خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 18
مرتب شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره المؤمنون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1:
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنوں کی چند خوبیاں بتائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، نماز میں اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور بے ہودہ باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ امانتوں کو ادا کرتے ہیں، جو وعدہ اور عہد کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی پانی کی بوند کوخون کی پھٹکی بناتا ہے۔ پھر اس کو گوشت کی بوٹی بناتا ہے۔ پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بناتا ہے اور پھر ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھاتا ہے اور اسے خوب صورت انسان کی شکل میں دنیا میں لاتا ہے اور اللہ تعالی سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ اس کے بعد زمین اور اس کی نعمتوں کا ذکر فر مایا اور جانوروں کے پیٹ سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے کیا۔
رکوع نمبر 2:
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ تم تو ہماری طرح ایک انسان ہو اور بس ۔ اور ہمیں دیوانے لگتے ہو، ہم تمہارے صحت مند ہونے کا انتظار کریں گے ۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری مددفرما! تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوکشتی بنانے کا حکم دیا۔ پھر جب طوفان کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی کے حکم سے آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے کشتی والوں کو محفوظ رکھا اور تمام کافروں کو غرق کر دیا۔,
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی ایک رسول اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ جب رسول نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو ، ہماری طرح کھاتے اور پیتے ہو۔ اگر ہم تمہاری بات مانیں گے تو نقصان میں رہیں گے اور ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے اور مرنے کے بعد آخرت کی کوئی زندگی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے اور تم جس قیامت کی بارے میں بتارہے ہو وہ کب آئے گی؟ تو رسول نے دعا کی کہ اے اللہ! ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو میری مدد کر ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک چنگھاڑ بھیجی اور سب کو کوڑا بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد کئی قوموں کا حال بتایا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا ذکر کیا اور فرعون اور اس کی قوم کا انجام بتایا۔
رکوع نمبر 4
پچھلے رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تھا۔ اس رکوع میں اُن کا ذکر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ کو نشانی بنایا اور ہر نبی اور رسول اور امتوں کا ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے لیکن بہت سی امتوں نے اس میں تبدیلی کر لی اور ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے تو انھیں اُن کے حال پر چھوڑ دو اور ایمان والے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس قرآن پاک میں حق ہے اور کا فر غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور حق کو چھوڑ کر بیٹھے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو نہیں پہچانا جو حق لے کر آئے اور حق کا فروں کو بُرا لگتا ہے۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا اور اسے کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے، مگر کا فرحق کو نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ نے ہی زمین کو پھیلایا، وہی زندہ کرتا ہے پھر مارتا ہے اور پھر زندہ کرے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے پوچھو! زمین کا مالک کون ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں سوچتے ؟ ان سے پوچھو! ساتوں آسمان کا ، عرش عظیم کا کون مالک ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں ڈرتے ؟ ان سے پوچھو، کون ہے جس کے قابو میں ہر شئے ہے اور وہی پناہ دیتا ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو کس فریب میں پڑے ہوئے ہو؟ اور اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی دوسرا خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی اپنی مخلوق لے جاتا ۔
رکوع نمبر 6:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ جب ان کافروں میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں ۔ شاید میں اب نیکی کما کر آؤں ۔ تو جب صور پھونکا جائے گا اور سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع ہوں گے تو کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! ہمیں ایک موقع اور دے۔ تو اُن سے کہا جائے گا: تم دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے تو آج ایمان والے کامیاب ہیں اور جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کتنا وقت رہے؟ تو کہیں گے: ایک دن یا دن کا ایک حصہ رہے۔
(سورہ المؤمنون مکمل)
سوره النور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7 اور 8
اللہ تعالیٰ نے ان دو رکوع میں نکاح اور زنا کے احکامات بیان فرمائے اور اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر لگے الزام کو جھوٹا ثابت کیا اور بتایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پاک وصاف اور بے قصور ہیں اور منافقوں نے افواہیں پھیلا کر جھوٹا الزام لگا کر بد نام کرنا چاہا ہے اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت آپ ﷺ پر ہے
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیوں کہ وہ صرف اور صرف بے حیائی اور بُری بات ہی سکھلائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ معاف کر دیا کرو اور نظر انداز کر دیا کرو۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش کر دے اور جو پاک و صاف اور بے قصور ایمان والوں پر جھوٹ الزام لگاتے ہیں ۔ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور قیامت کے دن بڑا عذاب ہے۔ اُس دن ان کی زبانیں ، ہاتھ اور پاؤں اس بات کی گواہی دیں گے جو یہ کرتے رہے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ بغیر اجازت لئے دوسروں کے گھروں میں نہ جاؤ اور پہلے سلام کرو اور مسلمان مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور مسلمان عورتیں بھی اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں اور اپنا سنگھار حتی الامکان چھپانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد عورت کے پردے کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا کہ پاؤں زور سے زمین پر نہ مارو کہ زیور کی آواز پیدا ہو۔ اس کے بعد نکاح کے بارے میں احکامات دیئے۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنے نور کی مثال بیان فرمائی ۔ اس کے بعد مؤمنین کا ذکر فرمایا جو اسلام کی روشنی میں چلتے ہیں کہ صبح وشام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کسی سوداگری یا کاروبار یا خرید و فروخت کی وجہ سے اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں اور کافر کے بارے میں بتایا کہ کفر کے اندھیروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں پڑتا یہاں تک کہ قیامت کے دن تک پہنچ جائیں گے اور تب انھیں معلوم ہوگا کہ وہ دھو کے میں پڑے ہوئے تھے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کر رہے ہیں اور ہر جاندار کواپنی تسبیح اور نماز معلوم ہے اور زمین و آسمان کی سلطنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور پھر بادل اور بارش کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے کسی جاندار کو زمین پر پیٹ کے بل چلنے والا بنایا، کسی کو دو پیر پر چلنے والا اور کس کو چار پیروں والا بنایا تو اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب انھیں فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے اور یہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی منافقوں کے راز کوکھولا ہے۔ رکوع کے شروع میں مسلمانوں کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کو جب اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ خوشی سے آتے ہیں اور سچے دل سے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں اور منافق قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم ضرور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلیں گے لیکن دل سے جانا نہیں چاہتے ۔ آپ اُن سے کہیں کہ تم قسمیں نہ کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اور آپ کے ذمہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام صاف صاف لوگوں تک پہنچا دیں اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کریں گے تو اللہ تعالی ضرور انھیں زمین کی خلافت عطا فرمائے گا اور کا فر اللہ تعالیٰ کے قابو سے نکل نہیں سکتے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے کہ کس وقت کون بغیر اجازت کے گھر میں آسکتا ہے اور کس کو اجازت لے کر آنا چاہئے اور کن عورتوں کو کس طرح پردہ کرنا چاہیے اور کس کس کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ جب کسی کے گھر میں جاؤ تو پہلے سلام کر لو اور یہ آپس میں ملنے کے وقت بہت پاکیزہ اور مبارک دعا ہے۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے رکوع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت نہ چلے جایا کرو بلکہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر جایا کرو۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ انتہائی ادب سے اور بہترین القاب سے مخاطب کیا کرو۔
(سورہ نور مکمل)
سوره الفرقان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن پاک اپنے بندہ و رسول ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور تمام جہان والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا ہے اور زمین اور آسمانوں پر اللہ تعالی ہی کی بادشاہت ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی کائنات بنانے میں اس کا کوئی ساجھی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہر چیز کی تخلیق کی اور ٹھیک اندازے پر رکھا اور لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسوں کو معبود بناتے ہیں جو نہ تو انھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ وہ تو خود اپنے بھلے اور برے کے مالک نہیں ہیں اور نہ اُن کو جینے کا کچھ اختیار ہے اور نہ مرنے کا اور کا فر لوگ رسول اللہ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ قرآن پاک خود بنا لیا ہے یا دوسرے لوگوں نے اُن کی مدد کی ہے۔ تو یہ بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اُن کی پیروی نہیں کریں گے (نعوذ باللہ ) ان پر جادو ہوا ہے۔ یہ سب کہہ کر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کا انجام بتایا کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ تو جہنم کی آگ کو دور سے دیکھیں گے کہ جوش مار رہی اور چنگھاڑ رہی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافرجن کو معبود مانتے ہیں اُن سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے ان کا فروں کو گمراہ کر دیا تو وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ایسا کبھی نہیں کہا۔ اے اللہ ! تو نے ان کافروں کو دنیا کا عیش و آرام دیا تو یہ خود تجھے بھول گئے اور شرک میں مبتلا ہو گئے ۔ تو کافر جن کو معبود مانتے ہیں وہ خود انکار کر دیں گے۔ تو ہم کافروں کو زبردست عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
(پارہ نمبر 18 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں