑوں میں الجھے ہوں گے۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا: جب صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے کہیں گے: ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگا دیا ( پھر خود ہی کہیں گے ) یہ تو وہی (قیامت) ہے جس کا وعدو رحمن ( اللہ ) نے کیا تھا اور رسولوں نے سچی خبر دی تھی۔ پھر سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔ اُس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا اور ہر ایک کو اس کے عمل کا (اچھا یا برا ) بدلہ دیا جائے گا۔ ایمان والے، نیک مسلمان جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ عیش و آرام سے ہوں گے اور اللہ تعالی کی طرف سے اُن پر سلام ہو گا اور مجرموں سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کا کہنا ماننے سے تمہیں منع فرمایا تھا اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ کیا تم میں عقل نہیں تھی ۔ اب جہنم میں جاؤ اور اس دن اُن کے منہ بند کر دیئے جائیں گے اور اُن کے ہاتھ اور پیر اُن کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شاعری نہیں سکھائی ۔ نہ آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ آپ ﷺ شاعری کریں ۔ آپ ﷺ تو قرآن مبین کی روشن آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تا کہ کافروں پر حجت قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جانوروں کا مالک بنایا تا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے ۔ اس کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اپنی جان پر ظلم کر کے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیتا ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے ۔ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ان کا فروں کے کفر کا غم نہ کریں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پانی کی بوند سے پیدا فرمایا لیکن وہ اپنی پیدائش کو بھول گیا اور جھگڑنے لگا کہ مر کر مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو گا؟ فرمایا کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور جب وہ کسی چیز کو بناتا ہے تو فرماتا ہے بن جا تو وہ چیز بن جاتی ہے۔ 

(سورہ یاسین مکمل)

سورة الصافات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا معبود ہے اور اللہ تعالی ہی زمین اور آسمانوں اور مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا ۔ جب سرکش شیاطین کان لگا کر سننے کے لئے آتے ہیں تو ہر طرف سے انہیں مار کر بھگایا جاتا ہے۔ ہاں ایک آدھ بار ( اتفاقا فرشتوں کی باتیں ) سن لیتے ہیں تب بھی انھیں ستارے پھینک کر مارا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافر اللہ تعالی کی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مر کر بھی ہماری ہڈیاں مٹی ہو جائیں گی تو کیسے اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو دوبارہ زندہ کرے گا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ صرف ایک جھڑکی ہوگی اور سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جا ئیں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ! یہ ہے وہ فیصلہ کا دن جسے ہم جھٹلاتے تھے۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ظالموں ( کافروں ) کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اُن کے ساتھ وہ شیاطین بھی ہوں گے جن کے بہکانے پر کا فرشرک کرتے تھے۔ کا فر شیاطین سے کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں بہکایا تھا تو شیاطین کہیں گے: ہمارا تم پر کچھ اختیار نہیں تھا بلکہ تم خود ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ہم خود بھی گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا ۔ اس کے بعد مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جنت میں عیش و آرام سے بیٹھے ہوں گے اور اُن کی خاطر داری شراب سے کی جائے گی ۔ اس شراب سے انہیں نشہ نہیں ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے اور خوب صورت بیویاں ساتھ میں ہوں گی اور جنتی اپنے جہنمی دوست کو دیکھنے کی فرمائش کرے گا تو اس کے دوست کو جہنم میں عذاب میں مبتلا دکھایا جائے گا۔ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنمیوں کو کھانے کے لئے تھوہڑ دیا جائے گا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور اکثر نے انکار کیا اور کافر ہوئے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور کافروں کو غرق کر دیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت نوح علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اُن کے بتوں کوتوڑ ڈالا۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کو زندہ چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو بچالیا۔ پھر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا ۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ذبیحہ دے کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا اور قربانی قبول کی ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فر مایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور روشن کتاب ( توریت ) عطا فرمائی اور اُن کی تعریف باقی رکھی۔ وہ دونوں کامل ایمان والے بندے تھے، سلام ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بعل کی عبادت سے روکا اور اسلام کی دعوت دی ۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی پکڑ کرے گا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے، سلام ہو حضرت الیاس علیہ السلام پر ۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو برے اعمال سے روکا تو قوم آپ علیہ السلام کی دشمن بن گئی ۔ اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت لوط علیہ السلام پر ۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تو آپ علیہ السلام دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور انہیں اپنی قوم کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، اُن کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد فر مایا کہ یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کی بیٹیاں بناتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ کافر فرشتوں کو عورتیں کہتے ہیں۔ کیا وہ اُس وقت حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تخلیق کر رہا تھا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک کافروں کے اعمال اور اُن پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ 

(سورہ الصافات مکمل )

سورة ص

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر :10

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ان کافروں کو اچنبھا ہوا کہ اُن میں سے آپ ﷺ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانے کے لئے آئے اور کافر بولے کہ رسول اللہ ﷺ بہت بڑے (نعوذ باللہ) جھوٹے جادوگر ہیں اور آپ ﷺ نے عجیب بات کہی کہ بہت سے خداؤں کا ایک خدا کر دیا۔ کافروں کے سردار بولے کہ آپ ﷺ کی بات نہ مانو اور اپنے خداؤں کی عبادت کرتے رہو۔ اس کے بعد فرمایا کہ پہلے بھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور قوم عاد اور فرعون اور قوم ثہود اور بن والے ان تمام لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے ان پر عذاب لازم کر دیا

رکوع نمبر 11

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ کافر قیامت کی مانگ کرتے ہیں ، آپ ﷺ صبر کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ بھی اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے تھے اور پرندے دم بخود رہ جاتے تھے۔ اس کے بعد دنیبوں والا مقدمہ تفصیل سے بیان فرمایا ۔ اس کے بعد فرمایا: اے داؤد ( علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر نائب بنایا ہے۔ لوگوں میں حق کا حکم کرو۔ 

رکوع نمبر 12 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کافر یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے زمین اور آسمان بے مقصد ہی بنا دیئے، خرابی ہے کافروں کی اور آگ سے اُن کا استقبال کیا جائے گا۔ مسلمان جو نیک اعمال کرتے ہیں ۔ وہ، اور فساد پھیلا نے والے برابر نہیں ہو سکتے ۔ یہ برکت والی کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف نازل فرمائی تاکہ عقل مند اس کی آیتوں پر غور کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی ، اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو نہ ملے ۔ اللہ تعالی نے ہوا کو آپ علیہ السلام کے قابو میں کر دیا اور دیو اور جنات کا حاکم بنا دیا۔ وہ آپ علیہ السلام کے لئے اونچے محل بناتے اور سمندر میں سے موتیاں نکال کر لاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قریبی مقام اور اچھا ٹھکانہ ہے۔ 

رکوع نمبر :13

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ اشیطان نے مجھے تکلیف میں مبتلا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ اس کے نتیجہ میں چشمہ پھوٹ پڑاء اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے نہاؤ اور اسے پیو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال اور اولاد عطا فرما دیئے اور بے شک آپ علیہ السلام صبر کرنے والے تھے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام علم والے اور کھرے تھے۔ منتخب کئے ہوئے اور پسندیدہ بندے ہیں۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ذوالکفل اور حضرت یسع علیہم السلام سب اللہ تعالی کے اچھے اور پسندیدہ بندے ہیں ۔ نیک ایمان والے جنت میں عیش و آرام میں ہوں گے اور اُن کی بیویاں اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھیں گی۔ وہ ہمیشہ بہترین رزق پائیں گے اور سرکش لوگ دوزخ میں ہوں گے ۔ آگ کے بستر پر ہوں گے اور وہ کھولتا پانی اور پیپ (مواد) کھا ئیں گے اور پیئیں گے۔ اُن کی بُری اور بدصورت بیویاں ہوں گی۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا: میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ جب میں اُس میں روح پھونک دوں تو سب سجدے میں گر جانا۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس شیطان نے نہیں کیا۔ اللہ تعالی نے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے سجدے سے روکا۔ کیا تجھے غرور آ گیا ہے؟ ابلیس نے کہا۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے دھتکار دیا۔ اُس نے قیامت تک کی مہلت مانگی تو اللہ تعالی نے اسے مہلت دے دی ۔ شیطان نے کہا: میں اسے اور اس کی اولاد کو بہکاؤں گا لیکن تیرے نیک بندوں پر میرا زدر نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو تیری بات مانے گا میں اُس سے اور تجھ سے جہنم کو بھر دوں گا۔

 ( سورہ ص مکمل ) 

سورہ زمر

رکوع نمبر 15

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) عزت والے حکمت والے اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جانب حق کے ساتھ نازل ہوئی ۔ تم صرف اللہ تعالی عبادت کرو اور خالص بندگی تو اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے علاوہ دوسرے ولی بنالئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالی کے نزدیک کردیں گے تو بہت جلد ان کے بارے میں اللہ تعالی درست فیصلہ فرمادے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تو حید و ربوبیت کی نشانیاں بتا ئیں اور فرمایا کہ حقیقی بادشاہت تو صرف اللہ تعالی کی ہے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہے۔ اس کے بعد اگر تم ناشکری کرو ( دوسروں کی بندگی کرو ) تو بے شک اللہ تعالی تم لوگوں سے بے نیاز ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ کافر اور مسلمان برابر نہیں ہو سکتے۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو ۔ جو بھلائی کرے گا تو دنیا میں اس کا صلہ پائے گا اور ساتھ میں صبر بھی کرے گا تو صابروں کو اللہ تعالٰی بے حساب اور بھر پور ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ کافروں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ تعالی کی ہی بندگی کرتا ہوں اور تمہیں جس کی عبادت کرنا ہو کرو۔ قیامت کے دن تم ہارے ہوئے لوگوں میں سے ہو گے ۔ آگ کے پہاڑ میں ڈالے جاؤ گے اور اوپر سے آگ کا پہاڑ ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جس نے اسلام قبول کیا اور بہتر طریقہ ( یعنی قرآن پاک ) پر عمل کیا تو اُسے در حقیقت اللہ تعالی نے ہدایت فرمائی اور وہی عقل والا ہے۔ رکوع کے آخر میں اپنی نشانی کہ اللہ تعالی بارش برساتا ہے اور زمین میں ندیاں (نہریں) بہاتا ہے پھر کھیتی اگاتا ہے پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے اور ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ اس میں عقل مندوں کے لئے نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت کا نور پاتا ہے، اس کے برابر وہ نہیں ہو سکتا جس کے دل میں خرابی ہو ( اور وہ کفر پر اڑا ہو ) اور اُس کا دل اللہ تعالی کی یاد کی طرف سے سخت ہو گیا ہو۔ اللہ تعالی نے سب سے اچھی کتاب (قرآن پاک ) اتار دی ہے۔ اس کی آیتیں پڑھ کر اور سن کر مومنوں کے بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر اُن کی کھالیں اور دل نرم پڑ جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کی یاد کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو قیامت میں رسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام کے کئی خراب قسم کے آقا ہیں اور ایک غلام کا صرف ایک رحمدل اور نیک آتا ہے ۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ ( یہ مثال ہے مشرک کی، جس کے کئی کئی خدا ہوتے ہیں اور تو حید پرست کی جو صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود مانتا ہے ) بے شک ہر ایک کو مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔ 

(پارہ نمبر 23 مکمل) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں