اتوار، 26 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 11 - Khulasa e Quran para 11


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 11

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کی چار آیتیں پارہ نمبر 10 میں ہیں اور یہ لگاتار چھٹار کوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی کارستانی بیان کی ہے۔ اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے عذر کے بغیر جہاد سے رخصت مانگنے والوں کی سزا کے بارے میں بتایا پھر وہ عذر بتائے جن کی وجہ سے جہاد سے رخصت ہے، جن کو عذر لاحق ہو اُن سے کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ ہاں وہ لوگ جو بلا عذر آپ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ تبوک پر ) نہیں آئے اور عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا۔ وہ نہیں بچ سکیں گے ۔ جب آپ ﷺ لوٹ کر جائیں گے تو یہ منافق طرح طرح کے بہانے بنا ئیں گے ۔ ان سے کہنا بہانے نہ بناؤ۔ ہم تمہارا یقین نہیں کریں گے۔ یہ تمہارے آگے قسم کھا ئیں گے تا کہ آپ ﷺ کو راضی کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوگا۔

رکوع نمبر 2

یہ لگا تار ساتواں رکوع ہے جس میں زیادہ ذکر منافقوں کا ہے۔ رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو زکوۃ وصولنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کے لئے دعا کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ کی دعا سے مسلمانوں کے دلوں کو چین ملتا ہے۔ اس کے بعد منافقوں کی کارستانی بتائی کہ ان لوگوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے مسجد ضرار بنائی ، اس مسجد میں کبھی کھڑے نہیں ہوتا۔

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ وہ مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ، مارتے ہیں اور مرتے ہیں ان کے جان اور مال کواللہ تعالی نے درحقیقت جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے توریت، انجیل اور قرآن میں کامیابی کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سب سے سچا ہے۔ اس کے بعد مؤمنین کی خوبیاں بیان فرمائیں اور فرمایا کہ کافر چاہے تمہارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ مانگیں ۔ پھر مہاجرین اور انصار کی تعریف کی۔ رکوع کے آخر میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مرارة بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توبہ کی قبولیت کی بشارت دی ۔ ( یہ حضرات غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے تھے ) 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہیں اور اپنی جان کو رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ پیاری نہ سمجھیں اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے میں جو بھی جان و مال کی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اُن کے لئے بہترین نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لئے آسانی فرمائی کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے نہ نکلو بلکہ تم میں ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیئے جو دین کی سمجھ (دین کا علم ) حاصل کرے اور تمہاری راہ نمائی کرے۔

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی ۔ اس کے بعد فرمایا: جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے تو کافر کہتے ہیں کہ کس کا ایمان اس سورۃ کی وجہ سے بڑھا ؟ تو مسلمانوں کا اس سورۃ کی وجہ سے ایمان بڑھتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں ( کفر یا نفاق ) کی بیماری ہے اس سورۃ کی وجہ سے وہ اور زیادہ کفر اور نفاق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں مسلمانوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم پر ذرا بھی مشقت نہ پڑے اور چاہتے ہیں کہ تم نیکیوں میں آگے بڑھو۔ وہ مسلمانوں پر بہت زیادہ مہربان ہیں ۔ اب اس کے بعد کا فریا منافق آپ ﷺ سے منہ پھیریں تو ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے لئے کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

 (سورہ تو بہ مکمل ہوئی )

سوره یونس

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتایا کہ مسلمان آپ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور کافر آپ ﷺ کی رسالت پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ تو کھلا جادوگر ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے خالق ہونے ، مالک ہونے اور اپنے رب ہونے ، کائنات کی تخلیق اور اس کا انتظام چلانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ( جگہ کی کمی کی وجہ سے یہاں اتنا ہی بیان کر سکتے ہیں۔ تفصیل آپ قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر میں دیکھیں ) اس کے بعد فرمایا کہ جو آخرت میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ دنیا کی زندگی میں مگن ہیں ۔ دنیا دی زندگی انھیں پسند ہے اور اس پر وہ مطمئن ہو گئے ہیں اور اللہ کی آیتوں سے غافل ہو گئے ہیں اور مؤمنین کو جنت میں داخلے کی بشارت دی اور بتایا کہ اُنکا آپس میں ملتے وقت خوشی سے پہلی گفتگو سلام ہوگا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں انسان کے بارے میں بتایا کہ جب اسے تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے تو لیٹے ، بیٹھے اور کھڑے اللہ کو پکارتا رہتا ہے اور جب اللہ تعالٰی اس کی مصیبت یا تکلیف دور کر دیتا ہے تو وہ ایسا بن جاتا ہے جیسے اسے اللہ تعالی سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ کیوں کہ وہ رسولوں کو اور اللہ تعالی کی نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور یہ کا فر کہتے ہیں کہ کوئی اور قرآن لے آئے یا اسے بدل دیں تو ان سے کہو یہ میرے اختیار میں نہیں ہے اور میں وحی کا تابع ہوں ۔ یہ لوگ اللہ تعالی کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی سے ہماری سفارش کریں گے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے جودہ اللہ تعالی پر باندھتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جب اللہ تعالی انسان کو تکلیف یا مصیبت کے بعد اپنی رحمت سے اسے راحت دیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کام کرتا ہے اور جب دریاؤں میں طوفان میں پھنس جاتے ہیں تو خالص اللہ تعالیٰ کے بندے بن کر اسے پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ بچا لیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر شرک و فساد کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! دنیا میں ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھا لو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں واپس آؤ گے تو اللہ تعالی تمہارے برے اعمال کے مطابق سزا دے گا۔ نیک لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ اُن کے چہرے چمکتے ہوں گے اور برے لوگوں کے چہرے ذلت کی وجہ سے کالے ہوں گے اور وہ دوزخ میں ہوں گے۔ اُس دن وہ لوگ جنہیں وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے ۔ وہ بھی اُن سے منہ پھیر لیں گے اور کافروں کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں اور فاسقوں سے کہو کہ اللہ تعالی ہی تمہیں روزی دیتا ہے۔ اس نے زمین اور آسمان بنائے اور تمہارے کان اور آنکھ کا مالک ہے اور زندہ میں سے مُردے کو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور اللہ تعالی ہی تمہارا سچا رب ہے۔ اب حق جان لینے کے بعد جو اسے نہیں مانے گا تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں فرمائے گا۔ ان سے کہو جن کو تم اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتے ہو، کیا وہ ایسے ہیں کہ تمہیں بنا ئیں اور فنا کریں پھر بنائیں ؟ ان سے کہو کہ اللہ تعالی اکیلا ایسا ہے جو تمہیں بناتا ہے پھر فنا کرے گا اور پھر بنائے گا اور صرف اللہ تعالی ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے اور اس قرآن پاک کی شان ایسی ہے کہ کوئی بھی ایرہ غیرہ اسے نہیں بنا سکتا اور اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو بھی مل سکیں سب کو بلا لو اور صرف ایک سورۃ ہی ایسی بنا لاؤ۔ اگر تم سچے ہو اور تم یقیناً ایسا نہیں کر سکو گے تو ظالموں کا انجام بہت برا ہوگا۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا۔ اب اس کے بعد یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلا دیں تو ان سے کہو تمہارے اعمال تمہارے ساتھ اور میرے اعمال میرے ساتھ ہوں گے ۔ کیا آپ ﷺ بہروں کو سنائیں گے جو نہیں سنتے اور اندھوں کو دکھا ئیں گے جو نہیں دیکھتے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود ( شرک کر کے ) اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا تو کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن کا کچھ حصہ رہے یا اُس سے کچھ کم اور کافر گھاٹے میں رہیں گے اور ہر امت میں اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا اور جب وہ اسے جھٹلاتے ہیں تو فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہر ایک کا دنیا میں ایک مقررہ وقت ہے۔ اس سے نہ ایک سیکنڈ آگے ہوگا نہ پیچھے اور قیامت کے دن مجرموں سے کہا جائے گا۔ اس کی تم جلدی مچاتے تھے تو ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ 

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور بتایا کہ قیامت کے دن یہ کافر اپنے اوپر عذاب کو ٹالنے کے لئے اگر ساری دنیا کے مالک ہوتے تو دے دیتے لیکن اس کے بعد بھی انھیں عذاب سے چھٹکارہ نہیں ملتا اور اللہ کا ہے۔ جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ( قیامت کا) وعدہ سچا ہے ، وہی زندہ کرتا ہے، وہی مارتا ہے، پھر سب اس کی طرف جمع کئے جائیں گے اور اے تمام انسانو! تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف نصیحت ( رسول الله ﷺ اور قرآن پاک کی صورت میں) آگئی ہے اور یہ مؤمنین کے لئے شفاء، ہدایت اور رحمت ہے اور مؤمنین کو اس پر خوش ہونا چاہیئے کیوں کہ یہ ساری دنیا کے مال و دولت سے بہتر ہے۔ ان (کافروں) سے کہو ؛ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا رزق اتارا اور تم نے اس میں کچھ حلال اور کچھ حرام ٹھہرا لئے یہ تم نے اللہ تعالی پر جھوٹ باندھا اور تمہارا حال قیامت میں بہت بُرا ہوگا۔ اللہ تعالی تو اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا: اس دنیا میں تمام انسان جو بھی کام کرتے ہیں وہ سب اللہ تعالی دیکھتا رہتا ہے اور زمین اور آسمان بلکہ کائنات کے ذرے ذرے پر اس کی نظر ہے۔ اور مؤمنین کو نہ تو کچھ غم ہوگا اور نہ ہی کوئی خوف اور دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اُن کے لئے خوش خبری ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی نے رات کو تمہارے آرام کے لئے بنایا اور دن کو روشن بنایا اور یہ کافر کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ نے اپنی اولاد بنائی۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے اور کافر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہ دنیا میں ایک مقررہ وقت تک رہ لیں پھر اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جائیں گے تو عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کی قوم کے بارے میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انھیں سمجھایا تو انھوں نے آپ علیہ السلام کوجھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب لانے کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ڈبو دیا اور آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کوکشتی کے ذریعہ بچا لیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اور مصر والوں کا قصہ بیان کیا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر کو جاری رکھا۔ آپ علیہ السلام کے فرعون اور مصریوں کو دعوت دینے کے بارے میں بتایا ۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور بنی اسرائیل پر ظلم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو آزادی دلائی اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا۔ ڈوبتے ڈوبتے اپنے آخری وقت میں فرعون نے اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قبول نہیں فرمایا اور فرعون کی لاش کو قیامت تک کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا۔ 

رکوع نمبر 15 : 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بنی اسرائیل کو ہم نے عزت دی اور پاک روزی عطا فرمائی لیکن صاف طور سے علم آجانے کے بعد وہ لوگ اختلاف میں پڑگئے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اُن کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ قرآن پاک کے بارے میں کبھی شک نہ کرنا اور اُن کافروں کی طرح نہ ہو جاتا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوںکو جھٹلایا اور نقصان میں پڑ گئے ۔ اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو آتا دیکھ کر تمام لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے عذاب کو ہٹا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کوئی بھی کافر نہ رہے۔ سب اسلام قبول کر لیں، لیکن زبردستی کا اسلام اللہ تعالی نہیں چاہتا۔

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ تمام انسانوں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہوں اور تمہیں بھی اس کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کسی کو تکلیف دینا چاہے تواسے کوئی نہیں روک سکتا اور اگر کسی کا بھلا کرنا چاہے تو کوئی رد نہیں کرسکتا تو جس نے سیدھا اور سچا راستہ ( اسلام) اختیار کیا تو اپنے فائدے کے لئے کیا اور جس نے انکار کیا (یعنی کفرکیا ) تو خود اپنا نقصان کیا۔ 

(سورہ یونس مکمل ) 

( پارہ نمبر 11 مکمل) 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں