خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 21
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کریں ، اس کو سمجھیں اور اس پر غور کریں اور نماز قائم کریں ۔ نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سب سے بڑی ( عبادت ) ہے اور اہل کتاب سے بہترین طریقہ سے بحث کرو۔ اس کے بعد بھی نہ مانیں تو انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کے بعد بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ دنیا میں کوئی استاد نہیں ہے۔ اگر آپ علیہ السلام قرآن پاک کے نازل ہونے سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تو شک کی گنجائش ہو سکتی تھی کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے خود یہ قرآن پاک بنالیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ قرآن پاک ایک معجزہ ہے کہ آپ ﷺ پڑھنا اور لکھنا نہ جاننے کے باوجود ایسی حکمت کی باتیں بتا رہے ہیں جن کا جواب پوری دنیا میں قیامت تک بڑے سے بڑا عالم نہیں دے سکے گا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر عذاب کی مانگ کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کا دنیا میں ایک وقت متعین نہ کر دیا ہوتا تو یقینا ان پر عذاب آجاتا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب کافروں کو نیچے سے اوپر سے بلکہ چاروں طرف سے ڈھانپ لے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا: صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کے پاس واپس آؤ گے۔ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو جنت عطا فرمائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں عیش و آرام کے ساتھ رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں سے پوچھو، کس نے آسمان اور زمین بنائے اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا؟ جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے کیا۔ تو یہ کہاں بھٹکتے پھر رہے ہیں؟ ان سے پوچھو، کون بارش برساتا ہے کہ اس سے زمین سے رزق لکھتا ہے؟ تو جواب دیں گے اللہ تعالیٰ برساتا ہے۔ تو یہ عقل کا استعمال کیوں نہیں کرتے ؟
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دنیا کی زندگی تو بہت مختصر ہے جو اسے یونہی کھیل کود میں گزار دے گا وہ بعد میں پچھتائے گا اور آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھ پاتے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو خالص اللہ تعالی کو پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالٰی اس مصیبت سے چھٹکارہ دلا دیتا ہے تو شرک کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایمان لانے والے مسلمان جو نیک عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔
(سورہ عنکبوت مکمل)
سوره الروم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اکثر لوگ دنیاوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور آخرت سے بے خبر ہیں ۔ لوگ غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ایک مقررہ مدت تک کے لئے بنایا ہے۔ یہ زمین پر چل پھر کر کیوں نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے کی کافرقوموں کو کس طرح ہلاک کیا اور اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ کافر خوداپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے جس طرح بنایا دوسری مرتبہ بھی اسی طرح بنائے گا اور پھر سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس واپس لوٹنا ہے اور قیامت کے دن مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی اور جن کو دنیا میں خدا مانتے ہیں اُن کا انکار کر دیں گے ۔ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے اور کافر آخرت کا انکار کرتے تھے تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو شام کو اور صبح کو اور دوپہر کو اور سہ پہر کو۔ اللہ ہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مُردے کو زندہ میں سے نکالتا ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا اور تمام انسانوں کو دنیا میں پھیلایا اور تمہارے لئے جوڑے بنائے کہ ایک دوسرے سے آرام اور سکون پاؤ اور دونوں میں آپس میں محبت رکھی ۔ ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اس کی نشانیوں میں زمین اور آسمان اور تمہاری الگ الگ زبان اور الگ الگ رنگ ہیں اور رات آرام کے لئے بنائی اور دن اللہ تعالیٰ کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے بنایا۔ ان میں سننے اور سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں بجلی ہے۔ جس سے ڈرتے ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور بارش ہے کہ اُس سے مُردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں زمین اور آسمان کا قائم رہنا ہے۔ پھر ایک آواز پر سب (قبروں) سے نکل پڑو گے اور زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب پر اسی کا حکم چلتا ہے اور اللہ تعالی کے لئے سب سے برتر شان ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سمجھایا کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو فطرت (اسلام) پر پیدا کیا ہے تو کفر کر کے اللہ تعالیٰ کی چیز کو نہ بدلو اور یہی سیدھا دین ہے اور مسلمانوں سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور شرک سے بہت دور رہنا اور جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور الگ الگ گروہ ہو گئے اور ہر کوئی اپنے عمل پر خوش ہے۔ اور رشتہ داروں کا حق دو اور مسکین اور مسافر کی مدد کرو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خیرات دو ۔ اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ مارے گا پھر زندہ کرے گا۔ کیا اور کوئی ایسا ہے جو یہ کر سکے؟
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کافروں سے کہو کہ زمین پر چل پھر کر دیکھیں کہ پہلے کے کافروں کا کیا انجام ہوا ۔ جو کفر کرے گا تو اُس کا وبال اُس پر پڑے گا اور مسلمان جو اچھے اعمال کر رہے ہیں وہ اپنے فائدے کے لئے کر رہے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ سے اچھا صلہ ملے اور اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو جمع کرتے ہیں۔ پھر نا اُمید انسانوں پر بارش برساتا ہے تو وہ خوشیاں مناتے ہیں اور اگر اللہ تعالی ایسی ہوا بھیجے جو اُن کی کھیتیاں تباہ کر دے تو اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگیں گے ۔ تو آپ ﷺ کی باتیں کافر نہیں سمجھتے ۔ کیوں کہ وہ مردہ دل ہیں۔ بہرے ہیں اور اندھے ہیں۔ آپ ﷺ کی باتیں تو صرف مسلمان سمجھتے ہیں۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انسان کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو کمزور پیدا کرتا ہے کہ وہ والدین کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اُسے بڑا کرتا ہے، جوان اور طاقتور بناتا ہے۔ پھر کمزوری اور بڑھاپا دیتا ہے تو اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے اور علم والا اور قدرت والا ہے اور قیامت کے دن مجرم کہیں گے کہ ہم کچھ گھنٹے ہی دنیا میں رہے تو علم والے مسلمان کہیں گے کہ اللہ تعالی نے دنیا میں ہمارا ایک وقت مقر کر دیا تھا اور ہم اس مقررہ وقت تک دنیا میں رہے تو اُس دن کافر مجرم اور ظالم کتنی ہی معذرت کر لیں ، وہ کسی کام نہیں آئے گی ۔
(سورہ الروم مکمل )
سوره لقمان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک کی حکمت والی آیتیں ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ، یہی لوگ کامیاب ہیں ۔ کچھ لوگ دنیا کی زندگی کو کھیل کود اور لذت کی زندگی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین (اسلام) کو انہوں نے مذاق بنا لیا ہے۔ اُن کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان بنائے اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈالے تا کہ وہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور تمہارے لئے زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلائے اور بارش برسائی اور زمین سے نفیس جوڑے اگائے ۔ یہ سب تو اللہ تعالی کا بنایا ہوا ہے تو اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ یہ بتاؤ انھوں نے کیا بنایا ہے؟ نہیں کچھ نہیں بنایا اور کافر کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اُس کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت لقمان علیہ السلام کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ خود اپنا فائدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے ! کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ بنانا۔ بے شک شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور والدین کی ہر حال میں خدمت کرنا۔ اگر وہ شرک کرنے کو کہیں تو اُن کی بات نہ ماننا اور اسلام پر قائم رہنا۔ اس کے باوجود (اگر والدین مشرک ہیں تو ) بھی والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میرے بیٹے ! گناہ اگر رائی کے دانے کے برابر ہوگا اور پتھر کی چٹان کے اندر ہوگا یا کہیں بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُسے سامنے لے آئے گا۔ میرے بیٹے ! نماز قائم رکھنا اور بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور مصیبت پر صبر کرنا اور زمین پر اترا کر نہ چلنا اور اپنی آواز کو دھیمی رکھنا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز بنائی ہے اور اپنی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب اس کے بعد کا فر کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی کریں گے ۔ چاہے شیطان انھیں دوزخ کی طرف ہی کیوں نہ لے جائے اور جس نے اسلام قبول کیا اور نیک عمل کئے تو وہ کامیاب ہوا اور اُس نے بہت مضبوط ساتھ پکڑا تو آپ ان کافروں کے کفر کا غم نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے۔ پھر انہیں بے بس کر کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر زمین میں جتنے درخت ہیں سب کو قلم بنا لو اور تمام سمندروں کی سیاہی بنالو تب بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے لئے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور قیامت میں دوبارہ زندہ کرنا ایسا ہے جیسے صرف ایک جاندار کو بنانا ۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان جب کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنستا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو خلوص دل سے اللہ تعالی کو مدد کے لئے پکارتا ہے لیکن جب اللہ تعالٰی اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو کوئی اعتدال پر رہتا ہے اور کوئی کفر کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو کہ اس دن نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کام آئے گا۔ آگے فرمایا کہ قیامت کب آئے گی ؟ بارش کب برسے گی ؟ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے؟ کل انسان کیا کھائے گا ؟ اور کون کب کہاں مرے گا؟ ان تمام باتوں کاعلم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی جانے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
( سورہ لقمان مکمل)
سورة السجده
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا : یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام عالموں کے لئے آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اور حق ہے۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں ، اس امید کے ساتھ کہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ہدایت (اسلام ) قبول کر لیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ دنوں میں بنایا اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور اللہ تعالی پوری کائنات میں ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے۔ پھر تمام لوگ اُس کی طرف واپس جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن دنیا کی زندگی کے ایک ہزار برس کے برابر ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی بہت احسن بنائی۔ انسان کو شروع میں مٹی سے بنایا پھر اس کی نسل ایک پانی کے قطرے سے بڑھائی لیکن بہت کم لوگ حق کو تسلیم کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافر اور مجرم لوگ سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالٰی سے گذارش کریں گے کہ اے اللہ ! ہم نے حق کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔ اب ہمیں دنیا میں بھیج دے تاکہ نیک اعمال کر کے آئیں۔ اُن سے کہا جائے گا کہ تم اس دن کی حاضری کو بھولے بیٹھے تھے۔ اب ہمیشہ کے لئے عذاب کا مزہ لو اور ایمان والے( مسلمان ) کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے بستروں سے اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے خیرات کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے اُن کی آنکھوں کے لئے ٹھنڈک اپنے پاس رکھی ہے اور وہ اللہ تعالی کے مہمان ہیں اور کافر اور مؤمن برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے کتاب عطا فرمائی تھی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی اور اُن میں امام بنائے جولوگوں کو حق سمجھاتے تھے پھر بنی اسرائیل اختلاف میں پڑ گئے۔ اللہ تعالی قیامت کے دن اُن کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا ۔ حقائق کو دیکھ کر لوگ اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالی خشک زمین پر بارش برساتا ہے پھر اُس زمین میں سے کھیتی نکالتا ہے تو اُس میں سے اُن کے مویشی اور وہ خود کھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : فیصلہ (یعنی قیامت) کا دن کب آئے گا؟ ان سے کہہ دو؛ تمام کافر اور مجرم بہت بڑے خسارے میں ہوں گے ۔
(سورہ السجدہ مکمل )
سوره الاحزاب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منہ بولے بیٹے کے بارے میں احکامات دیئے کہ کسی کو زبان سے بیٹا کہہ دینے سے کوئی اس کا حقیقی بیٹا نہیں ہو جاتا بلکہ وہ اپنے حقیقی باپ کا ہی بیٹا رہے گا اور اس کی ولدیت کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو خود ان کی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے حق کا پیغام پہنچانے کا عہد لیا اور مثال کے لئے پانچ بڑے رسولوں کا ذکر کیا اور یہ مقصد بیان فرمایا کہ ان انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کو قبول کر کے کس نے سچائی کو اختیار کیا اور جن لوگوں نے انکار کیا ہوگا ان کے لئے عذاب کی وعید بیان فرمائی۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں پر اپنے احسان کو یاد دلایا کہ سارا عرب غزوہ خندق ( غزوہ احزاب) مدینہ منورہ پر شکر لے کر حملہ آور ہوا تھا تو اللہ تعالی نے ان پر ایسی آندھی بھیجی کہ تمام عرب کے لشکروں کے پیرا کھڑ گئے اور محاصرے کے دوران منافق اور مؤمن کی پہچان بھی ہو گئی۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک منافقین کے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو ظاہر فرمایا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھروں حفاظت کرنے کے بہانے سے جنگ سے بھاگنے کی اجازت مانگ رہے تھے اور منافق تو ایسے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور اللہ تعالیٰ سے پکا عہد کرنے کے بعد بھی کافروں کے آگے جھک جاتے ہیں اور کفر کرنے لگتے ہیں اور یہ منافق دوسروں کو بھی اللہ تعالی کے لئے لڑنے سے روکتے ہیں تو اللہ تعالی نے ان کے عمل ضائع کر دئیے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) میں مسلمانوں کے ثابت قدم رہنے پر اُن کی تعریف کی اور بشارت دی کہ اس جنگ سے مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط ہوا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جو عہد کیا تھا اس عہد کو پورا کیا اوراللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں بہترین صلہ عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی چاہے تو منافقوں کو عذاب دے یا انھیں توبہ کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو واپس بھیجا۔ وہ جلتے اور کڑھتے ہوئے واپس گئے اور انہوں نے کوئی بھلائی نہیں پائی ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور جن اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کافروں کی مدد کی تھی اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تمہارا رعب پیدا کر دیا اور اُن کے قلعوں سے انہیں نکال دیا اور اُن کی زمین اور مال کو مسلمانوں کے لئے حلال کر دیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں