اتوار، 26 مارچ، 2023

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 13


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 13

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی دس آیتیں پارہ نمبر 12 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بادشاہ نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر اپنے عالموں سے پوچھی تو وہ نہ بتا سکے۔ بادشاہ کو پریشان دیکھ کر بچ جانے والے خدمتگار نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بادشاہ نے اپنا خواب بیان کردیا۔خدمت گار نے کہا: جیل میں ایک شخص ہے جو اس خواب کی صحیح تعبیر بتا سکتا ہے۔ اس خدمت گار نے آپ علیہ السلام سے تعبیر پوچھی، آپ علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا دی ۔ ساتھ ہی پیش آنے والے مشکل حالات سے آگاہ کر کے اس سے بچنے کی تدبیر بھی بتا دی۔ بادشاہ بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ علیہ السلام کو بلانے کے لئے ایلچی بھیجا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو ( وہ تحقیق کرے ) کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے تو بادشاہ نے تحقیق کر کے اس عورت سے پوچھا تو اس عورت نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ۔ پھر بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پیش آمدہ مسائل و مشکلات کے حل کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: حکومت کا انتظام مجھے دے دیں، بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو ذمہ دار بنا دیا۔ 

2رکوع نمبر 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے سات سال تک مصر کا انتظام اتنی اچھی طرح سنبھالا کہ جب قحط پڑا تو مصر کے آس پاس کے علاقوں میں اناج ختم ہو گیا لیکن مصر میں کئی برسوں کا اتنا اناج تھا کہ وہ آس پاس کے علاقوں کے لوگوں بھی دے رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی اناج لینے کے لئے آئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں پہچان لیا لیکن انجان بنے رہے۔ ان کو اناج دیا اور حال چال پوچھا اور جب انھوں نے بتایا کہ ایک بھائی ہمارا اور ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اگلی مرتبہ اسے بھی لے آتا تو تمہارا ایک حصہ اور بڑھ جائے گا اور اُن کے روپئے ان کی لاعلمی میں ان کے سامان میں رکھ دیئے۔ تمام بھائی اناج لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اگلی مرتبہ بنیامین کو بھی بھیجیں گے تو اس کے حصے کا اناج بڑھ جائے گا اور جب اناج کے تھیلے کھولے تو اپنے روپے دیکھ کر حیران رہ گئے اور اپنے والد سے بن یامین کو بھی بھیجنے کا اصرار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنی جان سے بڑھ کر بن یامین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرو تو میں بھیج سکتا ہوں ۔ تمام بھائیوں نے ایسا ہی کرنے کا وعدہ کیا ۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بن یا مین کو ان کے ساتھ مصر بھیج دیا۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں مہمان خانے میں ٹھہرایا اور اکیلے میں بن یامین سے ملاقات کر کے بتایا کہ میں یوسف ہوں ( تمہارا بھائی) لیکن ابھی تمام بھائیوں کو یہ بات نہ بتانا۔ پھر جب اناج لے کر تمام بھائی جانے لگے تو اعلان ہوا کہ بادشاہ کا ، اناج ناپنے کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے۔ اس لئے سب تلاشی دیں اور تمام بھائیوں سے پوچھا: تمہارے یہاں چور کی کیا سزا ہے؟ تو انھوں نے کہا چوری کرنے والا ، سامان کے مالک کا غلام ہو جاتا ہے ۔ جب تلاشی لی گئی تو پیمانہ بن یامین کے سامان میں ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اب تم لوگ جاؤ، یہ میرے پاس رہے گا۔ تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام اپنے فیصلہ پر قائم رہے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب تمام بھائی بن یامین کو چھڑانے میں ناکام رہے تو بڑے بھائی نے تمام بھائیوں سے کہا کہ ہم نے ابا جان سے بن یا مین کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے پہلے ہم یوسف کے معاملے میں ابا جان کے ساتھ دھو کہ کر چکے ہیں اس لئے اب میں تو یہیں رک جاؤں گا اور بن یامین کی رہائی کی کوشش کرتا رہوں گا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ دوسرے تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حال بتایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تم نے یوسف کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ تمام بھائی بولے: آپ کب تک یوسف کو یاد کرتے رہیں گے؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور بن یامین کے لئے کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو صرف کا فر ہوتے ہیں۔ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہم پر بڑی مصیبت آن پڑی ہے ۔ یہ تھوڑے سے پیسے لے کر ہمیں پورا اناج خیرات سمجھ کر دے دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم جانتے ہو، تم نے یوسف اور اس کے سگے بھائی کے ساتھ کیا کیا۔ اس پر انہوں نے غور سے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان گئے اور بولے ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فضیلت عطا فرمائی اور بے شک ہم نے بہت بڑی خطا کی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ یہ میری قمیص ہے ، اسے لے جاؤ اور ابا جان کے چہرے پر ڈال دینا۔ ابا جان کی بینائی لوٹ آئے گی پھر گھر کے سب لوگوں کو لے کر میرے پاس آجاؤ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ بھائیوں نے انہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر کا بادشاہ ہونے کی خوشخبری سنائی اور درخواست کی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں پھر آپ علیہ السلام کو لے کر مصر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام استقبال کے لئے مصر کے باہر موجود تھے۔ سب کو ساتھ لے کر محل میں پہنچے اپنی والدہ اور والد کو دائیں بائیں بٹھایا اور تمام گیارہ بھائیوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق آداب شاہی پیش کیا: حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ابا جان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا، آج چاند ( یعنی ماں) اور سورج (یعنی باپ ) میرے دائیں اور بائیں ہیں اور گیارہ ستارے ( یعنی گیارہ بھائی ) مجھے آداب پیش کر رہے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے اور شیطان نے ہم بھائیوں کو الگ کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی۔ مجھے خوابوں کی تعبیر سکھلائی اور سلطنت عطا فرمائی۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی شرک کرتے ہیں۔ ان سے کہو ، میری اتباع کریں اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد تھے اور جب رسولوں اور مسلمانوں کو ظاہری طور سے ناکام ہوتا دکھائی دیا اور کافر سمجھے کہ رسولوں نے (نعوذ باللہ ) غلط کہا تب اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بچالیا اور کافروں کو دردناک سزا دی۔ بے شک اُن کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے نشانی ہے اور ان خبروں سے اُن کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ 

(سورہ یوسف مکمل ہوئی)

سوره الرعد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اس رکوع سے سورہ الرعد کی شروعات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے شروع میں فرمایا: یہ قرآن پاک کی آیتیں ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور برحق ہے۔ مگر اکثر لوگ اسے قبول نہیں کرتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستون اور سہارے کے آسمانوں کو بلند اور قائم کیا اور عرش کو بنایا اور اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور سورج اور چاند بنائے ۔ ہر ایک اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ۔ رات اور دن بنائے ۔ بے شک غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں اور زمین کے مختلف حصے بنائے اور ان میں باغ ہیں ۔ کھیتیاں ہیں ۔ کھجور کے پیڑ ہیں۔ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور اُن کے ذائقے الگ الگ ہیں ۔ بے شک عقل مندوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ عجیب بات تو کافر کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ ہیں انکار کرنے والے۔ یہ جہنم میں ہوں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ ﷺ تو صرف اللہ کے عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بادی ( راہ دکھانے والا ) مقرر کیا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اندازہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ دھیرے کہو یا زور سے وہ سب سنتا ہے اور رات میں چھپی ہوئی اور دن میں کھلی ہوئی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور ( فجر اور عصر کے وقت ) اُن کی بدلی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنا نہ چاہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے اور بجلیاں چمکاتا ہے اور بادل اس کے حکم سے گرجتے ہیں اور ( بجلی کی ) کڑک بھیجتا ہے اور کافروں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود بنالئے جب کہ وہ اُن کی کچھ بھی نہیں سنتے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے وہ کامیاب ہوئے ۔ بے شک اندھے اور آنکھ والے برابر نہیں ہو سکتے۔

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مومنین کے بارے میں بتایا اور جنت کی بشارت دی اور کافروں کی عادتیں اور ان کی بداخلاقیوں کو اجاگر کیا اور ان کی سزا اور ان کا آخری انجام بیان فرمایا ۔ مؤمنین کی خصوصیات میں بتایا کہ یہ آنکھ والے ہیں، عقل والے ہیں، نصیحت قبول کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو عبد کیا ہےاسے پورا کرتے ہیں، اللہ تعالی نے جن سے جڑنے کا حکم دیا اُن سے جڑتے ہیں۔ اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رہتا ہے اور حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں اور صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں۔ یہ جنت میں اپنے نیک والدین ، نیک بیویوں اور نیک اولاد کے ساتھ ہوں گے (جن مومن خواتین کے اندر یہ صفات اور عادات ہوں گی وہ جنت میں اپنے نیک شوہروں کے ساتھ ہوں گی ) اور فرشتے ان کو سلام کرنے آئیں گے ۔ کافروں کی صفات اور عادات کے بارے میں بتایا کہ یہ اللہ تعالی سے پکا عہد کر کے اسے توڑ دیتے ہیں (یعنی تو حید کو چھوڑ کر شرک جیسے قبیح اور ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ) اور جن سے جڑنے کا اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں اُن سے تعلق اور رشتہ ناطہ توڑتے ہیں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کام کر کے فساد پھیلاتے ہیں ۔ ان پر لعنت ہے اور یہ برے گھر ( یعنی جہنم) میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ دیتا ہے ۔ کافر اپنے عیش و عشرت پر اتراتے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑی ہے۔

رکوع نمبر 10

اس رکوع میں بھی مومنوں اور کافروں کا ذکر جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پراللہ تعالی کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ تو اللہ تعالی انکار کرنے والوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جب کہ مومنوں کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے چین وسکون پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد ہی میں در حقیقت دلوں کا چین وسکون ہے، ایمان والے کامیاب ہوئے اور جو انکار کرنے والے (کافر) ہیں اُن کے سامنے پہاڑ ہل جائیں یا زمین پھٹ جائے یا مردے باتیں کرنے لگیں، جب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ تعالی اگر چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا لیکن پھر امتحان کہاں سے ہوتا ؟ بس کا فروں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مؤمنوں اور کافروں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کا بھی ذکر کیا۔ رکوع کے شروع میں فرمایا: آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو کچھ دنوں کی مہلت دی اور پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا اور کافروں کی نگاہوں میں اُن کے اعمال انھیں اچھے لگتے ہیں اور جسے اللہ تعالی گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور کافروں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ عذاب ہے اور مومنوں کے لئے جنت کا وعدہ ہے جس میں نہریں بہتی ہیں اور میوے اور سایہ ہے اور اہل کتاب کو تو چاہیئے تھا کہ آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور قرآن پاک کو حق مانتے لیکن ان بد بختوں نے بھی انکار کیا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور مسلمانوں سے فرمایا: اگر کافروں اور اہل کتاب کی خواہشوں کے مطابق چلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 

رکوع نمبر :12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور وہ بھی بیویاں اور بچے رکھتے تھے اور کوئی بھی رسول اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی کوئی نشانی پیش کر سکتا ہے تو آپ ﷺ کے ذمہ اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیتا ہے اور حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ تعالی کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔ 

(سورہ الرعد مکمل ہوئی )

سوره ابراہیم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا : یہ قرآن پاک اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیرے سے اجالے میں لائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو دنیا کی زندگی پیاری ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی راہ (یعنی صراط مستقیم ) سے روکتے ہیں اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو اسی کی قوم میں سے بھیجا جو ان ہی کی زبان میں باتیں کرتا تھا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا۔ 

رکوع نمبر 14

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر پوری دنیا کے لوگ کا فر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود اور بہت سی قوموں کے پاس انھیں میں سے رسول آئے لیکن انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے تھے ہم اُن کی عبادت نہ کریں تو تم اپنی رسالت کی سند بتاؤ تو رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر سند نہیں لا سکتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافروں نے رسولوں سے بدتمیزی کی اور اسلام کی دعوت روکنے کی بھر پور کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں سے فرمایا کہ ہم ضرور ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور ضرور تم کو زمین میں بسائیں گے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جہنم میں انھیں پینے کے لئے پیپ دیا جائے گا جو گھونٹ گھونٹ کر کے پی سکے گا اور پھر بھی گلے سے اترنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی حق کے ساتھ زمین اور آسمان بنائے اور اگر وہ چاہے تو تمہیں تباہ کر کے نئے لوگوں کو لے آئے اور یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنم میں کافر اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ ہم پر سے تکلیف کو کچھ ٹال دو تو سردار کہیں گے: ہم بھی اسی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اب ہم چاہے بے قراری سے برداشت کریں یا صبر سے ، ہمارے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں جہنم کا ذکر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ان کافروں سے شیطان کہے گا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی ، میں نے تو صرف تم کو بہکایا تھا اور تم مان گئے ۔ تو اب مجھ پر نہیں خود پر الزام رکھو۔ اور پھر مؤمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ جنت میں ہوں گے ۔ جہاں اُن پر سلام ہوگا اور اُن کا اکرام ہوگا۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی کہ یہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ گہری قائم ہے اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ اپنا پھل اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت ہر موسم میں دیتا رہتا ہے اور کفر کی مثال ایسی ہے کہ وہ ایک گندے پیڑ کی طرح ہے جس کو اکھاڑ کر زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔ اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں حق پر قائم رکھتا ہے۔

رکوع نمبر :17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے (رسولوں کو جھٹلا کر) اللہ تعالی کی نعمت کا انکار کیا اور ہلاکت تک پہنچ گئے۔ پھر مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اس دن (یعنی قیامت) کے آنے سے پہلے جس دن نہ دوست کام آئیں گے اور نہ کوئی سودا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی نے زمین اور آسمان تمہارے لئے بنائے اور بارش برسائی اور تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے اور کشتیاں عطا فرمائیں جو سمندروں میں چلتی ہیں اور چاند اور سورج کو تمہارے لئے بنایا جو اپنے مقررہ راستے پر چل رہے ہیں اور تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرما ئیں جن کو تم گن نہیں سکو گے۔

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے اللہ اس شہر (مکہ مکرمہ) کوامن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولا د کو شرک سے بچا اور میں نے اپنی اولاد کو حرمت والے گھر (خانہ کعبہ ) کے پاس بسا دیا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں اور لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل کر دے اور اُن کو پھلوں کا رزق عطا فرما تا کہ تیرا شکر ادا کریں ۔ زمین اور آسمان میں ہر کھلے اور چھپے کو تو جانتا ہے اور تو نے مجھے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے اور مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میرے والدین اور سب مسلمانوں کو بخش دے حساب کے دن ۔ 

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا اور کافروں کی کیا کیفیت ہوگی اسے تفصیل سے بتایا کہ کافر اپنا داؤ چل رہے ہیں اور وہ ناکام ہوں گے، اس دن جب زمین اور آسمان بدل دیئے جائیں گے اور جب اللہ تعالی کے سامنے سب جمع ہوں گے اور کا فر بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آگ اُن کے چہروں کو ڈھانکے ہوئے ہوگی اور اللہ تعالی حساب لے گا اور اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ 

(سورہ ابراہیم مکمل ہوئی) 

( پارہ نمبر 13 مکمل) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں