خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 17
سوره الانبياء
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جب کا فروں کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے تو کا مذاق اڑاتے ہیں اور اُن کے دل دنیا میں مگن ہیں اور یہ بدبخت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ جادوگر ہیں ۔ شاعر ہیں اور من گھڑت باتیں کرتے ہیں اور ہماری طرح آدمی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی بستی میں اپنا رسول بھیجا تو آدمی ہی کو بھیجا۔
رکوع نمبر 2:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی بستیوں کو تباہ کر دیا جو اللہ تعالیٰ کا انکار کرتی ہیں ۔ جب اُن پر ہمارا عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔ اُن سے کہا گیا کہ بھا گو نہیں بلکہ اپنے دنیاوی عیش و آرام میں لوٹ جاؤ تو انھوں نے کہا: ہائے ہماری خرابی! بے شک ہم ظالم تھے، تو وہ یہی بار بار کہتے رہے اور انھیں تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد بتایا کہ زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے ، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس میں ذرا بھی سستی نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
رکوع نمبر 3:
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر یہ کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور ہر جاندار چیز کو بنایا اور زمین میں (پہاڑوں کے ) لنگر ڈالے اور راستے بنائے اور آسمان کو چھت بنایا اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند بنائے کہ وہ اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں تو اس دنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں رہے گا اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ کا فرآپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آدمی بہت جلد باز ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ یہ پوچھتے ہیں تو جب وہ آئے گی تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ اچانک آئے گی۔ تو جن لوگوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا ہوگا تو قیامت میں وہ خود مذاق بن جائیں گے۔
رکوع نمبر 4:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کون ہے جو ہر وقت تمہاری نگہبانی کرتا ہے؟ کیا اُن کے کچھ خدا ہیں؟ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاتے ہیں۔ وہ تو خود اپنے آپ کو کسی تکلیف سے نہیں بچا سکتے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں اور اُن کے باپ دادا کو دنیا میں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے اور قیامت کے دن کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا اور جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل کیا ہوگا تو اللہ تعالی اس کے عمل کو سامنے لے آئے گا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کے کافروں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : میں ضرور تمہارے بتوں کو توڑوں گا اور آپ علیہ السلام نے مناسب موقع دیکھ کر حکمت کے ساتھ تمام بتوں کوتوڑ دیا اور سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ کافروں نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ تم نے ہمارے خداؤں کو توڑا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر یہ بولتے ہیں تو ابھی سے پو چھ لو ۔ انھوں نے کہا: ہم سے مذاق کرتے ہو، یہ بول نہیں سکتے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: پھر یہ کیسے تمھارے خدا ہو سکتے ہیں ؟ کیا اب بھی تمھیں عقل نہیں آئی تو کافروں نے کہا: اپنے خداؤں کی مدد کرو اور ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام نے برکت والی زمین کی طرف ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام بیٹا اور یعقوب علیہ السلام پوتا عطا فرمایا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور آپ علیہ السلام اور ایمان والوں کو نجات دی اور کافروں کو غرق کر دیا۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے اُن دونوں کو علم اور حکومت عطا فرمائی تھی اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اللہ تعالی کی تسبیح کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زرہ بنانی سکھائی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو تیز ہوا پر قابو دیا تھا اور وہ آپ علیہ السلام کے حکم سے چلتی تھی اور شیطان بھی آپ علیہ السلام کے قابو میں تھے ۔ اس کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور صحت اور گھر والے عطا کئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت ذوالکفل علیہ السلام یہ سب صبر کرنے والے تھے اور ذوالنون ( حضرت یونس علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں سے پکارا تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا سنی اور بڑھاپے میں آپ علیہ السلام کو ایک بیٹا حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سارے جہان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانی بنایا اور دین تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے تو صرف اسی کی عبادت کرو اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ایمان والے جو بھی نیک اعمال کریں گے اللہ تعالی ان کی پوری قدر کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ یا جوج ماجوج آزاد کئے جائیں گے اور پھر قیامت آئے گی ۔ قیامت کے دن کافر اور جن کو وہ پوجتے ہیں، سب جہنم میں ہوں گے۔ اگر یہ خدا ہوتے تو جہنم میں نہ ہوتے ۔ اس کے بعد نیک ایمان والوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
(سورہ الانبیاء مکمل )
سورہ الحج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو مخاطب کر کے قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ بہت سے لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی بات مانتے ہیں اور شیطان لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو اپنی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹکی بنائی پھر گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہاتھ ، پیر، کان ، ناک اور چہرہ وغیرہ بنایا اور ایک مقررہ وقت تک تمہاری والدہ کے پیٹ میں رکھا، پھر بچہ بنا کر نکالا پھر تمہیں جوانی تک پہنچایا اور تم میں سے کوئی پہلے مرجاتا ہے اور کوئی معذوری کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین سے اللہ تعالی جو کچھ اُگاتا ہے اس پر غور کرنے کی ترغیب دی پھر فرمایا: اب جو قیامت کے آنے پر شک کرے گا تو وہ نقصان میں ہوگا۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ ایسوں کی پوجا کرتے ہیں جو انھیں نہ تو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور ایسے ہی لوگ دور کی گمراہی اور نقصان میں ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام میں رکھے گا ۔ جو یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں فرمائے گا تو حسد اور جلن کی وجہ سے اپنے آپ کو بلاک کرلے، اور مسلمان، یہودی ، عیسائی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک (بتوں کی پوجا کرنے والے ) ان سب کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ فرمادے گا اور تم دیکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور چوپائے اور بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدے کرتے ہیں تو کافروں کو آگ کا کپڑا پہنایا جائے گا اور کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں تک گل جائیں گی۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں سونے کے کنگن پہنائے گا اور موتی اور ریشم کے کپڑے پہنائے گا اور جو کفر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو اور خانہ کعبہ کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھو اور لوگ حج کرنے آئیں اور پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم کرے گا تو وہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیاب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا تو وہ نہ دنیا کا رہا اور نہ آخرت کا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی تھی۔ اس کے بعد قربانی اور قربانی کے جانور کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد فرمایا کہ قربانی کا گوشت تم خود بھی کھاؤ اور ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بھی دو اور اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سے بلائیں ٹالتا ہے اور دغا باز اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کی اجازت دی اور بتایا کہ کا فربے گناہ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ صرف اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ تعالٰی اگر مسلمانوں کے ذریعے کافروں کو نہیں ہٹاتا تو مسجدوں، خانقاہوں ، گر جاؤں اور کلیساؤں کو گرا دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ جب مسلمانوں کو زمین پر قابو دیتا ہے تو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ یہ کا فر آپ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں ( اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ) آپ ﷺ سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کا فرلوگ جھٹلا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں کے ہزار سال کے برابر ہے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات جو رسولوں اور نبیوں پر نازل ہوتے تھے، ان میں شیطان ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا تھا تو مسلمان سیدھی راہ کو پہچان کر اس پر چلتے ہیں اور کا فر گمراہیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے لئے ہجرت کی اور اللہ تعالی کے لئے لڑے اور مارے یا مرے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام سے رکھتا ہے اور بہترین رزق عطا فرماتا ہے اور یہ کافر جن کو پوجتے ہیں وہ سب باطل ہے اور اللہ تعالی ہی کا ہے جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے اور وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ کسی کامحتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی نعمتیں انسان کو عطا فرما ئیں اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو زندہ کیا پھر وہی مارتا ہے اور پھر سب کو زندہ کرے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے عبادت کرنے کے قاعدے بنا دیے ہیں اور کا فر ایسوں کو پوجتے ہیں جن کی کوئی سند نہیں ہے اور جب کافروں پر قرآن پاک کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو غصہ سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے خطرناک وہ آگ ہے جس میں کافر ڈالے جائیں گے۔
رکوع نمبر 17:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں کافروں کو چیلنج کیا کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اُن سے کہو کہ ایک مکھی بنا کر دکھا ئیں تو وہ سب مل کر ایک مکھی نہیں بنا سکیں گے اور اگر مکھی اُن سے کچھ چھین کے لے جائے تو وہ اُس سے واپس نہیں لے سکیں گے۔ انسانوں نے اللہ تعالی کی ویسی قدر نہیں کی جیسی کی جانی چاہئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو اور اس کی بارگاہ میں رکوع اور سجدہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کافروں سے لڑو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پسند کیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین (یعنی اسلام ) عطا فرمایا اور پہلے کی آسمانی کتابوں اور اس قرآن پاک میں تمہارا نام مسلمان رکھا۔ تو تم نماز قائم کرواور زکوۃ دو اور اللہ تعالیٰ کی رسی ( قرآن پاک ) کو مضبوطی سے تھام لو۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا مولیٰ اور مددگار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں