خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 15
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره بنی اسرائیل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ راتوں رات خانہ کعبہ سے مسجد اقصی تک لے گیا ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (توریت ) عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بتا دیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا فساد ( برائیاں) پھیلاؤ گے اور غرور کرو گے تو پہلے فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر سخت لوگوں کو مسلط کر دیا جو انھیں تلاش کر کے مارتے تھے ۔ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تو پھر انھوں نے زمین پر فساد پھیلایا ( جن میں سب سے بڑا گناہ حضرت عیسی علیہ السلام کو سازش کر کے صلیب پر چڑھوانا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسا ذلیل کیا کہ وہ جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم شرارت کرو گے تو پھر ہم تمہیں عذاب دیں گے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک انھیں اپنا حکم نہ پہونچا دے اور جب وہ حکم نہیں مانتے اور انکار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ جو دنیا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دنیا عطا کرتا ہے اور جو آخرت کی کامیابی چاہتا ہے اور ایمان والا ہے تو اسے اس کی اچھی کوشش کا انعام ضرور دیا جائے گا اور اللہ تعالی دنیا میں تو کافر اور مسلمان سب کو دیتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کسی کو مال عطا کرتا ہے اور کسی کو علم عطا کرتا ہے لیکن آخرت میں وہی کامیاب ہو گا جو ایمان والا ہو اور گناہوں سے بچے اور نیک عمل کرے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں والدین کی خدمت کے احکام دیئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کی عمر تک پہونچ جائے تو اُن سے اُف تک نہ کہتا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا بلکہ ادب اور تعظیم کرنا اور نرمی اور محبت سے بات کرنا اور اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی سے روتے ہوئے دعا کرنا کہ اے اللہ ! میرے والدین پر رحم فرما جیسا رحم انھوں نے مجھ پر اس وقت ( یعنی میری پیدائش اور میرے بچپن میں ) کیا تھا ، جب میں کسی لائق نہ تھا۔ اس کے بعد صدقہ اور خیرات کے احکامات دیئے اور فرمایا: اپنا مال فضول خرچی میں مت اڑاؤ کیوں کہ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ناشکرا ہے۔ اس کے بعد بتایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی نہ کرو لیکن اتنا زیادہ بھی خرچ نہ کرو کہ تم خود محتاج ہو جاؤ۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں اولاد کے قتل سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اور تمہیں سب کو رزق عطا فرماتا ہے اور زنا سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ بہت بڑی بے حیائی ہے اور کسی کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور مقتول کے وارث کو قصاص کا حق دیا اور یتیم کا مال کھانے سے منع فرمایا۔ ہاں جو اسے پال رہا ہے تو اس کے جوان ہونے تک صرف ضرورت کے مطابق لے سکتا ہے اور برابر کا وزن کرنے کا حکم دیا اور بتایا کہ قیامت کے دن تمہارے کان ، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا اور وہ جواب دیں گے اور زمین پر اترا کر چلنے سے منع فرمایا اور فرمایا: جو کفر کرے گا وہ جہنم میں دہکا دیا جائیگا رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بناتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ انھیں بیٹے دے گا اور اپنے لئے بیٹیاں رکھے گا۔ بے شک کا فر اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں جگہ جگہ الگ الگ طرح سے کافروں کو سمجھایا لیکن ہر مرتبہ ان کافروں کی نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں لیکن انسان اسے سمجھ نہیں سکتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ سے فرمایا کہ
جب آپ ﷺ قرآن پاک کی تلاوت فرماتے ہیں تو یہ کا فر چھپ کر سنتے ہیں ( کیوں کہ انھیں اچھا لگتا ہے ) لیکن اس کے باوجود ایمان نہیں لاتے ۔ وہ اس لئے کہ یہ گھمنڈ اور تکبر میں مبتلا ہیں اور جب آپس میں بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نعوذ باللہ جادو ہواہے اور یہ کافر کہتے ہی کہ اللہ تعالی ہماری ریزہ ریزہ ہڈیوں کو کیسے نئے سرے سے بنائے گا تو ان سے کہو کہ تم پتھر اور لوہا بن جاؤ گے تب بھی اللہ تعالی تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہو کہ جب بھی بات کریں تو ایسی بات کریں جو سب سے اچھی ہو اور شیطان انسانوں میں فساد ڈال دیتا ہے اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے بعد پورے رکوع میں کا فرقوموں کی تباہی اور کافروں پر واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس شیطان کے تکبر کرنے اور انسانوں کو بہکانے کے لئے مہلت مانگنے کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا۔ اس کے بعد کافروں کے کفر کا ذ کر کیا اور بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کافروں کو زمین میں دھنسا دے یا اُن پر پتھروں کی بارش کرے یا انھیں غرق کر دے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم (انسان) کو زمین اور پانی پر سوار کیا اور ان کو پاک روزی دی اور تمام مخلوق سے افضل بنایا۔
رکوع نمبر 8 اور رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر جماعت، ہر قوم اور ہر امت کو اس کے امام کے ساتھ بلائے گا تو جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو دنیا کی زندگی میں اندھا ( انکار کرنے والا) ہوگا وہ آخرت میں اور زیادہ گمراہ ہو گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ پانچ وقت نماز کا اہتمام کرو (یہ حکم مسلمانوں کو بھی ہے ) اور فجر میں تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور تہجد کا اہتمام کرو اور بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو " مقام محمود ( جہاں ہر کوئی آپ ﷺ کی تعریف کرے گا ) عطا فرمائے گا اور یہ قرآن ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور کا فرخود اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتے ہیں
رکوع نمبر 10:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو ؛ روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چیز ہے۔ اس کے بعد چیلنج کیا کہ تمام انسان اور جنات مل کر قرآن پاک جیسی کوئی کتاب لے آئیں تو سب مل کر بھی نہیں لاسکیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے مثال دے کر سمجھایا ہے لیکن اکثر انسان اسے نہیں مانتے اور کفر کرتے ہیں۔ اس کے بعد کافروں کی عجیب عجیب فرمائشوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں اور آپ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے کہو اللہ پاک ہے اور میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا ایک رسول ہوں۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجانے کے بعد بھی یہ اس لئے ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تو اگر زمین پر فرشتے رہتے اور بستے تو اللہ تعالیٰ فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا اور اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے وہی سیدھی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو کوئی بھی اس کی حمایت کرنے والا نہ ہوگا اور کا فرقیامت کے دن منہ کے بل چلتے ہوں گے۔ اندھے، بہرے اور گونگے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہوگی اور کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی تو ہم کیسے دوبارہ اٹھا لئے جائیں گے تو جو اللہ تعالی زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر بتدریج اتارا تا کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر سکون سے اور سمجھ سمجھ کر پڑھا جائے اور فرمایا: اہل کتاب میں ایسے مؤمن ہیں (جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ) جن پر یہ قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو ۔ سب اللہ ہی کے نام ہیں اور نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت آہستہ بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔
(سورہ بنی اسرائیل مکمل)
سوره الكهف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے یہ کتاب (قرآن پاک ) رسول اللہ ﷺ پر اس لئے اتاری تا کہ آپ ﷺ کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور مسلمانوں کو اُن کے نیک اعمال پر بشارت دیں اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی ( نعوذ باللہ ) اولاد بناتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول الله ﷺ کوتسلی دی کہ اس غم میں آپ ﷺ کہیں اپنے آپ کو اتنا نہ گھلا لیں کہ جان پر بن آئے ۔ اگر یہ کا فر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس میں اُن کا قصور ہے۔ آپ ﷺ تو اپنا کام ( اسلام کی دعوت دینے کا ) برابر کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد اصحاب کہف کے واقعہ کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اصحاب کہف کچھ نو جوان ہیں جنھوں نے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر) اسلام قبول کیا اور اپنی بستی ( جس میں سب کافر تھے ) میں اپنے اسلام کا اعلان کردیا بستی والے اُن کی جانوں کے دشمن بن گئے تو وہ نو جوان اپنی جان بچا کر بستی سے نکلے اور ایک غار میں پناہ لی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سلا دیا اور سورج جب نکلتا تو وہ داہنی طرف سے چلا جاتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف چلا جاتا حالانکہ وہ غار کے کھلے میدان میں تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صاف نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16
اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں اصحاب کہف کے بارے میں بتانے کا سلسلہ جاری رکھا اور بتایا کہ اگر کوئی اُن کو دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ وہ سورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلوا تا تھا اور اُن کا کتا غار دہانے پر بیٹھا ہوا تھا ( اُن کے سونے کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو عروج دیا اور اسلام پھیلتے پھیلتے اس بستی تک پہنچ گیا اور اس وقت کے مسلمانوں (جنھوں نے اپنے آپ کو بعد میں عیسائی کہنا شروع کر دیا ) کے سامنے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اللہ تعالی موت کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کر کے اٹھائے گا؟ تب اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو جگایا ) جب وہ سو کر اٹھے تو ایک نے پوچھا کہ ہم یہاں کتنی دیر تک سوئے ؟ تو دوسرے نے کہا: ایک دن یا اُس سے کچھ کم ۔ تیسرے نے کہا یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنی دیر سوئے؟ تو ان میں سے ایک کو پیسہ دے کر بستی میں بھیجا کہ وہ کھانا لے آئے اور کہا کہ ہوشیار رہنا کہیں ہماری بستی والے تمہاری جان نہ لے لیں یا اسلام چھوڑنے پر مجبور نہ کر دیں (وہ بستی میں آیا تو حیران رہ گیا کیونکہ سب کچھ بدل گیا تھا اور لوگ اس کے لباس اور پیسے کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے تو اس نے سبب پوچھا تو اسے بتایا گیا ۔ اسے سمجھ میں آیا کہ وہ لوگ لگ بھگ تین سو سال تک سوئے رہے۔ بادشاہ کو معلوم ہوا ( وہ مسلمان تھا) اس نے اس سے تفصیل پوچھی اور پوری بستی والوں کو ساتھ لے کر اس کے ساتھ غار تک پہنچے ۔ تمام اصحاب کہف کو جب پوری بات معلوم ہوئی تو وہ پھر جا کر غار میں لیٹ گئے اور اُن کی روح قبض ہو گئی۔ اس طرح اللہ تعالی نے اصحاب کہف کے ذریعہ دنیا والوں کو بتایا کہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ اُن لوگوں پر توجہ کریں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں دو مردوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہترین باغ عطا فرمائے اور بہترین پھلوں سے رزق دیا۔ ایک اپنے باغ اور پھلوں پر اترانے لگا اور گھمنڈ کرنے لگا کہ قیامت تک میرا باغ ایسے ہی ہرا بھرا اورپھل دیتا رہے گا۔ دوسرے نے اسے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سب عطا فرمایا ہے، اس کا شکر ادا کر اور گھمنڈ نہ کر لیکن وہ نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا باغ تباہ کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں دنیا کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالی نے بارش برسائی ، اس سے گھنی ہری بھری گھاس اگائی اور پھر گھاس سوکھ کر ہوا میں اڑ گئی۔ دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور مال اور اولاد دنیا تک محدود ہیں۔ اصل چیز نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ اس دن ملے گا جس دن اللہ تعالی پہاڑوں کو روئی کی طرح اڑائے گا تو سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور بالکل اسی حالت میں ہوں گے جیسے پیدائش کے وقت تھے۔ پھر مجرموں کے تمام گناہ سامنے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں ابلیس کی نافرمانیوں کے بارے میں بتایا اور فرمایا تم اللہ تعالی کے مقابلہ میں شیطان ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو۔ جب کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کی تخلیق تنہا کی ہے اور اس کی شان نہیں کہ اپنی تخلیق میں کسی کو ساتھی بنائے تو مجرم ضرور جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
رکوع نمبر 20
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالی نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے ہر قسم کی مثالیں بیان فرما ئیں لیکن انسان اس کے باوجود کفر کرتا ہے اور وہ بہت جھگڑالو ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جو صاف ہدایت آجانے کے بعد بھی ان کافروں کو روک رہی ہے؟ انھیں چاہیئے تھا کہ اسلام قبول کرتے اور اللہ تعالی سے معافی مانگتے اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو صرف اسی لئے بھیجا کہ وہ ایمان والوں کو بشارت دیں اور کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور کافروں اور اہل کتاب نے قرآن پاک کا مذاق بنا لیا۔ یہ بہت بڑے ظالم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں، تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور کانوں کو بند کر دیا ہے۔
رکوع نمبر :21
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا ذکر فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کی تلاش میں چلے اور اللہ تعالی کی بتائی ہوئی نشانی کے مطابق آپ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام نے ساتھ رہنے کی درخواست کی تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: میں جو کچھ کروں گا آپ اُس پر صبر نہیں کر سکیں گے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں صبر کرنے کی کوشش کروں گا۔
(پارہ نمبر 15 مکمل)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں