خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 2
مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قبلہ کی تبدیلی کاحکم فرمایا۔ پہلے آپ ﷺ اور مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ جسے یہودی اور عیسائی اپنا قبلہ مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ جانتے تھے کہ اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے۔ اس لئے حکم آنے کے انتظار میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ اللہ تعالی نے اس کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ ہم تمہارا رخ اس قبلہ ( خانہ کعبہ ) کی طرف پھیر دیتے ہیں جس کی طرف تم چاہتے ہو اور یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں فرمایا کہ اب یہ بے وقوف قبلہ پھیر نے پر حیرت کا اظہار کریں گے حالانکہ اس سے پہلے کے کئی رکوع میں اللہ تعالی نے بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ اس لئے اب اگر یہ لوگ انکار کریں گے تو خود اپنا نقصان کریں گے۔
رکوع نمبر 2
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کے قبلہ بنانے کے بارے میں ہدایات دیں اور رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان فرمائے ۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی اور نماز اور شہداء کے بارے میں احکامات دیے اور آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور اُن پر صبر کرنے والوں کو خوش خبری دی۔ اس کے بعد حج کے احکامات بتائے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے پچھلے رکوع کے آخر میں اور اس رکوع کے شروع میں اپنی وحدانیت کا اعلان فرمایا اور بتایا کہ کائنات کی تخلیق اللہ تعالی نے کی ہے اور وہی اسے سنبھال رہا ہے اور وہی اکیلے پوری کائنات کا نظام چلارہا ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہوتو اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور کرو۔ اب اس کے بعد اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو خالق ، مالک اور معبود مانے گا تو قیامت کے دن اس کا انجام بہت برا ہو گا اور وہ ہمیشہ آگ میں رہے گا۔
رکوع نمبر :5
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے دیئے ہوئے رزق سے فائدہ اٹھاؤ اور شیطان تمہیں برائی کا حکم دیتا ہے تو اس کی بات نہ مانو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے بعد کافروں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہتے ہیں : ہم وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کر تے تھے ۔ چاہے اُن کے باپ دادا گمراہ ہی کیوں نہ ہوں اور انکار کرنے والوں کو گونگا، بہرہ اور اندھا فرمایا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو احکامات دیئے اور رکوع کے آخر میں فرمایا: جو لوگ اللہ تعالی کتاب کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں وہ دراصل اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور آخرت میں اُن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: صرف مشرق یا مغرب کی طرف منہ پھیرنا نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی پر ، اس کے نبیوں پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور یقین رکھے کہ مجھے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو جواب دیتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ کی محبت کی وجہ سے رشتہ داروں یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں اپنا مال خرچ کرے، نماز قائم کرے، زکوۃ دے، وعدہ کرے تو پورا کرے سختی میں، تکلیف میں اور جنگ میں صبر کرے تو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔ اس کے بعد قصاص کے احکامات اور وصیت کے احکامات بیان فرمائے۔
رکوع نمبر 7
اس رکوع میں اللہ تعالی نے روزے کے احکامات بیان فرمائے ۔ درمیان میں قرآن پاک کے بارے میں بتایا کہ یہ حق ہے ، لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور فرقان ہے اور یہ بھی بتایا کہ میں اپنے بندوں کے بے حد قریب ہوں اور اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں اور پھر رکوع کے آخر تک روزوں کے احکامات بیان کئے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حج کے کچھ احکامات بتائے اور جہاد ( یعنی اللہ کے دین کی سر بلندی لئے لڑنے) کے احکامات بتائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لئے تب تک لڑو جب تک فتنہ باقی رہے۔ اس کے آگے فرمایا: جس نے تمہارے ساتھ جتنی زیادتی کی ہے تم بھی صرف اتنی ہی زیادتی کرو اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حج کے احکامات بیان فرمائے۔
رکوع نمبر 9:
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے حج کے احکامات بتائے، درمیان میں مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگا کرو۔ حج کے احکامات کے بعد کا فر کا کردار پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ اس کے بعد مؤمن کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہر عمل کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے لئے بکنا پڑے تو اپنے آپ کو بیچ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، تم اس کے بہکاوے میں نہ آؤ اور یہ بھی فرمایا کہ پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ یعنی اپنا ہر عمل خالص اللہ کے لئے کرو۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ صاف حق آجانے کے باوجود انھوں نے انکار کیا اور آگے فرمایا: دنیا کو کافروں کے لئے سجا دیا گیا ہے۔ وہ عیش و آرام میں رہتے ہیں اور مسلمانوں پر ہنستے ہیں ۔ قیامت کے دن ایمان والے اُن پر ہنسیں گے ۔ اس کے بعد انبیائے کرام کی بعثت کا ذکر فرمایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے جو سچے دل سے اسلام قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد جنت میں جانے کے لئے آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا: اپنے والدین ، رشتہ داروں، یتیموں محتاجوں اور مسافروں پر خرچ کرو ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: تم پر جنگ فرض ہے اور وہ تمہیں نا گوار ہے ۔ ہو سکتا ہے جو تم نا پسند کر رہے ہو اس میں تمہارے لئے بھلائی ہو اور جس کو پسند کرو، وہ تمہارے لئے بُرا ہو۔ یہ اللہ تعالی جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
رکوع نمبر :11
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے بارے میں بتایا اور فرمایا: جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ تعالٰی کے راستے میں لڑے تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں ۔ اس کے بعد شراب اور جوئے کو حرام قرار دیا اور یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد کا فرعورت اور کافر مرد سے نکاح کو حرام کر دیا اور فرمایا: یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے حکم اور نصیحت سے جنت کی طرف بلاتا ہے۔
رکوع نمبر 12 اور رکوع نمبر 13
اللہ نے رکوع نمبر 12 کے شروع میں حیض کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد پورے رکوع اور رکوع نمبر 13 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے۔
رکوع نمبر 14 اور رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں طلاق کے بارے میں بتانے کے بعد بچے کو دودھ پانے کے بارے میں احکامات دیئے اور اس کے بعد عدت کے بارے میں احکامات دیئے اور پورے رکوع نمبر 15 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے۔
رکوع نمبر :16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کے ایک گروہ کا واقعہ بتایا جو طاعون کی موت کے ڈرسے بستی سے نکل گئے تھے تو اللہ تعالی کے حکم سے سب کو ایک ساتھ موت آگئی۔ اور اللہ تعال کے لئے لڑنے کی تلقین کی اور جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ جب انھوں نے اپنے نبی ( حضرت شموئیل علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے بادشاہ مقر کرو تو ہم اس کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے لڑیں گے۔ اللہ تعالی کے حکم سے نبی علیہ السلام نے فرمایا طالوت تمہارا بادشاہ ہے اوراس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں تابوت سکینہ واپس مل جائے گا۔ جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہا السلام کی یادگار چیزیں اور توریت کی پتھر کی لوحیں ہیں۔


Masha Allah....jazakallahu khairan kaseera fid dunya Wal aakhira
جواب دیںحذف کریں