خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 12
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره هود
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
پارہ نمبر 12 کے رکوع نمبر 1 کی پانچ آیتیں پارہ نمبر 11 میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو، میں تو صاف جنت کی بشارت دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک دنیا میں رہنا ہے۔ اگر تم انکار کرو تو میں قیامت میں تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا: کا فر اللہ تعالیٰ سے پردہ کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو دلوں کی بات جاننے والا ہے اور زمین پر ہر جاندار کو رزق دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ فرض کر لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مقررہ وقت کے لئے دنیا میں بھیجا تا کہ تمہیں آزمائے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون کفر کرتا ہے اور قیامت میں کافروں کو وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
رکوع نمبر 2
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب ہم انسان کو اپنی رحمت سے کچھ دیتے ہیں اور پھر واپس لے لیتے ہیں تو وہ ناشکری کرنے لگتا ہے اور نا امید ہو جاتا ہے اور کسی مصیبت کو دور کر کے نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کی بڑائیاں بیان کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ان کافروں سے کہو، اگر تمہیں قرآن پاک پر شک ہے تو ایسی ہی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی مل سکیں سب کو بلا لو۔ تو اے مسلمانو ! اگر یہ لوگ ایسا نہ کر سکیں تو یقین کر لو کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالی کی طرف سےہے اور جو دنیا کی زندگی کا عیش و آرام چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیاوی عیش و آرام دے گا لیکن آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہوگا اور کا فر نقصان اور خسارے میں پڑ گئے ہیں اور مسلمان کامیاب ہو گئے ۔ ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 3 اور رکوع نمبر 4
ان دونوں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ کس طرح آپ علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کا مذاق اڑایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوکشتی بنانے کا حکم دیا اور اس طوفان کی تفصیل بتائی جس میں آپ علیہ السلام کی قوم کے کا فر غرق ہو گئے اور مسلمان بچ گئے ۔
رکوع نمبر 5:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قوم عاد اور حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے آپ علیہ السلام اور اللہ تعالی کو جھٹلایا اورکفر پر اڑے رہے اور بدتمیزی کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ (نعوذ باللہ) ہمارے کسی خدا نے تمہیں پاگل بنا دیا ہے اور اگر تم سچے ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم دھمکی دے رہے ہو، تو اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر اپنا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کر دیا۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں قوم ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: ہم اُن کی عبادت نہیں چھوڑیں گے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور اگر تم سچے ہو تو پہاڑ میں سے حاملہ اونٹنی نکالو۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی تو پہاڑ میں سے ایک اونٹنی نکلی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر اس اونٹنی کو کوئی نقصان پہنچا تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ اس کے باوجود قوم ثمود نے اونٹنی کوقتل کر دیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ ہمارے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف عذاب دینے کے لئے (انسانی شکل میں ) جارہے تھے۔ راستہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر گئے ۔ آپ علیہ السلام نے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا تو انھوں نے نہیں کھایا اور بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کیلئے بھیجا ہے اور آپ علیہ السلام کو بشارت دی ہے کہ آپ علیہ السلام کو بیٹا پیدا ہو گا جس کا نام اسحاق ہوگا اور اس کے بیٹے کا نام یعقوب ہوگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی سے گذارش کرنے لگے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نہ دیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ طے ہو چکا ہے، اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا اور اس پر عذاب اور ہلاکت کا ذکر ہے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا تو آپ علیہ السلام کی قوم نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم اُن کی عبادت ضرور کریں گے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ جس کی دھمکی دے رہے ہو، تو اُن پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی اور اللہ کی طرف سے صاف صاف نشانیاں بتا ئیں لیکن فرعون اور اس کی قوم نے انکار کیا اور ہلاک ہوئے اور فرعون اپنی قوم کے ساتھ جہنم میں داخل ہو گا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کچھ بستیوں کا حال ہے جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے عذاب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے کچھ کے کھنڈرات آج بھی ہیں اور کچھ نیست و نابود ہو گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا تھا اور جن کو وہ اپنا معبود مانتے تھے وہ اُن کے کچھ بھی کام نہیں آئے ۔ قیامت کا وقت مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالی تمام لوگوں کو جمع کرے گا جو بد بخت ہوگا اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا اور خوش نصیب لوگ جنت میں ہوں گے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو ربیت عطا فرمائی لیکن اہل کتاب نے اس میں اختلاف کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقررہ وقت اس دنیا میں رہنا پہلے سے طے نہیں ہوتا تو اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور اللہ تعالی ہر ایک کے کاموں سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو سمجھایا کہ ظالموں اور گمراہ لوگوں کی طرف جھکو گے تو جہنم میں جاؤ گے، تو ایک بزرگ و برتر اللہ کی عبادت کرو اور دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو اور رات کے کچھ حصے میں بھی اور صبر کرو۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا اور نیکیاں، برائیوں کو مٹادیتی ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: ان کافروں سے کہو تم اپنا کام کئے جاؤ اور ہم اپنا کام کرتے ہیں اور دونوں کا فیصلہ قیامت میں ہوگا۔
(سورہ ہود مکمل)
سوره یوسف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا ایک خواب بتایا تو آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے گا جس طرح تمہارے باپ دادا حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر پوری کیا تھا اور تاکید کی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان انھیں بہکائے اور وہ تمہارے ساتھ کوئی چال چلیں ، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا ابا جان ( حضرت یعقوب علیہ السلام ) حضرت یوسف علیہ السلام پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ ایسا کرو یوسف کو ابا جان سے دور کر دو پھر وہ ہم پر زیادہ توجہ دینے لگیں گے ۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام سے اجازت لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے اور ایک کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کوتسلی دی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ علیہ السلام اُن پر حاوی ہوں گے اور وہ نہیں جانتے ہوں گے ۔ ادھر تمام بھائی آپ علیہ السلام کی قمیص میں جانور کا خون لگا کر روتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا کہ یوسف کو بھیٹریا اٹھالے گیا۔ ادھر کنویں پر ایک قافلہ پہنچا۔ پانی کے لئے ڈول لٹکایا تو یوسف علیہ السلام نظر آئے ۔ انھیں نکالا تو آپ علیہ السلام کے بھائی پہنچ گئے اور قافلے والوں کے ہاتھوں چند سکوں کے عوض حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچ دیا ۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو لا کر مصر کے بازار میں بیچ دیا اور آپ علیہ السلام کو مصر کے سب سے امیر آدمی نے خریدا اور گھر لا کر اپنی بیوی سے کہا کہ اسے عزت سے رکھو ۔ جب آپ علیہ السلام بڑے ہوئے تو عورت نے گھر کے تمام دروازے بند کر لئے اور آپ علیہ السلام کو بہکانا چاہا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی پناہ مانگی اور دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت نے پیچھے سے آپ علیہ السلام کو پکڑنا چاہا تو قیص ہاتھ میں آئی اور پھٹ کر ایک ٹکڑا عورت کے ہاتھوں میں رہ گیا۔ آپ علیہ السلام نے دروازہ کھولا تو عورت کا شوہر کھڑا تھا۔ اپنے شوہر کو سامنے دیکھ کر عورت نے کہا کہ یہ تمہاری بیوی کو بہکانا چاہتا تھا۔ عورت کے گھر والوں میں سے ایک شخص نے کہا: یوسف کی قمیص اگر آگے سے پھٹی ہو تو یوسف جھوٹا اور یہ سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو یہ سچا اور عورت جھوٹی ہے۔ جب قمیص کو دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی ۔ شوہر نے کہا: اے یوسف اس بات کو دبا دو اور عورت سے کہا معافی مانگ ۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ خبر دھیرے دھیرے محلہ میں پھیل گئی اور عور تیں اس عورت کو طعنے دینے لگیں تو اُس عورت نے تمام عورتوں کو دعوت دی اور جب تمام عورتیں چھری سے پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں تو آپ علیہ السلام کو آواز لگائی ۔ جب آپ علیہ السلام اندر داخل ہوئے اور تمام عورتوں کی نظر آپ علیہ السلام پر پڑی تو آپ علیہ السلام کی خوبصورتی دیکھ کر تمام عورتیں اپنے ہوش کھو بیٹھیں اور پھل کی بجائے اپنی انگلیوں کو کاٹ لیا اور کہا یہ تو کوئی بہت ہی معزز فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس عورت نے کہا: اسی لئے تو میں نے اسے ورغلانا چاہا تھا اور اگر وہ یہ کام نہیں کرے گا جو میں کہ رہی ہوں تو میں اسے قید خانے میں ڈلوا دوں گی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اس عورت کی بات ماننے سے بہتر ہے کہ میں قید خانے میں چلا جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور عورت نے آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈلوا دیا۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قید خانے میں آپ علیہ السلام کو دو قیدیوں نے اپنا اپنا خواب سنایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں تم دونوں کے خواب کی تعبیر بتا سکتا ہوں اور آپ علیہ السلام نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی ( تب تک اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرما دیا تھا ) اس کے بعد خواب کی تعبیر بتائی کہ ایک کو سزائے موت ہوگی اور دوسرا بچ جائے گا اور بادشاہ کا خاص خدمت گار بنے گا۔ پھر اس سے کہا: جب تم بادشاہ کے خدمت گار بن جاؤ تو میرا ذکر کرنا لیکن شیطان نے اُسے بھلا دیا اور آپ علیہ السلام کئی برس تک جیل میں رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں