جمعرات، 30 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 22 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (22) 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

 اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 21 میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں ازواج مطہرات ( آپ ﷺ کی پاک بیویوں ) کو کچھ احکامات دیئے ۔ ان میں سے کچھ احکامات ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہیں لیکن زیادہ تر احکامات ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ مسلمان عورتوں کے لئے بھی ہیں۔ مثلاً اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں اور بے پردہ نہ رہیں اور نا محرموں سے اس طرح نرمی سے بات نہ کریں کہ وہ کسی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم مانیں۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتوں، سچے مرد اور سچی عورتوں ، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتوں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتوں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتوں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتوں اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے والے مرد اور اللہ تعالی کو ہر وقت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ تعالی نے بخشش اور بہت بڑا اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور رسول اللہ ﷺ اور اُم المؤمنین کا ذکر فر مایا اور بتایا کہ منہ بولا بیٹا صحیح معنوں میں بیٹا نہیں بن جاتا۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو اور اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر خاص مہربان ہے کہ انھیں اندھیروں سے اُجالے کی طرف لاتا ہے اور مسلمانوں کی آپس میں ملتے وقت دعا سلام ہے ۔ اُن کے لئے عزت کا ثواب اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو خوش خبری دو اور کافروں اور منافقین کی حرکات کا غم نہ کریں اور نظر انداز کردیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک نکاح کے احکامات دیئے۔ ان میں سے کچھ آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں اور کچھ مسلمانوں کے لئے ہیں۔

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں پردے کے احکامات دیئے۔ اس کے بعد منافقوں کو پھٹکارا۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی سزا کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ دوزخ میں اُن کے منہ پلٹ پلٹ کر آگ پر بھونیں جائیں گے اور کافر کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا ہوتا اور کہیں گے ۔ اے اللہ ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا حکم مانا اس لئے آج تو انہیں انھیں دوہرا عذاب دینا۔ 

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ تم اُن لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ستایا بلکہ رسول اللہ ﷺ کا بے حد ادب کرنا اور حکم کی تعمیل کیلئے دوڑ پڑنا۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور سیدھی اور سچی بات کہا کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو سنوار دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا اُس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی اور منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافر و مشرک مردوں اور کافر و مشرک عورتوں کو اللہ تعالیٰ عذاب دے گا اور مسلمانوں کی توبہ قبول فرمائے گا 

(سورۃ الاحزاب مکمل)

سوره سبا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور وہ جانتا ہے کہ زمین کے اندر کیا ہے؟ اور کیاز مین سے نکلتا ہے؟ اور بارش کب اور کیسے برسے گی؟ اور انسانوں کے اعمال لے کر فرشتے اوپر چڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور کافر کہتے ہیں: ہم پر قیامت نہیں آئے اور جو کچھ ہے اس دنیا میں ختم ہو جائے گا۔ ان سے کہو کہ قیامت تو ضرور آئے گی اور اُس دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو نیک عمل کئے ہوں گے بخشش اور عزت کا رزق عطا فرمائے گا اور کافروں کو دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور جن کو علم عطا ہوا ( یعنی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ) وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر حق نازل ہوا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اتنی میٹھی آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام توریت اور زبور کی تلاوت فرماتے تھے تو پہاڑ وجد میں آکر آپ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے لگتے اور پرندے اڑنا بھول جاتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں ایسی تاثیر دی تھی کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آکر پگھل جاتا اور آپ علیہ السلام اُس سے جنگ کے لئے زرہیں بناتے تھے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان حکومت عطا فرمائی تھی اور ہوا اور جنوں کو آپ علیہ السلام کا محکوم بنا دیا تھا۔ ہوا آپ علیہ السلام کو لے کر کچھ گھنٹوں میں اتنی دور پہنچا دیتی تھی جتنی دور گھوڑے سے سفر کرنے میں ایک مہینہ لگتا ہے اور آپ علیہ السلام کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اللہ تعالی نے بہا دیا تھا۔ جنات آپ علیہ السلام کے لئے بڑے بڑے محل اور بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔ پھر اللہ تعالی نے جب آپ علیہ السلام کو موت کا حکم بھیجا تو آپ علیہ السلام اپنے عصا کے سہارے کھڑے ہو گئے اور روح قبض کرلی گئی۔ جنات آپ علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام کرتے رہے ۔ جب عصا کو دیمک نے کھایا تو آپ علیہ السلام کا جسم مبارک زمین پر گرا، جب جنات نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام کو موت آگئی ہے اور تب وہ سمجھ گئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اس کے بعد شہر سبا کا واقعہ بیان فرمایا اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ دیکھنے کے لئے موقع دیا ہے کہ کون اللہ کا حکم مانتا ہے اور کون شیطان کا کہنا مانتا ہے؟ 

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: کافروں سے پوچھو کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود مانتے ہیں، کیا وہ ذرہ برابر بھی زمین و آسمان میں کسی چیز کے مالک ہیں اور کیا انھوں نے کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالی کی کوئی مدد کی ہے؟ بالکل نہیں اور تو ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے پوری کی تخلیق کی ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں جس کو اللہ اجازت دے اور اس کی گھبراہٹ دور فرما دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی بیان کرے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کو خوش خبری دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کافر پوچھتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دو ! جب قیامت آئے گی تو تم لوگ نہ ایک سیکنڈ آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پاک پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لائیں گے تو جب یہ کا فر دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عوام اپنے سرداروں اور امیروں کو کہے گی کہ تم لوگوں نے ہمیں کفر اور شرک کا علم دیا تھا۔ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم شرک نہیں کرتے تو اُن کے سردار اور امیر کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکا تھا۔ ہرگز نہیں ! بلکہ تم خود مجرم ہو۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر دونوں قسم کے لوگ پچھتائیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی شہر میں اپنا نبی یا رسول بھیجا تو اس شہر کے سرداروں اور مالداروں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہتے تھے کہ ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں ۔ ہم پر عذاب نہیں آئے گا ۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق ( مال اور اولاد ) بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔ 

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں ہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچا ئیں ۔ ہاں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ اس کو دوہرا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جنت میں عیش و آرام سے رہے گا اور کافر لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس کا چاہے رزق بڑھاتا ہے اور جس کا چاہے کم کرتا ہے۔ مسلمان جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا: کیا یہ کا فرتمہاری عبادت کرتے تھے تو فرشتے کہیں گے کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اور تو ہی ہمارا دوست ہے اور یہ کافر بھی ہمارے دوست نہیں تھے۔ ہاں وہ جناتوں (یعنی شیطان اور اس کے خاندان ) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا فروں سے کہا جائے گا کہ اب آگ کا مزہ چکھو اور کافر لوگ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ تم ہمیں اُن معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو ۔ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور کافروں کے پاس جب بھی حق آیا تو انھوں نے اُسے جادو کہا۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول الله ﷺ سے فرمایا ان کافروں سے کہو کہ میں تو اللہ تعالی کی طرف سے آئی نصیحت کو سناتا ہوں اور تم لوگ اکیلے میں غور و فکر کرو اورسوچو کہ تمہارے صاحب (یعنی رسول اللہ ﷺ) میں جنون کی کوئی بات نہیں اور آپ ﷺ تو صاف صاف اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہے ہیں اور جب کافر قیامت کے دن گھبراہٹ میں مبتلا کئے جائیں گے تو پھر بچ نہیں سکیں گے اور کہیں گے کہ ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا کچھ کام نہیں آئے گا کیوں کہ دنیا میں کفر کر کے اللہ تعالیٰ کا انکار کر چکے ہیں اور کافر دھوکہ ڈالنے والے شک میں پڑے تھے۔ (

سورہ سبا مکمل

سورہ فاطر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بنایا، کسی کے دو دو پر بنائے کسی کے تین تین اور کسی کے چار چار پر بنائے اور کسی کو رسولوں تک پیغام پہنچانے کا کام دیا ، کسی کو روح قبض کرنے کا ۔ اس طرح اللہ تعالی نے فرشتوں کو کام پر لگا رکھا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ایسے لوگو! اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ کیا اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور تمہیں رزق دیتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں ! اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود اور خالق و مالک نہیں ہے تو پھر کیوں اندھیروں میں بھٹک رہے ہو؟ اے لوگو! دنیا کی زندگی ایک دھوکہ ہے۔ تم دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ نہ سمجھ لینا اور شیطان تمہارا دشمن ہے۔ تم بھی اُسے اپنا دشمن سمجھو اور اسے دوست نہ بناؤ ۔ وہ تو انسانوں کو دوزخ کی طرف بلاتا ہے اور کافروں کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اُن کے لئے جنت ہے۔

رکوع نمبر :14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہے پھر ان بادلوں کو مردہ (خشک) زمین کی طرف بھیج کر برساتا ہے تو زمین زندہ سرسبز و شاداب ) ہو جاتی ہے اور اُس میں سے گھاس ، پیڑ ، پودے اور اناج وغیرہ بہت سی چیزیں نکلتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں انسانوں کو اُٹھائے گا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے بناتا ہے اور سب کے جوڑے بنائے اور ماں پیٹ میں کیا ہے؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہ کسی کو بڑی عمر دیتا ہے کسی کو چھوٹی ۔ یہ سب، پہلے سے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہی نے دن اور رات بنائے اور سورج اور چاند کو ان کے مقررہ راستے پر لگا دیا اور ہرجگہ ان تعالی ہی کی بادشاہی ہے اور جن کو کافر پوجتے ہیں وہ دانہ کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں سے فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تم سب سے بے نیاز ہے ۔ تم سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے اور اللہ تعالی کوکسی کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ تعالی چاہے تو تمہیں ہٹا کر دوسروں کو لے آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اور قیامت کے دن کوئی کسی کی مدد نہیں کرے گا، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تو صاف صاف پیغام پہنچا دیتا ہے اور مؤمن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے جس طرح اندھیرے اجالے اور سایہ اور دھوپ اور زندہ اور مردہ میں فرق ہے۔ ویسا ہی مؤمن اور کا فر میں فرق ہے اور آپ ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسولوں کو بھیجا، وہ اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے لیکن کافروں نے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور زمین میں سے رنگ برنگے پھول اور پھل نکالتا ہے اور پہاڑوں میں سفید، سرخ اور کالے راستے بنائے ۔ انسانوں اور جانوروں کو بھی رنگ برنگ بنایا۔ اس کے بعد مؤمنوں کا ذکر فر مایا کہ وہ قرآن پاک پڑھتے اور سمجھتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیتے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اُن کو سونے کے کنگن اور موتی اور ریشمی لباس پہنائے جائیں گے اور کافروں کو دوزخ کا عذاب ہوگا، نہ انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب ہلکا ہوگا۔

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی زمین اور آسمان میں چھپی ہر چیز کو جانتا ہے اور دلوں کی بات بھی جانتا ہے۔ اُس نے تمہیں پہلے والوں کا جانشین بنایا تو جو کفر گا وہ خود اپنا نقصان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو روک رکھا ہے۔ اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو صرف اللہ تعالی ہی انہیں اُن کی جگہ پر لا سکتا ہے۔ کافروں نے قسمیں کھا ئیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آئے تو ہم فرمانبرداری کریں گے لیکن جب رسول اُن کے پاس آئے تو یہ سب اس سے نفرت کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ کوئی بھی اُس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو پکڑتا تو زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں بچ پاتا لیکن اللہ تعالی اس دنیا میں ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے پھر وعدے کا دن (قیامت) آئے گا تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ 

(سورہ الفاطر مکمل)

سورہ یاسین

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہیں تا کہ ان لوگوں کواللہ تعالی کے عذاب سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا ہے ۔ ان میں سے اکثر اسلام کو سمجھنے کے بعد بھی اسلام قبول نہیں کر رہے تو ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ﷺ اُس پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتاہے اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دے دو۔ بے شک اللہ تعالی مُردوں کو زندہ کرے گا اور جو اعمال انھوں نے کئے ہیں سب اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہیں ۔ 

(پارہ نمبر 22 مکمل)


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں