خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 1
مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
بسم الله الرحمن الرحیم
﷽
1 خلاصۃ القرآن پارہ نمبر
مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سورة الفاتحہ
قرآن پاک کا آغاز و افتتاح اس سورہ سے ہوا ہے۔ اس لئے اس کا نام سورہ الفاتحہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کے کئی نام ہیں ۔ یہ دراصل ایک دعا ہے ۔ جو بندہ اپنے رب (اللہ تعالی) سے کرتا ہے۔ بندہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور اسے تمام عالم کا رب تسلیم کرتا ہے اور دل میں یہ یقین رکھتا ہے کہ میرا رب مجھ پر بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ وہی قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد ما لگتے ہیں۔ اب وہ دعا ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہے کہ " اے اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھا اور سچا راستہ دیکھا اور اُس پر ہمیں چلا۔ اُن لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا ہے اور اُن کے راستے سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔
سوره البقره
رکوع نمبر 1:
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کی دعا کا جواب دیا ہے اور مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائی اور کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندہ کی دعا کے جواب میں فرمایا: یہ قرآن پاک ہر طرح کے شک وشبہ سے بالا تر ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو ہدایت پاؤ گے کیوں کہ یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائی کہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ۔ نماز قائم کرتے ہیں اور میرے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر جو قرآن نازل ہوا اسے حق مانتے ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام پر جو کتا بیں نازل ہوئیں ان پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے عمل کرتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں ڈھیٹ کا فروں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ دنیا میں بدبختی و محرومی اور آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا ہے جو دکھاوے کے لئے ایمان لاتے ہیں اور کافروں سے بھی ملے جلے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کو اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ( نعوذ باللہ ) بے وقوف بنارہے ہیں اور فائدے میں ہیں ۔ حالانکہ اس طرح وہ لوگ دنیا اور آخرت دونوں کا نقصان کرتے ہیں ۔ اس رکوع میں منافقوں کے دوغلے کردار کو اور اُن کے نفاق کو دو واضح مثالوں سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے مومنوں، کا فروں اور منافقوں کا ذکر فرمانے کے بعد تمام انسانوں کو غور فکر کرنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم فرمایا اور بتایا کہ میں نے ہی تمہیں تمہارے آباء و اجداد کو اور پوری کائنات کو پیدا فرمایا ہے اور میں اکیلا ہی اس پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہوں۔ اس کے بعد کافروں سے فرمایا: اگر تمہیں قرآن پاک پر شک ہے تو تم تمام لوگ اور تمہارے جھوٹے خداؤں کے ساتھ مل کر اس قرآن پاک کے جیسی ایک سورہ ہی بنا لاؤ ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم ایسا ہر گز نہیں کر سکو گے اور اب اس کے بعد بھی جو کفر کرے گا تو وہ دوزخ کا ایندھن بنے گا۔ اس کے بعد مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور قرآن کریم پر اعتراض کرنے والوں کے جواب میں فرمایا کہ ہم کسی بھی چیز کی مثال دے سکتے ہیں ۔ ان مثالوں سے مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور کافروں کا شک اور بڑھ جاتا ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا : بھلا انسان اللہ تعالیٰ کا کیسے انکار کر سکتا ہے جب کہ اللہ تعالی نے ہی انہیں بنایا اورزندہ کیا اور پھر مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور سب کو جمع کرے گا۔
رکوع نمبر 4
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کس طرح بنائی ہے، اس کا ذکر فرمایا۔ انسان کوکس طرح پیدا کیا اور اسے اشرف الخلوقات کا درجہ عطا فرمایا، شیطان نے کس طرح انسان سے حسد کیا اور اس کا دشن بن گیا۔ انسان اور شیطان کس طرح دنیا میں آئے اور ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں اور رہیں گے ۔ اسی سلسلے میں حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے بنی اسرائیل ( قوم یہود ) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور وہ عہد بھی یاد دلایا جو بنی اسرائیل نے اللہ تعالی سے کیا تھا کہ تمام انبیائے کرام پر ایمان لائیں گے اور اسی بنیاد پر ان کوحکم دیا کہ اللہ کے رسول ﷺ پر بھی ایمان لاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ اور جان بوجھ کر اپنی کتابوں (توریت اور انجیل ) میں اس آخری رسول ﷺ کے ذکر کو مت چھپاؤ بلکہ اُن پر ایمان لاؤ اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرو زکوۃ دو، اگر تم میں عقل ہے تو تم ضرور یہی کرو گے
رکوع نمبر 6
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے انعامات واحسانات یاد دلائے کہ ہم نے تمہیں فضلیت عطا فرمائی اور فرعون کے مظالم سے نجات دلائی اور بچھڑے کی پوجا کرنے کے باوجود تمہیں معاف کیا تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تمہیں " من و سلوی عطا فرمایا۔ اس کے باوجود تم اتنے بد بخت ہو کہ لگا تار ہماری نافرمانی کرتے رہے۔
رکوع نمبر 7
اس رکوع میں بھی بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اور کس طرح انھوں نے نافرمانیاں کیں، اس کا ذکر ہے اور رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمانیوں میں اتنے بڑھ گئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو نا حق قتل کرنے لگے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بات صاف کر دی کہ تمام انسانوں میں سے صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر، اس کے تمام نبیوں اور رسولوں پر اور آخرت پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق عمل کریں گے ۔ جو لوگ یہ نہیں کریں گے، پھر وہ چاہے یہودی ہوں یا عیسائی یا اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو ماننے والے ہوں وہ نا کام ہو جائیں گے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر اپنے انعامات اور اُن کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں گائے کے ذبیح کا واقعہ بیان فرمایا۔
رکوع نمبر 9
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ذکر کو جاری رکھا۔ رکوع کے شروع میں گائے کے ذبح کا قصہ بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی کیفیت بیان فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے اُن کی ہو گئی تھی ۔ اسے پتھروں کی مثال کے ذریعے سمجھایا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو فرمایا کہ ان یہودیوں کا اعتبار مت کرنا۔ یہ تمہارے ساتھ دھوکہ اور مذاق کرتے ہیں اور آسمانی کتاب میں ملاوٹ کرتے ہیں۔ اُن کا گمان ہے کہ یہودی کچھ ہی دن دوزخ میں رہیں گے۔ پھر ہمیشہ جنت میں رہیں گے ۔ یہ جھوٹا گمان ہے ۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ پر تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لائے گا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرے گا وہ ضرور جنت کا حقدار ہو گا ۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا۔ رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کو وہ عہد یاد دلایا جوانھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، وہ عہد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ، اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں گے اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا سلوک کریں گے لیکن انھوں نے اس کے الٹ کیا۔ بقیہ رکوع میں اسی کا ذکر ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور بنی اسرائیل نے اُن کا انکار کیا اور انھیں جھٹلایا اور آپ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہو گئے ، اس کے بعد اللہ تعالی نے بتایا کہ اب یہ آخری نبی ﷺ آئے ہیں ، ان کے آنے کا بنی اسرائیل (یہودی) بہت ہی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے اور آپ ﷺ کے صدقہ میں جنگ میں اور بھی کئی معاملات میں کامیابی کی دعا مانگتے تھے اور اللہ تعالیٰ انھیں کامیابی عطا فرماتا تھا۔ لیکن جب آپ ﷺ آگئے تو یہی لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہو گئے ۔ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن ہو گئے تھے۔ باقی رکوع میں بنی اسرائیل کی اسی دشمنی اور نا فرمانی کا ذکر ہے۔
رکوع نمبر :12
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آتے ہیں۔ وہ ہمارے دشمن ہیں۔ اگر میکائیل علیہ السلام آتے تو ہم ایمان قبول کر لیتے۔ اسی رکوع میں آگے حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہودیوں کے لگائے گئے جھوٹے الزام کو بھی اللہ تعالیٰ نے جھوٹا ثابت کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ بنی اسرائیل کی آزمائش کے لئے دو فرشتوں کو بھیجا گیا لیکن ان یہودیوں نے ان سے جادو سیکھ کر اپنی آخرت برباد کر لی۔
رکوع نمبر :13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے راعِنَا " ( ہماری رعایت فرمائیے) نہ کہو بلکہ انظرنا " (یعنی ہماری طرف نظر کرم کیجئے ) کہا کرو۔ کیوں کہ یہودی اس لفظ کے بیچ میں ی بڑھا کر راعِينا" ( یعنی اے ہمارے چروا ہے ) جان بوجھ کر کہتے تھے اور مسلمانوں اور تمام لوگوں کو بتایا کہ صرف وہی جنت میں جائے گا جو اللہ پر اور اس کے تمام انبیائے کرام پر ایمان رکھے گا اور پچھلی تمام آسمانی کتابوں کو منسوخ کرنے اور قرآن پاک کے قیامت تک نافذ کرنے کا اعلان فرمایا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات نہ کرو جیسے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کرتے تھے اور فرمایا: اہل کتاب (یعنی یہودیوں اور عیسائیوں) پر حق واضح ہو چکا ہے لیکن محض حسد کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں اور فر مایا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ خیال جھوٹ ہے کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ان سب کا فیصلہ اللہ تعالی قیامت کے روز کر دے گا اور فرمایا: مشرق اور مغرب سب اللہ تعالی کے ہیں ۔ یہ قبلہ کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اسی رکوع میں آگے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: یہودی اور عیسائی اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم اُن کے جیسے نہ ہو جاؤ ۔ ہم نے انھیں کتاب دی مگر اسے سنبھال کر رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ اُس میں ملاوٹ کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو بدلنے لگے۔
رکوع نمبر 15
اس رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلائے اور چونکہ یہودی اور عیسائی دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہیں ۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ ہم نے انھیں دنیا کا امام بنایا اور حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو طواف کرنے والے اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں خانہ کعبہ تعمیر کرنے کا ذکر فرمایا اور اس موقع پر حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو امن کا شہر بنانے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے جو دعا کی تھی اُس کا ذکر فرمایا۔
رکوع نمبر :16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) کو جو چھوڑے گا وہ کوئی کم عقل اور بے وقوف ہی ہوگا اور فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام مسلمان تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے مسلمان ہیں ۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام ( جن کا لقب اسرائیل تھا اور اُن کی نسل بنی اسرائیل کہلائی ) اور آپ علیہ السلام کے بیٹے بھی مسلمان تھے ۔ اس کے بعد فرمایا: یہودی اور عیسائی دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا راستہ صحیح ہے۔ وہ جھوٹے ہیں ۔ صحیح راستہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے اور وہ اسلام ہے اور تمام لوگوں سے کہہ دو کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لائے اور ہم اپنے نبیوں میں فرق نہیں کرتے ۔



Alhamdulillah
جواب دیںحذف کریں