19خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی کافروں کا انجام بتایا اور مومنوں کو بشارت دی کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے جو انسانوں کو گھیرے میں لے لیں گے ۔ اُس دن ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی بادشاہت دیکھے گا اور اسے اپنا بادشاہ مانے گا۔ تو اس دن مؤمنین کا اچھا ٹھکانہ ہوگا۔ حساب کے بعد اچھی آرام کی جگہ جنت ملے گی اور اُس دن صدمے اور سوچ و بچار میں کافر اپنے ناخنوں اور انگلیوں کے ساتھ ہاتھ تک چبا ڈالیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ! ہم نے شیطان کو دوست بنایا اور اس کے بہکاوے میں آئے تو شیطان انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔ پھر کافروں کو جہنم میں منہ کے بل دھکیلا جائے گا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرعون اور اس کی قوم، قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود اور کنوئیں والی قوم کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا اور اُن کا مذاق اڑایا اور کفر اور شرک پر اڑے رہے تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ و ہلاک کر کے رکھ دیا اور یہ کافر آپ ﷺ کی باتوں کو ماننے کے بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم صبر نہ کرتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں گمراہ کر کے ہمارے خداؤں سے دور کر دیتے ۔ تو قیامت کے دن کافردیکھیں گے کہ کون گمراہ ہے؟ یہ کا فر تو آپ ﷺ کی باتوں کو سمجھتے ہی نہیں ہیں اور یہ جانوروں جیسے ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ نا سمجھ اور گمراہ ہیں۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سورج کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا اور رات کو اس لئے بنایا تا کہ تم آرام کرو اور دن کواس لئے بنایا تاکہ اس میں اللہ تعالی کا فضل اور اپنے لئے رزق تلاش کرو اور اللہ تعالی بارش برساتا ہے تاکہ اس صاف اور پاک پانی سے انسان اور دوسرے جاندار فائدہ اٹھا ئیں اور اللہ تعالی نے دو سمندر ساتھ ساتھ بنائے کہ ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھارا ۔ دونوں ملے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے درمیان ایسی آڑ بنائی ہے جو انسانوں کو دکھائی نہیں دیتی اور انسان کو بنایا اور اس کے رشتہ دار اور سرال بنائی۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک بناتا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان اور جو کچھ دونوں کے درمیان ہے یہ سب چھ دن میں بنائے اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ اتنی مہربانیوں کے باوجود کافر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے بد کتے ہیں۔
رکوع نمبر4
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بُرج بنائے اور ان میں چراغ ( سورج ) رکھا اور چاند بنایا اور دن اور رات بنائے۔ اس کے بعد مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائیں کہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور جاہلوں سے بحث کرنے کی بجائے سلام کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں اور رات میں نماز پڑھتے ہیں اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور نہ کم خرچ کرتے ہیں نہ زیادہ بلکہ اعتدال سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور ناحق قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور بے ہودہ باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہاں اُن کی عزت افزائی ہوگی ۔
(سورہ الفرقان مکمل)
سوره الشعراء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قرآن پاک ایک روشن کتاب ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ اگر یہ کافر ایمان نہیں لاتے تو اس میں آپ ﷺ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ آپ ﷺ تو اپنا کام بہت اچھے طریقہ سے اور خوبی کے ساتھ کر رہے ہیں اور ان کافروں کے غم میں اپنی جان کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کا قصور ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا۔ ساتھ ہی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ فرعون کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور خود خدائی کا دعویدار بن گیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُسے اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی نشانیاں بتائیں۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کو جاری رکھا کہ فرعون نے اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام کو جادوگر سمجھا اور اپنے جادوگروں کو آپ علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے بلایا ۔ مقابلہ میں تمام جادوگر آپ علیہ السلام سے شکست کھا گئے اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کو پہچان لیا تو تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: تم لوگ میری اجازت کے بغیر موسیٰ (علیہ السلام ) کے خدا پر ایمان لے آئے ، میں تمہیں دردناک سزا دوں گا۔ جادوگر بولے: ہم تو اللہ تعالی پر ایمان لے آئے ہیں، اب تجھے جو بھی کرتا ہے کر لے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل گئے تو فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا پیچھا کیا۔ اللہ تعالی کے حکم سے آپ علیہ السلام نے دریا پر عصا مارا تو راستہ بن گیا۔ بنی اسرائیل دریا پار کر گئے ۔ فرعون اور اس کا لشکر پیچھا کرتا ہوا دریا میں اتر گیا تو اللہ تعالی نے اُن سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر کافر تھے۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جب انھوں نے اپنے باپ آذر کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ان بتوں سے بیزار ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جو مجھے بیماری سے شفا دیتا ہے اور جب قیامت آئے گی تو ابلیس اور اس کے بہکاوے میں آنے والے سب کے سب جہنم میں ہوں گے۔ تو اس میں نشانی ہے اور اُن سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: تمہارے ساتھ تو غریب اور ایسے لوگ ہیں جن کی ہماری نظروں میں کوئی وقعت نہیں ہے اور اگر تم اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور باقی سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہت طاقت ور بنایا۔ تم اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرو ۔ اس نے تمہیں چشموں اور پھلوں کا بہترین رزق عطا فرمایا ہے، اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ
جائے لیکن قوم عاد نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ اس میں (عبرت کی) نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر فر مایا کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کے طور پر حاملہ اونٹی کی مانگ کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچاتا ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو انھوں نے اونٹنی کوقتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سب کو ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالٰی عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُرے عمل سے روکا تو وہ نہیں مانے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے بن والوں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے جھٹلا دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ علیہ السلام پر جادو کیا گیا ہے اور اگر آپ علیہ السلام سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیں تو اُن پر سائبان کے دن کا عذاب آیا اور وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ اس میں نشانی ہے اور اُن میں اکثر ایمان والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ عزت والا مہربان ہے۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام لے کر آپ ﷺ کی طرف آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ شیطان (جنات) اس قابل ہیں ہی نہیں کہ وہ قرآن پاک جیسی عظیم اور حکمت والی چیز لاتے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو ہر سننے کی جگہ ( آسمانوں) سے دور کر دیئے گئے ہیں اور شیطان تو ہر بڑے بہتان لگانے والے گنہگار پر اترتے ہیں اور شیطان اپنی سنی ہوئی باتیں انھیں بتاتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔
(سورہ الشعراء مکمل)
سوره النمل
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنین کی خصوصیات بتائیں۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ عذاب اور خسارہ انہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کو وطور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا اور معجزے عطا فرمائے اور حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو۔ جب آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے معجزے دکھائے تو فرعون نے کہا یہ تو جادو ہےاور انکارکر دیا تو فسادیوں نے ظلم اور تکبر کیا، ان کا بہت برا انجام ہوا۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤدعلیہ السلام کا وارث بنایا اور پرندوں کی بولی سکھائی۔ انسانوں اور جنات کا حاکم بنایا۔ ایک دن آپ علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ جارہے تھے تو انھوں نے چیونٹی کی آواز سنی جو کہہ رہی تھی کہ تمام چیونٹیاں گھروں میں داخل ہو جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں کچل ڈالے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور جب تمام پرندوں کو دیکھا تو ہد ہد غائب تھا۔ جب وہ آیا تو اس نے بتایا کہ میں شہر سبا سے آیا ہوں ۔ وہاں ایک عورت حکمرانی کر رہی ہے اور وہ لوگ سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ شیطان نے اُن کے اعمال اُن کی نگاہ میں اچھے کر دیئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کوسجدہ نہیں کرتے تو آپ علیہ السلام نے خط لکھ کر اُسے دیا اور فرمایا : یہ لے جا کر وہاں ڈال دے اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں تو حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے کہا۔ میرے پاس ایک عزت والا خط حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے آیا ہے، لکھا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تم میرے مقابلہ میں زور آزمائی نہ کرو اور مسلمان ہونے کیلئے میری خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اس حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے رائے مانگی تو انھوں نے کہا: ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ باقی تمہاری مرضی ، تو اس حکمراں عورت نے کہا: جب بادشاہ کسی علاقہ پر قبضہ کرتے ہیں تو اس علاقہ والوں کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ تو جب تمام تحفے لے کر ایلچی آیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہمیں لالچ دیتے ہو؟ واپس جاؤ ؟ ہم وہ لشکر لے کر حملہ کریں گے کہ اُس کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے درباریو! کون ہے جو ملکہ کے آنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک خبیث جن بولا: آپ علیہ اسلام کا دربارختم ہونے سے پہلے میں وہ تخت لے آؤں گا تو ایک شخص جسے کتاب کا علم تھا۔ اس نے کہا: آپ علیہ السلام کے پلک جھپکانے سے پہلے حاضر کر دوں گا تو آپ علیہ السلام نے وہ تخت اپنے پاس رکھا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کا فضل ہے اور تخت میں تھوڑی سی تبدیلی کروا دی۔ جب ملکہ آئی تو اسے تخت دکھایا اور پوچھا تمہارا تخت کیسا ہے ؟ تو اُس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ وہی تخت ہے اور یہ اللہ تعالی کے فضل سے میرے پاس آیا تو ملکہ نے اسلام قبول کر لیا۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور اللہ کا حکم مانے سے انکار کر دیا اور گنا ہوں پر اڑے اور اُن سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالی نے دونوں قوموں پر عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیا اور دنیا والوں کیلئے نشانی بنا دیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں