اتوار، 26 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 10 - Khulasa e Quran para 10


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 10

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 9 میں ہے۔ اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں فرمایا کہ آپ ( ﷺ) ان کافروں سے کہو کہ اسلام قبول کر لو، اگر انھوں نے اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے اور اگر پچھلے کافروں کی طرح کفر پر ڈٹے رہے تو ان سے لڑو اور اس وقت تک لڑو جب تک روئے زمین سے فساد ختم نہ ہو جائے اور سارے کا سارا دین اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے۔ اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک غزوہ بدر کا ذکر ہے۔ 

رکوع نمبر 2 

اس رکوع میں بھی غزوہ بدر کا ذکر جاری ہے اور مسلمانوں سے فرمایا کہ میدان جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے رہو ۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور آپس میں کسی قسم کا تنازعہ نہ کرو ورنہ دوسرے تم پر حاوی ہو جائیں گے اور شیطان نے کافروں کی نگاہ میں اُن کے کام (جن میں سے ایک بدر میں مسلمانوں پر حملہ ہے ) بھلے کر کے دکھائے اور جب (غزوہ بدر میں ) مسلمانوں نے شدید حملہ کیا تو شیطان اپنی جان بچا کر بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں۔ 

رکوع نمبر 3

اسے رکوع میں منافقوں اور کافروں کے بارے میں بتایا کہ اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو ان سے پہلے کافروں کا ہو چکا ہے اور فرعون کی مثال دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے غرق کر دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمام مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک عہد و معاہدے کے بارے میں ہدایات دیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ کافروں سے مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو اور تیاری کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے (جہاد میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے۔ اس کا پورا بدلہ عطا کیا جائے گا۔ پھر فرمایا: اگر کا فرصلح کرنا چاہیں تو تم ان سے صلح کر لو اور اگر وہ صلح کے بہانے دھو کہ دینا چاہیں گے تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ 

رکوع نمبر 5

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو ۔ اگر تم لوگ صبر سے ڈٹ کر مقابلہ کرو گے تو بیس مسلمان دوسو کافروں پر اور سو مسلمان ایک ہزار کا فروں پر بھاری پڑیں گے ۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے۔ اس لئے سو مسلمان دوسوکا فروں پر اور ایک ہزار مسلمان دو ہزار کافروں کے لئے کافی ہوں گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں احکامات دیئے۔ 

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیدیوں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار کی فضیلتیں بیان فرمائیں اور بتایا کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور کا فرآپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تو جو ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کیلئے ہجرت کی اور وہ جنھوں نے ان کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ کیلئے لڑے تو یہی کامیاب لوگ ہیں اور کافرنا کام ہو گئے ۔ 

(سورہ انفال مکمل)

سوره التوبه

رکوع نمبر 7

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے بیزاری کا اظہار کیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ حرمت کے مہینوں میں کافروں کو مہلت دو ا سکے بعد میدان جنگ میں ان کو جہاں پاؤ قتل کرو ۔ ہاں اگر کوئی کافر ہتھیار رکھ دے تو اس پر حملہ مت کرو اور امان چاہے تو امان دو اور اگر کسی محفوظ جگہ جانا چاہے تو پہنچا دو۔ کیوں کہ یہ نادان ہیں ۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اگر تم پر قابو پائیں گے تو نہ تو رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد و معاہدہ کا ، تو تم ان سے لڑو، کیوں کہ یہ اللہ تعالٰی ، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور جب تم ان سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے ذریعے ان کافروں کو رسوا کرے گا۔ پھر اس کے بعد وہ تو بہ کریں اور اسلام قبول کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ 

9رکوع نمبر 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو ایمان والے آباد کرتے ہیں اور حاجیوں کی خدمت کرنے والے مسلمانوں اور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے والے مسلمانوں میں سے وہ بہتر ہیں جو اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہارے کا فرباپ، کافر بھائی اور کافر بیٹے تمہارے دوست نہیں ہیں اور جو اُن سے دوستی کرے گا وہ ظالم ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اگر تمہارے مسلمان باپ، مسلمان بیٹے، مسلمان بھائی، مسلمان عورتیں اور مسلمان خاندان اور مال و دولت اور پسندیدہ گھر (مکان) اور کاروبار اگر اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ پیارے ہوں اور ان کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے سے رکتے ہو تو اللہ کے حکم کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو بتایا کہ تمہاری زیادہ تعداد فتح کی ضمانت نہیں ہے بلکہ اللہ کی مدد فتح کی ضمانت ہے اور اس کے لئے غزوہ حنین کی مثال دی ۔ اس کے بعد حکم دیا کہ کافروں کو مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہونے دو اور جب تک وہ ایمان نہ لائیں اُن سے لڑتے رہو۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہودی کہتے ہیں: حضرت عزیر علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو اس کی دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا ایک بندہ ہوں۔ اس کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہدایت اور سچے دین پر بھیجا تا کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کردوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء نے اُن کو شرک کی طرف مائل کیا اور عام لوگوں سے سونا اور چاندی وصول کرتے ہیں دوزخ کی آگ میں تپا کر انھیں داغا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ حرمت والے مہینے چار ہیں اور اگر کا فرتم سے ہر وقت لڑنا چاہیں تو ان سے ہر وقت لڑو۔  

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ ہر حال میں دل کی خوشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں لڑنے کے لئے تیار رہو۔ اگرتم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حبیب ﷺ کی مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد ہجرت کے دوران غار ثور کا واقعہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے لڑنے کے واسطے تمہیں نکلنا پڑے گا تو چاہے خوشی خوشی نکلو یا پھر بے دلی کے ساتھ نکلو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنا تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ رکوع کے آخر میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ اگر قریب کا سفر اور مال و دولت ملنے کی امید ہوتی ہے تو آپ ﷺ کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور جب دور کا سفر اور تکلیف کا معاملہ ہو تو قسمیں کھائیں گے کہ ہماری طاقت ہوتی تو ہم ضرور چلتے ۔

رکوع نمبر 13

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ سے رسول اللہ ﷺ کوسمجھایا کہ تمہیں ان منافقوں کو ( غزوۂ تبوک میں ) گھر بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی تھی ۔ ذرا دیکھتے تو یہ منافق کیا کرتے اور ان کا نفاق کھل کر سامنے آجانے دیتے اور منافق ہی تم سے گھر بیٹھنے کی اجازت مانگتے ہیں اور مسلمان تو خوشی خوشی تمہارے ساتھ جاتے ہیں اور ویسے بھی اگر یہ منافق ( غزوہ تبوک پر ) جاتے تو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ منافقوں نے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنا چاہا تھا لیکن ناکام رہے ۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کا حکم ہوتا ہے تو رخصت مانگتے ہیں اور جب مسلمانوں کا فائدہ ہوتا ہے تو انھیں برا لگتا ہے اور جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم بچ گئے اور خوشیاں مناتے پھرتے ہیں۔ رکوع کے آخر تک منافقوں کا ذکر ہے۔ 

رکوع نمبر 14

اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے شروع میں زکوۃ کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا : جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اُن کے لئے دردناک عذاب ہے اور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ مسلمانوں کے سامنے قسم کھاتے ہیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں ۔ جب کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا زیادہ حق ہے کہ انھیں راضی کیا جائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسی سورہ نازل نہ ہو جائے جو اُن کے دلوں کے راز کو کھول دے اور رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہیں کہ ہم تو یونہی مذاق کر رہے تھے ۔ ان سے کہو کیا تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور اس کے رسول ﷺ سے مذاق کرتے ہو ۔ بہانے نہ بناؤ تم اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔

رکوع نمبر 15

یہ لگاتار تیسرا رکوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی چالوں اور اُن کے کردار کے بارے میں بتایا۔ اس رکوع میں بتایا کہ منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں ۔ بے شک منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لئے آگ کے عذاب کا وعدہ ہے۔ اُن کے عمل اکارت گئے۔ دنیا اور آخرت میں یہی لوگ نقصان میں ہیں۔ اس کے بعد قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود ، قوم ابراہیم اور مدین کی بستی پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ اُن کے پاس رسول علیہم السلام روشن نشانیاں لے کر آئے تھے۔ جن کو انھوں نے جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں ہے کہ اُن پر ظلم کرتا بلکہ اُن لوگوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ اس کے بعد مسلمان مرد اور عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک دوسرے کے ہمدرد اور ساتھی ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں۔ ان کے لئے جنت اور اس کے پاکیزہ مکانوں کا وعدہ ہے۔ 

رکوع نمبر :16

لگاتار چوتھے رکوع میں منافقوں کی کارستانی اور انجام اللہ تعالیٰ نے بتایا۔ اس رکوع میں اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ( مسلمانوں کو لے کر ) کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ یہ منافق اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں لیکن در حقیقت یہ اسلام قبول کرنے کے بعد کا فر ہو گئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ اللہ تعالیٰ اگر ہمیں مال و دولت سے نوازے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے لیکن مال و دولت آنے کے بعد یہ کنجوس ہو گئے اور اپنے عہد سے پلٹ اور جو مسلمان اپنی محنت کی کمائی میں سے خیرات کرتے ہیں تو یہ منافق اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہنسی مذاق کی انھیں سزا دے گا۔ اے رسول ! اگر آپ ان منافقوں کے لئے ستر 70 مرتبہ بھی معافی مانگیں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں کرے گا۔ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے منکر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

رکوع نمبر 17 

یہ لگا تار پانچواں رکوع ہے جو منافقوں کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ منافق گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ تبوک میں ) نہیں گئے اور ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ اس سخت گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔ ان سے کہو جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ اگر یہ حقیقت اُن کی سمجھ میں آجاتی تو یہ ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ اب اگر یہ لوگ جہاد پر جانے کی آپ ﷺ سے اجازت مانگیں تو انھیں اجازت نہ دینا۔ ان کی میت پر نماز نہ پڑھانا۔ ان کی قبروں پر کھڑے مت ہونا اور مسلمانوں سے فرمایا: ان منافقوں کے مال و دولت اور اولاد کے زیادہ ہونے پر تعجب نہ کرنا اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں مگن کرنا چاہتا ہے تا کہ کفر پر ہی ان کا دم نکل جائے اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کرنے کی کوئی سورہ (یا آیت) اترتی ہے تو یہ منافق رخصت مانگتے ہیں۔ انھیں یہی پسند ہے کہ عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر اپنے مال اور جان سے اللہ تعالٰی کے لئے جہاد کرتے ہیں اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے نعمتیں تیار کر رکھی ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں۔ 

(پارہ نمبر 10 مکمل)


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں