منگل، 28 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 16 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 16

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کی چار آیات پارہ نمبر 15 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو جاری رکھا کہ دونوں ساتھ چلے۔ راستے میں دریا پار کرنے لگے تو حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کو عیب دار بنا دیا ۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں ٹوکا تو انھوں نے فرمایا: اب آپ مجھ سے الگ ہو جائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر ساتھ لیا۔ دونوں آگے بڑھے تو ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ٹوکا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: اب آپ علیہ السلام مجھ سے الگ ہو جائیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اب اگر میں نوکوں تو ضرور مجھے الگ کر دینا ۔ دونوں آگے بڑھے اور ایک گنواروں کے گاؤں میں پہنچے ۔ گاؤں والوں نے نہ انھیں کھانا دیا نہ پانی۔ اس گاؤں میں ایک دیوار گرنے والی تھی ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُس دیوار کو نئے سرے سے تعمیر کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کام کی اُن سے مزدوری لے لیتے تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: بس آپ کا میرا ساتھ یہیں تک ہے لیکن میں آپ کو اُن کاموں کی حقیقت بتادوں جن پر آپ نے صبر نہیں کیا۔ کشتی کو میں نے عیب دار اس لئے بنایا کیوں کہ وہ غریب لوگوں کی ہے اور اُن کا ظالم بادشاہ ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا ہے اور عیب دار کشی کو چھوڑ دیتا ہے۔ جس بچہ کو میں نے قتل کیا اس کے والدین مسلمان ہیں اور وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو کفر و شرک میں مبتلا کر دیتا اس لئے اُسے قتل کر دیا۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو نیک اولاد عطا فرمائے گا۔ رہی بات دیوار کی، تو وہ دیوار دو یتیم بچوں کی ہے اور اس دیوار کے نیچے اُن یتیم بچوں کے والد نے اُن کے لئے دولت دبا رکھی ہے، میں نے اللہ تعالی کے حکم سے دیوار کی تعمیر کر دی تا کہ یتیم بچے بڑے ہوں تو انھیں یہ دولت مل جائے اور یہ سب کام میں نے اللہ تعالی کے حکم سے کئے۔

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں ذوالقرنین کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے قابو میں کر دیا تھا اور بہت سا سامان عطا فرمایا تھا۔ اس نے ایک سفر کی تیاری کی اور سفر پر چلا۔ یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو وہاں ایک قوم ملی جس نے اس کی اطاعت اختیار کرلی۔ ذوالقرنین نے اُن سے کہا: جو ظلم کرے گا میں اسے سزا دوں گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گا اور جو ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔ اس کے بعد ذوالقرنین دوسرے سفر پر چلا اور سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، وہاں اسے ایک قوم ملی جس نے اطاعت قبول کر لی۔ اس کے بعد ذوالقرنین نے تیسرا سفر کیا تو دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا۔ وہاں ایک قوم ملی اور اس قوم نے کہا کہ یا جوج ماجوج پہاڑ کے اُس طرف سے آتے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کرتے ہیں ۔ آپ اُن سے ہمیں بچا ئیں تو ذوالقرنین نے دونوں پہاڑوں کے درمیان لو ہے، تانبے اور پیتل کی ایک دیوار تعمیر کر دی اور کہا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ دیوار قائم رہے گی اور جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ٹوٹ جائے گی۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا اور دوزخ کافروں کے سامنے لائی جائے گی۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کا فرشرک کر کے بچ نہیں سکتے ، اُن کے استقبال کے لئے دوزخ تیار ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ سے فرمایا: ان سے کہو کہ سب سے ناقص عمل اُن کے ہیں جو دنیا میں مگن ہیں اور دنیا کے لئے ساری جدو جہد اور کوشش کرتے ہیں تو آخرت میں اُن کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن کے استقبال کے لئے جنت تیار ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: ان سے کہہ دو کہ اگر پورے سمندر کی سیاہی بنا کر اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھی جائیں تو سمند رختم ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی با تیں ختم نہیں ہوں گی

(سورہ الکہف مکمل)

سوره مریم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ حضرت ذکریا علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو مجھے ایسا کوئی بیٹا عطا فرما جو میرے کام ( بنی اسرائیل کو اسلام کی تعلیم ) کو سنبھال سکے تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تجھے ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام ) ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا: میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، مجھے اولاد کیسے ہوگی؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک ایسا ہی ہوگا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس بشارت دینے کے لئے فرشتہ کو بھیجا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں تو ایسا کیسے ہوگا؟ تو فرشتہ نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہا جنگل میں چلی گئیں اور وہیں آپ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اللہ تعالی نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم سے جب کوئی اس بچے کے متعلق پوچھے تو بچے کی طرف اشارہ کر دینا۔ بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا سے بچے کے بارے میں پوچھا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو ابھی شیر خوار بچہ تھے ) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو، وہ بولے تم ہم سے مذاق کرتی ہو، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام (حیرت انگیز طریقہ پر) بول پڑے میں اللہ تعالی کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی اور مجھے بابرکت بنایا اور مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا اور ماں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی لیکن اُن کے بعد ان لوگوں ( بنی اسرائیل) نے اختلاف کیا اور ان کی مختلف جماعتیں بن گئیں۔

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ انھوں نے اپنے باپ کو اسلام کی دعوت دی تو آپ علیہ السلام کے باپ نے انکار کر دیا اور کفر پر اڑا رہا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کنارہ کر لیا اور اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر آنے کے بارے میں بتایا اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وعدے کے سچے تھے، رسول تھے اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور اللہ تعالی کو پسند تھے ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وہ رسول تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلندی پر اٹھا لیا تو یہ وہ ہیں جن پر اللہ تعالی کا انعام ہوا۔ آگے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول اٹھائے ۔ نیک لوگ بھی ہوئے ۔ پھر ان کے بعد نا خلف لوگ بھی آئے جنھوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق چلے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالی نے ان کے لئے جنت کو سجایا ہے۔ 

رکوع نمبر8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ آدمی کہتا ہے: اللہ تعالی دوبارہ مجھے کیسے بنائے گا ؟ تو آدمی غور کرے کہ جس طرح اللہ تعالٰی نے اسے پہلی مرتبہ زندہ کیا تھا بس ایسے ہی دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ سب انکار کرنے والوں کو دوزخ کے پاس حاضر کرے گا۔ آگے فرمایا: ہر انسان کو دوزخ پر سے (جس پر پل صراط رکھا ہوگا اور اس) پر سے گزرنا ہے۔ نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بچالے گا اور ظالموں ( کافروں، منافقوں اور گنہ گاروں ) کو اس میں ( جہنم میں ) گٹھنوں کے بل چھوڑ دے گا اور کافروں کو دنیا میں مال و دولت اور عیش و آرام عطا کر کے اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور قیامت کے دن انھیں سخت عذاب دے گا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں ایک مقررہ مدت تک مہلت دی ہے۔ اس کے بعد قیامت کے روز ایمان والوں اور نیک لوگوں کو مہمان بنائے گا اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانک دے گا اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا کر اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے آسمان پھٹ سکتا ہے۔ زمین پھٹ سکتی ہے اور پہاڑ گر سکتے ہیں۔ واقعہ یہ ہیکہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے بندے بن کر حاضر ہوں گے، جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنی محبت عطا فرمائے گا۔ 

(سورہ مریم مکمل)

سوره طه

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک آپ ﷺ پر اس لئے نہیں اتارا کہ اس کی وجہ سے آپ ﷺ مشقت میں پڑ جائیں بلکہ اس لئے اتارا ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو بشارت دیں اور کافروں کو ڈرائیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جارہے تھے تو کوہ طور پر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نبوت ورسالت اور معجزات عطا فرمائے۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ نبوت و رسالت اور معجزات کے ملنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا مددگار بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو تمام باتیں تفصیل سے بتانے کے بعد اللہ تعالی نے حکم دیا کہ تم اور تمھارا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسلام کی دعوت دو ۔ دونوں حضرات علیہما السلام نے فرعون کے دربار میں جا کر اسے اسلام کی دعوت دی۔ 

رکوع نمبر 12: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ فرعون نے اسلام کی دعوت قبول نہیں کی اور انکار کر دیا اور کہا: یہ تو جادو ہے اور جشن کے دن کو جادوگروں اور آپ علیہ السلام کے مقابلہ کا دن مقرر کر دیا ۔ تمام جادوگروں نے اپنا جادو دکھایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے نے تمام جادو کو ختم کر دیا۔ یہ دیکھ کر تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: میری اجازت کے بغیر تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو مان لیا ، میں تمہیں سزا دوں گا ۔ جادوگروں نے کہا: اب ہم اللہ تعالی پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اب تجھے جو کرنا ہے کر لے ۔ ہم اسلام کو نہیں چھوڑیں گے اور مجرموں کے لئے جہنم تیار ہے کہ اُس میں سکون سے نہ زندہ رہ سکیں گے نہ مریں گے۔ ایمان والے اور نیک لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، وہ ہمیشہ جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور ” من وسلوئی کھانے کے لئے اتارا اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر حاضر ہوئے تو سامری نے اس دوران سونے کا بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل کو اس کی عبادت کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ تمہاری غیر موجودگی میں بنی اسرائیل شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں تو آپ علیہ السلام جلال کے عالم میں واپس لوٹے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آکر اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا کہ تم نے انھیں شرک سے کیوں نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے بتایا کہ میں نے انہیں سمجھایا تو انھوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے تک ہم بچھڑے کی پوجا کرتے رہیں گے اور میں نے یہ سوچ کر اُن پر سختی نہیں کی کہ کہیں آپ علیہ السلام یہ نہ سوچیں کہ میں نے آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا۔ تو سامری نے کہا۔ میرے دل کو یہی اچھا لگا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کروں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تیری سزا یہ ہے کہ اب تو لوگوں سے کہے گا مجھے مت چھونا اور اس بچھڑے کے بت کو ریزہ ریزہ کر کے جلا دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے آخر میں فرمایا : جس دن صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرموں کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور وہ آپس میں کہیں گے : دنیا میں ہم دس رات رہے تو اُن میں سے بہتر رائے والا کہے گا نہیں ! ہم صرف ایک دن رہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اُس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیئے جائیں گے ۔ زمین ہموار کر دی جائے گی اور لوگ صاف صاف پکارسن کر اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی بھی اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت نہیں کر سکے گا۔ صرف وہی شفاعت کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور ظلم کرنے والے ( کافر، منافق اور گنبگار ) نقصان میں ہوں گے اور ایمان والے نیک لوگ فائدے میں ہوں گے۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرشتوں کے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ابلیس شیطان نے کس طرح آپ علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکا کر جنت سے نکلوایا، اس کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ دنیا میں انسان اور شیطان ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن رہیں گے اور دنیا میں اللہ تعالی اپنے رسول بھیجے گا جو اُن کا کہنا مانے گا۔ وہ کامیاب ہوگا اور جو شیطان کا کہنا مانے گا تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائے گا ، وہ کہے گا: اے اللہ دنیا کی زندگی میں تو میری آنکھیں تھیں ، یہاں کیوں میں اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں میری نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی تو اندھا بنا رہا تو آج اللہ تعالی نے تجھے اندھا بنا دیا اور بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا فروں کے لئے ایک متعین وقت دنیا میں رہنا مقرر دیا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ اس کے بعد پانچوں وقت کی نماز کے اوقات بتائے اور فرمایا کہ کافروں کے مال و دولت اور عیش و آرام کو دیکھ کر انھیں کامیاب نہ سمجھو ۔ یہ سب تو ہم نے انھیں اس لئے دیا کہ یہ اور زیادہ فتنہ میں مبتلا ہو جا ئیں اور نماز قائم کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دو۔

 (سوره طه مکمل ) ( پارہ نمبر 16)

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں